• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

عوام کو دینی ماخذوں سے دور رکھنے کی ذہنیت!

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 16, 2023
0 0
A A
عوام کو دینی ماخذوں سے دور رکھنے کی ذہنیت!
Share on FacebookShare on Twitter

انسانیت کی ہدایت کے لئے اللہ رب العزت نے دو سلسلے جاری فرمائے؛ ایک تو انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ جاری فرمایا اور دوسرے اپنی کتابوں اور صحیفوں کو ان پر نازل فرمایا۔ انبیاء کرام علیہم السلام پر یہ ذمے داری رہی کہ وہ کتاب الٰہی کی روشنی میں لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں، انہیں احکام خداوندی سے روشناس کرائیں اورخود بھی ان نازل شدہ احکام پر منشائے الٰہی کے مطابق چل کر لوگوں کے لئے عملی نمونہ پیش کریں۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی رحلت کے بعد یہ ذمے داری پوری طرح سے علماء امت پر آجاتی ۔ یہی سلسلہ تقریباً سبھی امتوں میں رہا۔ انبیاء کرام علیہم السلام تک تو مذکورہ تمام ذمے داریاں اور دین کی تمام باتیں اپنی اصلی جگہ یا حالت پر رہتیں لیکن ان کی رحلت کے بعد اکثر ایسا ہوتا کہ اہل علم کا ایک بڑا طبقہ کتاب یا صحیفہ الٰہی پر قابض ہوکر بیٹھ جاتا، عوام سے اللہ کے احکام کو چھپاتا حتیٰ کہ چند پیسوں کی خاطر ان میں تحریفیں کرتا اور عوام کتاب یا صحیفہ الٰہی سے کٹ جانے یا نابلد رہ جانے کی وجہ سے ان کی ہر تحریف کو تسلیم بھی کرلیتی۔ اس طرح دین اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہ جاتا تھا۔ اس صورتحال کی قرآن کریم نے ان الفاظ میں عکاسی کی ہے: (مفہوم) : ’’اور اللہ تعالیٰ نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کروگے اور اسے چھپاؤگے نہیں ، تو پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈالا، سو کتنا برا کاروبار ہے جو یہ لوگ کررہے ہیں۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۷)۔
ایسے عالموںپر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں لعنت کی ہے: (مفہوم): ’’جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایات کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے صاف صاف بیان کرچکے ہیں ،تو یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والوں بھی لعنت کرتے ہیں۔‘‘ (البقرہ: ۱۵۹)۔
مذکورہ عوامل ہی کی وجہ سے جب رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن کا نزول ہوا تو اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کی ذمے داری خود اپنے اوپر لے لی اور ایسے اسبا ب پیدا فرمائے کہ اسے تحریفات سے بالکل محفوظ کردیا۔ ارشاد ربانی ہے: (مفہوم): ’’ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘ (الحجر: ۹)۔ اس طرح قرآن کے الفاظ کی حفاظت تو یقینی طور پر ہوگئی لیکن ان کی معنوی تحریف کی گنجائش بہرحال باقی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی انتظام فرمایا کہ ہر دور میں حق پرست علماء کی ایسی جماعت موجود رہی جس نے قرآن کی معنوی تحریف پر اپنی نگاہیں رکھیں، چنانچہ جب بھی کوئی مبُتدِع قرآن کے الفاظ کی معنوی تحریف کرنے کی کوشش کرتا ہے تو حق پرست علماء اس کا تعاقب کرتے ہیں اور اسے حق کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ احادیث اور سنن نبویؐ میں بھی جب کچھ فتنہ پردازوں نے اپنی موضوعات کے ذریعے ملاوٹ اور چھیڑچھاڑ کرنے کی کوشش کی تو اللہ رب العزت نے مخلص محدثین کی ایک جماعت کو کھڑا کیا، جنہوں نے نہ صرف احادیث کو جمع کیا بلکہ راویوں کے حالات زندگی مرتب کئے، ان کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کو واضح کیا اور احادیث کی چھان پھٹک کے ایسے اصول مرتب کئے جن کی بنیاد پر خبرمتواتر اور خبر آحاد نیز مقبول یعنی صحیح و حَسَن اور مردود یعنی ضعیف و موضوع روایات کو آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے۔ اس طرح احادیث و سنن کو بھی اللہ تعالیٰ نے محفوظ کردیا۔
اب بگاڑ کی ایک تیسری صورت ہے کہ کتاب الٰہی اور سنن نبویؐ کو عوام تک پہنچانے کے بجائے ، ان سے روکا جائے۔یہ بھی کتمان علم کی ہی ایک صورت ہے۔ قرآن و احادیث کے عربی میں ہونے کی وجہ سے عجمیوں کی رسائی ویسے بھی ان کے الفاظ تک ہی محدود ہے، الا ماشاء اللہ! چنانچہ جب کچھ مخلص علماء دین کو اس کی فکر ہوئی کہ قرآن و احادیث کی تعلیمات کو عوام تک کیسے پہنچایا جائے تو وہ ان کے ترجمے اور تفسیر کی طرف متوجہ ہوئے۔ لیکن علماء کے ایک طبقے کی طرف سے ان کی زبردست مخالفت ہوئی حالانکہ ان کے سامنے یہ حقیقت ضرو ررہی ہوگی کہ اللہ رب العزت نے جس نبی کو بھی دنیا میں بھیجا ان کی قوم کی زبان میں ہی بھیجا۔ ارشاد ربانی ہے: (مفہوم): ’’ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر خود اس کی قوم کی زبان میںتاکہ وہ ان کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کرسکے۔ پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے، وہ غلبہ اور حکمت والا ہے۔‘‘(سورۃ ابراہیم: ۴)۔ رسول پاک ﷺ چونکہ عربی تھے اور ان کے اولین مخاطب بھی عربی تھے، اس لئے قرآن عربی زبان میں نازل ہوا لیکن آپؐ کی رسالت چونکہ عالمی ہے تو دنیا کی ہر قوم تک ان کی زبان میں آپؐ کی تعلیمات کو پہنچانا ، علماء امت کی ذمے داری ہے ۔ لیکن ان سب کے باوجود قرآن کے ترجمے کی بھی اسی طرح مخالفت کی گئی جیسے تورات و انجیل کے ترجمے کی کی گئی ۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحبؒ (متوفی ۱۹۶۱ء) اپنی تصنیف ’’قدیم اردو‘‘ میں باب ’’پرانی اردو میں قرآن شریف کے ترجمے اور تفسیریں‘‘ کے تحت لکھتے ہیں: ’’آسمانی صحیفوں کے ترجمے کی مخالفت تقریباً ہر ملک اور ہر قوم میں کی گئی ہے اور یہ مخالفت ہمیشہ علمائے دین کی طرف سے ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے کو علوم دینیہ کا خاص ماہر اور اسرار الٰہی کا وارث خیال کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ یہ باتیں عام ہوجائیں، عام ہوئیں تو لوگ ایک حد تک ان بزرگوں سے بے نیاز ہوجائیں گے اور اس سے ان کی بڑائی اور فضیلت میں فرق آجائے گا۔ بعض اوقات مخالفت اس لئے بھی کی گئی کہ ترجمے اور تفسیریں ان کے منشاء کے خلاف تھیںاور ایسے مترجمین اور مفسرین کو تکلیفیں اور عقوبتیں پہنچائی گئی۔ یہ روش کسی خاص ملک یا قوم سے مخصوص نہ تھی بلکہ ہر جگہ پائی جاتی ہے۔‘‘ ( مولوی ڈاکٹر عبدالحقؒ، قدیم اردو، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، ۱۹۶۱ء، صفحہ ۱۱۸)۔
افسوس کہ یہ ذہنیت آج بھی موجود ہے۔ قرآن پاک اور کتب احادیث کے ترجمے کو تو لوگ روک نہیں پائے لیکن آج بھی بعض روایتی فکر رکھنے والے علماء برملا یہ کہتے سنے جاتے ہیںکہ تراجم قرآن اور کتب احادیث کو از خود مت پڑھو، اس سے گمراہ ہونے کا خدشہ ہے۔ نعوذ باللہ! قرآن مجید اور احادیث نبویہ ؐ جو لوگوں کی عمومی ہدایت کا ذریعہ ہیں انہیں گویا گمراہی کا ذریعہ بتاکر ان سے روکا جاتا ہے۔ باوجود اس روک ٹوک کے اگر کوئی شخص اپنی کاوشوں سے قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے علم کو نہ ہی تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ علم کتابوں سے نہیں آتا بلکہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے۔ گویا ایک مخصوص طرز تعلیم سے ہی علم حاصل ہوتا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کہ علم سینہ بہ سینہ بھی منتقل ہوتا ہے لیکن کتابوں کا انکار اور دین کے بنیادی ماخذوں (Sources)سے لوگوں کو خوف زدہ اور دور کرنا کتنا بڑا ظلم ہے، اس کا احساس ایسے لوگوں کو نہیں جو ایسی فکر کے داعی ہیں۔ایسے لوگ اپنی اہمیت بنائے رکھنے کے لئے ہی ایسا کرتے ہیں جیساکہ مولوی عبدالحق صاحبؒ نے فرمایا۔ استاد کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن علم کے دوسرے ذرائع کا انکار کہاں تک درست ہے؟ پھر یہ سوچ بھی کہ دین کی صحیح سمجھ صرف ہمارے پاس ہے اور ہم ہی لوگوں کو ہدایت دے سکتے ہیں جب کہ ان کی یادداشت اور فہم کی بھی کچھ حدیں ہیں۔ اس بات کا پورا امکان ہے کہ ایک شخص اپنے محفوظ کردہ علم کو جس شخص تک پہنچائے، وہ اس سے زیادہ فقیہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا بھی ارشاد ہے: (مفہوم): ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش خرم رکھے جس نے میرا کلام سنا ، پھر اسے (دوسروں تک) پہنچا دیا۔ بعض لوگوں کے پاس فقہ کی بات ہوتی ہے اور وہ خود فقیہ نہیں ہوتے۔ بعض لوگ فقہ کی بات اپنے سے زیادہ فقیہ آدمی تک پہنچا دیتے ہیں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث ۲۳۰، بروایت زید بن ثابتؓ)۔
اسی لئے ہم دنیادار علم والے بھی اپنے طلباء کو علم منتقل کرنے کے بعد انہیں یہ ہدایت ضرور دیتے ہیں کہ اصل ماخذوں (Sources) کو خود سے ضرور دیکھو، اس کے پیچھے یہ سوچ ہوتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسے نکات (Points) تم پر واضح ہوں جو ہم تم پر واضح نہیں کرسکے۔ لیکن اس کے برعکس مدارس میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اکابر کی فکر کو من و عن تسلیم کرلو اور اس پر چوں و چرا نہ کرو گویا فہم اکابر پر ختم ہوچکی ہے اور سمجھ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔جب مدارس میں یہ صورتحال ہے تو آزاد مطالعہ قرآن و احادیث کی ایسے تنگ نظر مسلکی علماء کیسے اجازت دے سکتے ہیں ؟ دراصل انہیں ڈر ہوتاہے کہ کہیں ان کی پول نہ کھل جائے، اپنے مسلک و فکر پر برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے جن باتوں کو عوام سے چھپایا ہوا ہے کہیں وہ ان کے سامنے نہ آجائیں، پھر لوگ ان سے سوالات نہ کرنے لگیں یا ان کے مسلک سے توبہ نہ کرلیں! انہیں دراصل لوگوں کے دین اور ایمان کی فکر نہیں بلکہ اپنے مسلک کی فکر ہے، الا ماشاء اللہ!
جاننا چاہیے کہ کتابیں امین ہوتی ہیں اور علم کو بلا کم و کاست اگلی نسل کو منتقل کردیتی ہیں اور ہدایت و صحیح سمجھ دینا تو اللہ رب العزت ہی کا کام ہے۔ قرآن و حدیث سے گمراہ صرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دلوں میں کجی ہو۔ جب کوئی شخص صدق نیت سے اور ہدایت کی طلب میں قرآن مجید و کتب احادیث کو کھولتا ہے تو اللہ سبحانہ تعالیٰ اسے ہدایت ضرور بالضرور دیتے ہیں۔ ہدایت کے لئے اصل چیز طلب صادق اور اخلاص نیت ہے۔ اگر صدق نیت نہ ہو تو اہل مدارس کے بھی گمراہ ہونے کے اتنے ہی امکانات ہیں جتنے آزاد مطالعہ کرنے والے عصری علوم سے وابستہ افراد کے۔
پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ایک عام آدمی تراجم قرآن و احادیث بھی تو ان کے مخلص اکابر کا ہی پڑھ رہا ہوتا ہے جنہوں نے ترجمہ صرف اسی نیت سے کیا تھا کہ احکام الٰہی اور سنن نبویؐ عام لوگوں تک پہنچ سکے۔ شیخ الہند مولوی محمود الحسن دیوبندیؒ (متوفی ۱۹۲۰ء)نے اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں یہ تحریر کیا ہے: ’’حضرات علماء نے عوام کی بہبودی کی غرض سے جیسے سہل اور آسان متعدد ترجمے شائع فرمادئے ہیں ایسے ہی اس کی بھی حاجت ہے کہ علی العموم مسلمانوں کو ان ترجموں کے سیکھنے اور ان کے سمجھنے کی طرف رغبت بھی دلائی جائے۔ علمائے کرام اہل اسلام کو خاص طور سے ترجموں کے سمجھنے اور پڑھنے کی ضرورت اور اس کی منفعت دل نشیں کرنے میں کوتاہی نہ فرمائیں ۔ بلکہ ترجمہ کی تعلیم کے لئے ایسے سلسلے بھی قائم فرمادیں کہ جو چاہے بسہولت اپنی حالت کے مناسب اور فرصت کے موافق حاصل کرسکے۔واللہ الموفق والمعین۔(مقدمہ تفسیر عثمانیؒ، عالمین پبلیکیشنز پریس، لاہور، مطبوعہ ۱۹۷۹ء)۔
اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فکر کی کہ قرآن و احادیث کے عام ہونے سے لوگوں کی گمراہی کا خدشہ ہے، علماء کی طرف سے مذمت ہو اور پڑھے لکھے غیر عربی داں لوگوں کو ان کے تراجم کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ وہ بھی احکام الٰہیہ اور سنن نبویہؐ سے واقف ہوں۔ مخلص اکابر علماء دین نے عوام کے استفادے کے لئے ترجمے ، شروحات و تفسیروں کے سلسلے کی جو کاوشیں کی ہیں ان سے استفادہ نہ کرنا کفران نعمت ہے۔ الحمد للہ اب اردو ، ہندی اور انگریزی بلکہ دنیا کی اکثر زبانوں میں قرآن مجید و کتب احادیث کے تراجم موجود ہیں بلکہ اصول حدیث، فقہ ، اصول فقہ، اسلامی تاریخ و دیگر ضروری علوم پر بھی مختلف زبانوں میں کتابیں دستیاب ہیں۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل چیز احکام الٰہیہ اور سنن نبویہؐ سے واقف ہونا ہے خواہ کسی زبان میں ہو۔ اگر عربی سے انسان واقف ہو تو یہ اچھی بات ہے بلکہ اس کو سیکھنے کی ترغیب بھی دینی چاہیے لیکن عربی زبان نہ جاننے والوں کے لئے مخلص علمائے کرام نے جو کاوشیں کی ہیں ان سے انہیں استفادہ کرنے کی ترغیب دینی چاہیے، لوگوں کو ان سے استفادہ کرنے سے روکنا یا ان کی حوصلہ شکنی کرنا، ان مخلص علماء کی کاوشوں کو کالعدم قرار دینے کے مترادف اور قابل غور و جائزہ ہے۔ یہ فکر رکھنا کہ صد فیصد لوگ لازمی طور پر عربی سے واقف ہوں یا مروجہ مدارس سے ہی علم حاصل کریں جب ہی وہ علم والے کہلاسکتے ہیں، ایک عجیب سوچ ہے جسے کسی بھی طرح پریکٹیکل نہیں کہا جاسکتا۔ عملی نقطہ نظر سے یہ ایک غیرحقیقت پسندانہ سوچ ہے۔
احقر ہمیشہ سے اس فکر کا داعی رہا ہے کہ عصری علوم سے وابستہ یا فارغ لوگ دین کے ان ماخذوں سے براہ راست استفادہ کریں جن کا ترجمہ و تفسیر اہل حق علماء نے کردیا ہے۔ صرف اپنی نیت کو خالص رکھیں؛ ہدایت کی طلب، علم پر عمل اور اللہ کی رضا پیش نظر ہوتو آپ کو ہدایت ضرور بالضرور ملے گی اور اللہ پاک آپ کو ایسی سمجھ عطا فرمائیں گے کہ مروجہ اداروں کے فارغین بھی تعجب کریں گے کہ اس شخص کو آخر یہ باتیں کیسے سمجھ میں آرہی ہیں؟ یہ باتیں اتنے یقین سے احقر اس لئے کہہ رہا ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: (مفہوم): ’’جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیںہم انہیںاپنی راہیں ضرور دکھائیں گے۔‘‘(العنکبوت: ۶۹)۔ تو جو لوگ بھی حصول علم کی راہ میں کاوشیں اور مجاہدے کریں گے اللہ تعالیٰ انہیں علم و ہدایت ضرور دے گا شرط یہ ہے کہ ان کی نیتوں میں خلوص ہو۔ دراصل اللہ تعالیٰ ہی علم و ہدایت کا اصل مالک ہے ورنہ مذکورہ ذہنیت والا ایک مخصوص طبقہ تو مجھ جیسے بہتوں کو علم و ہدایت سے محروم ہی کردیتا ! اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت اور عمل کی توفیق دے۔ آمین!

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    مارچ 26, 2026
    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر  وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    مارچ 26, 2026
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist