ہندوستانی مسلمان کے احوال اور علاج کو اگر سادہ اور صاف انداز میں لکھا جائے تو بات کچھ یوں بنتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان کے احوال تعلیمی پسماندگی عصری تعلیم میں کمی، ترک تعلیم ، تعلیم ادھوری چھوڑ دینا یا ڈراپ آؤٹ ریٹ زیادہ ہے اور اعلیٰ تعلیم تک کم رسائی ہے۔
معاشی کمزوری جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں ، چھوٹے کاروبار، سرکاری و نجی شعبوں میں کم نمائندگی، سماجی عدم تحفظ خوف، عدم اعتماد، اور بعض علاقوں میں عدم تحفظ کا احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
سیاسی کمزوری مؤثر قیادت کا فقدان اور اجتماعی آواز کی کمزوری ایک تو سیاسی پارٹیاں انہیں صرف اپنا کارندہ سمجھتے ہیں یا نام نہاد بے غیرت مسلمان جو صرف دلالی کر کے اپنا پیٹ بھرنے کو ہی اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں اور قومی سیاست کے ہیرو بننا چاہتے ہیں اگر معدود چند قومی سیاست میں ہیں بھی تو نہ تو ان کا اسلامی تمدن ، تہذیب ، ثقافت ، اور تشخص سے دو فی صد بھی انسیت ہے بلکہ اسلام کے بنیادی ڈھانچے اور اصول کے ناقد ہیں بلکہ بعض بنیادی اصول سے چڑ ہے ۔
داخلی انتشار مسلکی، جماعتی اور ذاتی اختلافات جو اجتماعی قوت کو کمزور کرتے ہیں جس کے ذمہ دار درہم و دینار اور یا ڈالروں ریال کے غلام علماء سوء ہیں جن کے دل و دماغ میں دنیا پیوست ہو چکا ہے علاج اور حل یہ ہیں۔
تعلیم کو اولین ترجیح دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج، بچوں اور بچیوں دونوں پر خاص توجہ۔
معاشی خود کفالت ہنر مندی، چھوٹے کاروبار، اسٹارٹ اپس، اور باہمی تعاون کے ادارے۔
اخلاقی و سماجی اصلاح دیانت، محنت، قانون پسندی اور اچھے کردار کو فروغ دینا۔
اتحاد و تنظیم مسلک سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مسائل پر متحد ہونا۔ قانونی اور آئینی شعور بیدار کرنااپنے حقوق اور فرائض سے واقفیت، جمہوری دائرے میں رہ کر جد وجہد مثبت مکالمہ اور اخلاق کی درستگی شکایت کے بجائے کردار، خدمت اور تعمیری سوچ کے ذریعے اپنی پہچان بنانااور یاد رہے یہ موضوع صرف سماجی نہیں بلکہ قرآنی، نبوی اور اصلاحی موضوع ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے احوال اور علاج کا قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیلی تجزیہ پیش خدمت ہے زوال کی اصل وجہ خود اپنی حالت قرآن کہتا ہے۔
إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِم(الرعد: 11 ) قوموں کے حالات باہر سے نہیں بدلتے، جب تک وہ خود اپنی سوچ، کردار اور ترجیحات نہ بدلیں آج مسلمانوں کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ اپنی کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا ہے، علم سے دوری ہے قرآن کا حکم قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (الزمر: 9) بتاؤ تو کیا علم والے اور بے علم والے برابر ہو سکتے ہیں۔
جب مسلمان علم میں آگے تھے تو قیادت ان کے ہاتھ میں تھی، اور جب علم سے پیچھے ہوئے تو ذلت مسلط ہو گئی۔
باہمی اختلاف اور انتشار کے تعلق سے قرآن کی تنبیہ ہے وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ(الأنفال: 46)
آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی یعنی فرقہ وارانہ اور مسلکی لڑائیاں قوم کی طاقت کو کھا جاتی ہیں۔
ملی احوال کا حدیثی تجزیہ دنیا پرستی اور دین سے کمزوری ہے نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: تم پر قومیں ایسے ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے پر بھوکے لوگ لپکتے ہیں صحابہؓ نے پوچھا: کیا ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ تم کثرت میں ہوگے مگر تمہاری حیثیت سمندر کے جھاگ کی طرح ہوگی (ابوداؤد)
طاقت تعداد میں نہیں، کردار اور مقصد میں ہوتی ہے۔
عمل سے خالی دین یہ جملہ قرآنِ مجید کی آیت سے ماخوذ ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ﴾(سورۃ الصف، آیت 2) اے ایمان والو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟
یعنی انسان زبان سے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے، نصیحتیں دیتا ہے، نیکی کی باتیں کہتا ہے، مگر عملی زندگی میں خود ان پر عمل نہیں کرتا۔ یہ رویہ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔
قول اور عمل میں یکسانیت ہونی چاہیے صرف باتیں کرنا کافی نہیں، عمل ضروری ہے۔
منافقت اور دوغلا پن سے بچنے کی تلقین ہے انسان کو پہلے خود عمل کرنا چاہیے، پھر دوسروں کو کہنا چاہیے۔
اگلی آیت کی طرف اشارہ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی ناپسندیدہ بات ہے کہ تم کہو وہ جو خود نہ کرو۔
یہ آیت خاص طور پر اساتذہ، واعظین، قائدین اور ہر صاحبِ ذمہ داری کے لیے بہت بڑی تنبیہ ہے۔
قرآن یا تو تمہارے حق میں دلیل ہوگا یا تمہارے خلاف (مسلم) یعنی صرف پڑھنا نہیں، عمل ضروری ہے۔
قرآنی علاج قرآن و حدیث کی روشنی میں ایمان اور کردار کی اصلاح اولین ترجیح ہے قَدْ أفلح من زكّاها (سورۃ الشمس: 9) اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت جامع اور بنیادی اصول بیان فرمایا ہے۔
یقیناً وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔
یہاں تزکیۂ نفس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو شرک، کفر، نفاق، حسد، تکبر اور ریا سے پاک کرے ،گناہوں سے بچے اور توبہ و استغفار کو اختیار کرے ایمان، تقویٰ، اخلاص، صبر اور شکر جیسی صفات کو اپنے اندر پیدا کرے ،اپنے نفس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کا تابع بنائے
اسلام میں اصل کامیابی مال، طاقت یا شہرت نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی ہے۔ جو شخص اپنے نفس کی اصلاح کر لیتا ہے، وہی دنیا میں سکون اور آخرت میں فلاح پاتا ہےاسی کے مقابل اگلی آیت میں فرمایا گیا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا اور ناکام ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو آلودہ کر لیا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار اس کے نفس کی اصلاح یا بگاڑ پر ہے۔
جھوٹ، دھوکہ، بے ایمانی، ظلم اور بددیانتی ترک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔
علم کو فرض سمجھنا ضروری ہے طلب العلم فریضة على كل مسلم (ابن ماجہ) یہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم کو شامل ہے۔
اتحاد اور بھائی چارہ قائم کرنا بھی ملت مریضہ کے لیئے نہایت ہی ضروری ہے إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (الحجرات: 10) مسلمان مسلمان کا بھائی ہے
عدل، صبر اور قانون پسندی يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ(النساء: 135) اے ایمان والو عدل و انصاف پر مظبوطی سے جم جانے والے بن جاؤ-
قیادت کی تیاری جب کام نااہلوں کے سپرد ہو جائیں تو قیامت کا انتظار کرو (بخاری)
یعنی صالح، تعلیم یافتہ اور دیانت دار قیادت کے بغیر علاج ،اصلاح ، تعمیر یا ترقی صرف باتیں ہی باتیں ہیں باتوں کا کیا کرتے رہیں ہندوستانی تناظر میں خصوصی نکات مسلمان اپنی شناخت تعلیم، اخلاق اور خدمت سے بنائیں۔
جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت و تدبر ملکی قانون کے دائرے میں رہ کر حقوق کی جدوجہد،تعلیم، میڈیا اور مکالمے میں مؤثر موجودگی،قرآن کی ہدایت ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (فصلت: 34) یعنی برائی کو بھلائی سے دفع کرو۔
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے ، ان فرمودات کے علاوہ ملت مرحومہ کے علاج و اصلاح اور بہتری اور ترقی کی دوسری کوی صورت نہیں ۔
خلاصہ کلام صرف یہی ہے کہ مسلمانوں کا اصل علاج تعلیم، اتحاد، کردار اور محنت میں ہے حالات چاہے جیسے بھی ہوں ، تاریخ گواہ ہے کہ قومیں خود کو بدلیں تو حالات بھی بدلتے ہیں۔












