شیو سینا کے ایم پی سنجے راوت نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ملک میں فسادات کی منصوبہ بندی اور اس کی سرپرستی کر رہی ہے اور اس نے پورے ہندوستان میں اس طرح کے فسادات کو بھڑکانے کے لیے ایک ونگ بھی قائم کیا ہے۔ (INDANEXPRES) کی رپورٹ کے مطابق راوت نے ممبئی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک میں 2024 تک فسادات کرانے کی سازش کی جارہی ہے، جب عام انتخابات ہوں گے، اور فسادات کا بہانہ بنا کر انتخابات کو ملتوی کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ”سب جانتے ہیں کہ فسادی کون ہیں اور ملک میں فسادات کے پیچھے کون ہے۔ کل ہبلی میں ہونے والے فسادات کی سرپرستی کس نے کی؟ ہاوڑہ میں فسادات کون بھڑکا رہا ہے؟ بہار اورمہاراشٹر میں فسادات کون بھڑکا رہا ہے؟ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک نیا ونگ بنایا ہے۔ اس ونگ کے ذریعے فسادات کرائے گئے۔ ان کی پالیسی 2024 کے انتخابات سے پہلے ملک میں فسادات شروع کرنے اور پھر انتخابات میں پولرائزیشن کے ذریعہ فائدہ اٹھانے یا انتخاب ملتوی کرنے کی نظر آتی ہے۔
سنجے راوت کا یہ بیان اس لئے تو اہم ہوسکتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار یہ بات کہی ہوگی ،یا پھر پہلی بار انہیں ایسا ہوتا نظر آیا ہوگا۔لیکن سچ یہ ہے کہ بی جے پی کی اصل قوت ہی فسادات برپا کرنے والا ونگ ہے۔سنجے راوت جیسے شخص کو بھی ابھی تک یہ نظر نہیں آ رہا ہے کہ بجرنگ دل اور ہندو مہا سبھا کے لوگ فسادات کے لئے ہی توزمین ہموار کرتے ہیںاور پھر اس نفرت کی زمین پر فصل لگانے اور کاٹنے کے لئے بھی ان کی الگ الگ ٹیم موجود ہے۔ابھی بہار اور بنگال میں ہونے والے فسادات کے عینی شاہدین نے بتایا کہ جلوس پر پتھر پھینکنے سے لے کر آتشزنی اور توڑ پھوڑ و لوٹ میں شامل زیادہ تر چہرے شناسا نہیں تھے ،ان کے خدوخال بھی الگ تھے اور زبان بھی اجنبی تھی۔
گجرات فساد کے بعد اس نئے پیٹرن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر ایف آئی آر رجسٹرڈ ہوا بھی تو وہ نامعلوم افراد کے نام ہوگا اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ کی عمر بھی طویل نہیں ہوتی۔بہر حال اگر سنجے راوت نے اتنا بھی کہہ دیا یہ بھی بڑی بات ہے۔ویسے بھی سنجے راوت سے زیادہ بی جے پی کو سمجھنے کا اعزاز بھی کسی اور کو کہاں حاصل ہے۔بی جے پی اورشیوسینا ایک ساتھ ایک طویل عدصہ تک کام کر چکے ہیں اور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے وقت بھی بی جے پی اور شیو سینا ایک ہی پیج پر تھے اورسنجے راوت اس دور میں بھی سامنا میں ہی تھے۔لیکن کبھی ان کے قلم نے سچائی لکھنے کی جرآت نہیں کی۔ابھی بھی بی جے پی کے فساد ونگ کوسنجے راوت نے اس لئے دیکھ لیا کہ اب بی جے پی نے شیو سینا کو نمٹا دینے کا قطعی ارادہ کر لیا ہے اور شیو سینا کے چیف اودھو ٹھاکرے سے زیادہ بی جے پی کو سنجے راوت سے پرخاش ہے کیونکہ مہا وکاس اگھاڑی بنوانے والوں میں شرد پوار نے اگر کانگریس کو اس کے لئے رام کیا تو شیو سینا کو کانگریس کے ساتھ محاذبنانے کے لئے سنجے راوت نے ہی تیار کیا تھا۔اور ابھی تک وہ کانگریس اور شیو سینا محاذ کی سب سے اہم کڑی ہیں۔
لیکن اب سنجے راوت کو شرد پوار اور اجیت پوار کے نئے اسٹینڈ کے مد نظر اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ممکن ہے شرد پوار کی اڈانی دوستی یا پھر یہ کہیں کہ کارپوریٹ دوستی کی گہرائی کوسنجے راوت پہلے سے جانتے ہوں اور شرد پوار کے یو ٹرن کو وہ معمول کی بات سمجھیں۔ لیکن انہیں یہ تو دیکھنا ہی ہوگا کہ اب ان حالات میں جب 2024 کے عام انتخاب کے لئے راہل گاندھی کے ذریعہ کھڑے کئے گئے اڈانی مدعے اور سرکار کے ذریعہ تمام سرکاری ایجنسیوں کے ناجائز استعمال کے مدعے کو ان کی پارٹی بھی اہم سمجھتی ہے یا شرد پوار کی طرح بے روزگاری ،مہنگائی ،اور کسانوں کی بدحالی کے مسائل کو لے کر وہ 2024کے عام انتخاب میں جانا چاہیںگے۔












