صادق شروانی
نئی دہلی،، سماج نیوزسروس:عام آدمی پارٹی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی سے جمعیۃ کے دفتر میں ملاقات کی اوران کی ناساز طبیعت پر حال چال دریافت کیا ۔ مولانا سے ممبر پارلیمنٹ کی ملاقات کو اگرچہ ذاتی بتایاگیا لیکن سیاسی حلقوںمیں اس کے کئی مطلب نکالے جارہے ہیں۔ناقدین اور سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا سے ملاقات کرکے عام آدمی پارٹی دہلی کے کارپوریشن انتخابات میں اس نقصان کی بھرپائی کرنا چاہتی ہے جس میں وہ نووارڈوںمیں الیکشن ہار گئی تھی اوران پر کانگریس نے اپنی جیت درج کرائی تھی ۔ جس میں 7وارڈوں پر مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ عام آدمی پارٹی اپنی اس کراری ہار کے پیچھے جمعیۃ علماء ہند کے ایک فرضی لیٹر ہیڈ پر جاری اس اپیل کو مانتی ہے جس میں دہلی میں عام آدمی پارٹی سے بائیکاٹ کرنے کی مبینہ طو رپر اپیل کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوںکو پارٹی سے قریب لانے کیلئے ریاستی صدراورریاستی وزیر گوپال رائے کے ساتھ ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے پہلے سے ہی مولانا ارشدمدنی سے بہت اچھے مراسم بتائے جاتے ہیں۔ہوسکتا ہے اسی لئے یہ ذمہ داری سنجے سنگھ کو سونپی گئی ہو حالانکہ حضرت سے ریاستی وزیر اور دہلی پارٹی انچارج گوپال رائے کی یہ پہلی ملاقات ہوئی ہے ۔ اس ملاقات کو یوں تو رسمی ملاقات کے نام دیاگیا ہے ذرائع کے مطابق سنجے سنگھ حضرت مولانا ارشدمدنی کی طبیعت ناساز ہونے کے بعد ملاقات نہیں کرپائے تھے ان دنوں وہ اترپردیش وغیرہ کی ذمہ داریوں میں مصروف تھے اورجیسے ہی ان کو وقت ملا مولانا کی خیریت جاننے کیلئے پہنچ گئے اس ملاقات کو بھلے ہی حال چال جاننے تک محدود بتایا جارہا ہو لیکن اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ حالیہ دنوں دہلی میں ہوئے کارپوریشن انتخابات میں جمعیۃ کے فرضی لیٹر پیڈ پر مسلمانوں سے ایک اپیل جاری کی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مسلمان عام آدمی پارٹی کوووٹ نہ کریں یہ پارٹی بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور وزیراعلیٰ اروند کجریوال کے آر ایس ایس سے گہری وابستگی ہے ۔ حالانکہ اس طرح کی اپیل صرف جمعیۃ تک محدود نہیں رہی بلکہ اور بھی دیگر مسلم تنظیموں کے فرضی لیٹر پیڈ کو بھی استعمال کیاگیا ۔ اورمسلم علاقوںمیں سوشل میڈیا پر جم کر اس کو وائر ل بھی کیاگیا ۔ جس کے بعد نہ صرف جمنا پاربلکہ تمام دہلی کے مسلمانوںنے کجریوال سے دوری بنالی اور زیادہ ترمسلمانوںکا ووٹ کانگریس کی جھولی میں چلاگیا جس سے عام آدمی پارٹی کو کئی سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور اس کا اثر تمام دہلی پر پڑا وہ الگ با ت ہے کہ اس کے باوجود کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی اور میئر بھی اسی پارٹی کا ہوگا لیکن جو اندازہ او ردعوے وزیراعلیٰ کجریوال کی جانب سے کئے گئے تھے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کومحض 20سے 30سیٹیںملیں گی جبکہ کانگریس کا سوپڑا صاف رہے گا ۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کجریوال کو 134سیٹوںپر محدود کرنے کا ذمہ مسلمانوںکو مانا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مولانا ارشد مدنی سے سنجے سنگھ کی یہ کوئی پہلی ملاقات ہیں ہے وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں چونکہ ابھی حالیہ دنوں عام آدمی پارٹی کی مسلم حلقوںمیںشکست ہوئی ہے اس لئے اس پر لوگوں کی نگاہیں اورتوجہ مرکوز ہیں۔ واضح رہے کہ جب مہاراشٹر میں کانگریس اور شیوسینا کے اتحاد سے حکومت وجودمیں آئی تھی اس وقت بھی مولانا ارشد مدنی کے فرضی دستخط سے تیار کیاگیا ایک لیٹر جاری کیاگیا تھا جس میں کانگریس کو نصیحت دی گئی تھی کہ وہ شیوسینا کے ساتھ اتحادنہ کرے۔ یہ لیٹر اس وقت فرضی ثابت ہوا جب اس میں جمعیۃ علماء ہند کا ریفرنس نمبر نہیں پایاگیا۔ بتا یا جاتا ہے کہ ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے لوک سبھا انتخابات 2024کے مد نظر بات کی ہے اورمسلمانوں کی حمایت کی اپیل بھی کی ہے۔ اس موقع پر دہلی ویمن کمیشن کی ممبر اورنومنتخب کونسلر ساریکا چودھری بھی ساتھ میں تھیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اتفاق ہے جس وقت ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ اور گوپال را ئے حضرت سے ملنے کیلئے جمعیۃ کی سیڑھیاں چڑ ھ رہے تھے تبھی نومنتخب کونسلر آل محمد اقبال اپنی تاریخی جیت پر مولانا کا منھ میٹھا کرانے کے بعد واپس جارہے تھے تبھی سیڑھیوں پر سنجے سنگھ او رآل محمد کا سامنا ہوا جس کے بعد آل محمد بھی حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب ملاقات کے دوران ساتھ موجود تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ آل محمد اقبال نے ایک ہفتہ قبل مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی اوروہ گزشتہ روز مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کرنے کیلئے جمعیۃ پہنچے تھے۔












