عامر سلیم خان
نئی دہلی 6 دسمبر، سماج نیوز سروس: 30 سال قبل آج ہی کے دن 6 دسمبر 1992 کو اجودھیا میں واقع بابری مسجد کارسیوکروں کے ذریعہ دن کے اجالے میں شہید کردی گئی تھی۔ نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک مقدمہ چلتا رہا اور اخیر میں عدالت نے یہ مانتے ہوئے بھی کہ مسجد کی شہادت بہت بڑا جرم ہو، کسی کو سزا نہیں ملی اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس جگہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ ہوا جو زیر تعمیر ہے۔ مگر تین دہائی قبل ہوئے اس سانحہ کو آج بھی دیش کے انصاف پسند لوگ نہیں بھولے ہیں۔ وہ آج تک مسلسل اس دن کو احتجاجاً کالے دن کے طو رپر احتجاج کرتے آرہے ہیں۔ لوک راج سنگٹھن نامی سماجی تنظیم نے ایک بار پھر متعدد سماجی، سیاسی اور ملی تنظیموں کے اشتراک سے یہاں نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج درج کرایا۔شرکاءنے کہا کہ یہ احتجاجی میٹنگ ہمیں فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کی کوششوں کےخلاف منعقد کی گئی ہے۔
میٹنگ کے مرکزی بینر پر نعرہ درج تھا”ریاستی فرقہ وارانہ تشدد اور ریاستی دہشت گردی کےخلاف ہماری جدو جہد جاری ہے! ایک پر حملہ، سب پر حملہ! “۔ بینرز جن پر مزید نعرے درج تھے ”ریاستی فرقہ وارانہ تشدد اور ریاستی دہشت گردی ختم کرو!!مجرموں کو سزا دو! لوک راج سنگٹھن، کمیونسٹ غدر پارٹی آف انڈیا، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا، سی پی آئی (ایم ایل) ،نیو پرولیٹرین، ایسوسی ایشن فار رپروٹیکشن آف سول رائٹس، سٹیزن فار ڈیموکریسی، ہند نوجوان ایکتا سبھا، جماعت اسلامی ہند، لوک پکشا، مزدور ایکتا کمیٹی، پوروگامی مہیلا سنگٹھن، دی سکھ فورم، اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا، آل انڈیا مسلم مجلس، نیو ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، سماجی چیتنا منچ، انقلابی مزدور کیندر، اے آئی ایف ٹی یو(نیو) اور ویمنس انڈیا موومنٹ نہ اس میٹنگ کا اہتمام کیاتھا۔ لوک راج سنگٹھن کی سچریتا نے نظامت کرتے ہوئے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ اتنے پرانے معاملہ کو بھول جائیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب ریاست بار بار اس طرح منظم فرقہ وارانہ تشدد کرتی ہے تو ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں؟۔
میٹنگ کو لوک راج سنگٹھن کے صدر ایس۔ راگھون، ایس ڈی پی آئی کے نائب صدر محمد شفیع، ڈبلیو پی آئی کے صدر ایس کیو آر الیاس، کمیونسٹ غدرپارٹی آف انڈیا کے برجو نائک، جماعت اسلامی ہند کے انعام الرحمان، لوک پکشا کے کے۔ سنگھ، سماجی چیتنا منچ کے ڈاکٹر انور اسلام، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے ایڈوکیٹ سیف الاسلام نے خطاب کیا۔علاوہ ازیں اے آئی ایف ٹی یو (نیو) کے پی کے ساہی، نیو ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے ایڈوکیٹ ارون مانجھی اور قادری ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ کے اکرم قادری اور مزدور ایکتا کمیٹی کے سنتوش کمار بھی احتجاجی میٹنگ میں موجود تھے۔ایس راگھون نے کہا کہ اس وقت کی کانگریس کی مرکزی سرکار اور بی جے پی کی زیرقیادت یوپی حکومت دونوں ہی انہدام کی قصوروار تھیں۔ کانگریس پارٹی، بی جے پی اور شیو سینا انہدام کے بعد 1992-1993 میں ممبئی فرقہ وارانہ ہلاکتوںکی قصوروار ہیں۔ بھارتی ایگزیکیوٹیو، مقننہ اور عدلیہ سبھی نے اپنے لوگوں کےخلاف ہونےوالے گھناو¿نے جرائم کو چھپانے اور مجرموں کو سزا دینے میں ملساز باز کی ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے انعام الرحمن نے کہا کہ 30 سال پہلے لگایا گیا بابری مسجد پر شہادت کاداغ آسانی سے نہیں مٹایا جاسکتا۔ بابری مسجد انہدام نے اس جھوٹ کو بھی خاک میں ملا دیا کہ بھارتی ریاست سیکولر ہے۔ یہاں تک کہ ریاستی اداروں کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ انہدام غیر قانونی تھا، اس کو منظم کرنے والوں کو وزارتی عہدوں سے نوازا گیا۔ ڈبلیو پی آئی کے ایس کیو آر الیاس نے فرقہ وارانہ منافرت پر مبنی چل رہی مہم کو یاد کیا جو بابری مسجد کے انہدام کےلئے میدان تیار کرنے کیلئے پورے ملک میں شروع کی گئی تھی۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے مسجد انہدام کو مجرمانہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بھی انصاف فراہم نہیں کیا۔کمیونسٹ غدر پارٹی آف انڈیا کے

برجو نائک نے الزام لگایا کہ بھارتی ریاست فرقہ پرست ہے۔ یہ اس حقیقت سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ریاست اور مرکز میں اقتدار میں رہتے ہوئے سرفہرست دو سیاسی جماعتوں نے انہدام کی اجازت دی۔ سپریم کورٹ نے مسمار کی گئی مسجد پر مندر بنانے کا حکم دیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی نائب صدرمحمد شفیع نے کہا کہ ہم نے 30 سال تک انصاف کا انتظار کیا لیکن لاحاصل۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام نہ صرف مسلمانوں پر حملہ بلکہ عوام اور ہماری جمہوریت پر حملہ تھا۔ عوام کے مسائل روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کے ہیں اور ملک پر حکمرانی کرنےوالوں کو ان مسائل پر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ہر سال باقاعدگی سے ان احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے پر لوک راج سنگٹھن کی تعریف کی۔کے کے سنگھ نے کہا کہ صرف اقلیتوں پر ہی نہیں بلکہ تمام بھارتیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔اجارہ دار کمپنیاں اکثریتی طبقے کے محنت کشوں کا استحصال کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا فرقہ وارانہ حملوں کو تبھی روکا جا سکتا ہے جب سماجی کارکن اور محنتی لوگ حکمران بنیں۔سماجی چیتنا منچ کے ڈاکٹر انور اسلام نے عوام کےخلاف ہونےوالے گھناو¿نے جرائم پر روشنی ڈالی اور کہا کہ حالات بدلنے کیلئے مزدوروں اور تمام مظلوموں کو متحد ہوناپڑے گا۔انقلابی مزدور کیندر کے کامریڈ منا پرساد نے کہا کہ ہمیں اپنا احتجاج میٹنگ ہال میں بھی کرنا پڑے گا کیونکہ ہمیں جنتر منتر جیسے عوامی احتجاجی مقامات پر جگہ نہیں دی جارہی ہے۔












