رمضان المبارک کا مہینہ تمام مہینوں میں افضل ہے۔ اس مہینے کی آمد پر مسلمان جتنا خوش ہوں کم ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ اس عظیم مہینے کا استقبال اس کی شایان شان کریں۔ اس مہینے کی آمد پر خوشی چہروں سے صاف ظاہر ہورہی ہو، خوشی کے مارے پھولے نہ سمارہے ہوں، کیونکہ یہ مہینہ بے شمار خوبیوں اور خصوصیتوں کے ساتھ آتا ہے۔ اس مہینے میں ہر نیک عمل کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔ اس مہینے میں رحمت کی برسات ہوتی ہے۔ برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ مغفرت کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں۔ اسی مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا ہے، اسی لیے اس مہینے کو نیکوں کا موسم بہار کہا جاتا ہے۔ اس مہینے میں اللہ کی رحمت ہمیں نوازنے اور سرفراز کرنے کے لیے بہانہ ڈھونڈتی ہے۔ اس مہینے کی برکت سے عام مسلمانوں کو بھی عبادت و ریاضت، قرآن کی تلاوت، مسجدوں میں حاضری، صدقہ خیرات اور دیگر نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ یہ مہینہ اللہ ربّ العزت کی جانب سے ہمارے لیے ایک سوغات اور ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ اس مہینے کا چاند نکلتے ہی ہر طرف خوشیاں بکھر جاتی ہیں، ایک نورانی اور پاکیزہ ماحول کے دلکش نظارے ہر طرف نظر آتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مبارک مہینے کا چاند نکلنے سے پہلے اپنے آپ کو تیار کرلیں، تاکہ ہم اچھی طرح سے اس مہینے کو خوش آمدید کہہ سکیں اور اس کی شان کے مطابق اس کا استقبال کرسکیں۔
آج ہماری غفلت اور دین سے بے پروائی کا گراف اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہمیں اسلامی مہینوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات ہی نہیں ہے، اسلامی مہینوں کے نام سے ہم ناآشنا ہیں، اسی لیے ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ رجب کا مہینہ کب شروع ہوا اور شعبان کا چاند کب نکلا؟
ایسی صورت میں ماہ رجب میں رمضان کو پانے کی دعا اور شعبان کی آخری تاریخوں میں رمضان کو خوش آمدید کہنے کی توفیق کیسے ہوسکتی ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ تو اپنے کاموں اور جھمیلوں میں اس طرح منہمک ہوتے ہیں کہ ان کی تیاری تو رمضان کا چاند نکل آنے کے بعد شروع ہوتی ہے، یعنی غفلت کی نیند میں اب تک سوئے ہوئے تھے، چاند نکلنے کا شور کانوں میں پڑا تو چونک اٹھے کہ آج سے تراویح شروع، گویا ایک مشقت اور پریشانی سامنے آکھڑی ہوئی ہے جسے بہرحال انجام دینا ہے۔ یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔
اس مہینے کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس مبارک ماہ کی آمد سے پہلے صاف نیت اور سچی لگن کے ساتھ تراویح، سحری، قرآن کی تلاوت اور پورے مہینے کے روزوں کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ اس مہینے کے انوار و برکات سے مالامال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس مہینے کے اعمال کو بوجھ کی طرح اتارا نہ جائے، بلکہ دل کی رغبت اور چاہت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ بے دلی سے کئے ہوئے کام اور دل سے کئے ہوئے کام میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
رمضان کے استقبال میں سے یہ بھی ہے کہ چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ شعبان کے مہینے کی انتیسویں تاریخ کا سورج غروب ہونے کے بعد چاند دیکھنا سنت ہے۔ آپ نے اس کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
صوموا لرویتہ وافطروا لرویتہ۔ (بخاری و مسلم)
”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی عید مناؤ۔“
یہ صحیح ہے کہ ہر شخص چاند نہیں دیکھ سکتا اور ہر مسلمان اس کا پابند بھی نہیں ہے، لیکن ماہ رمضان کے والہانہ استقبال کا تقاضا ہے کہ چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
اس ماہ مبارک کی رحمتوں اور برکتوں سے پوری طرح فیضیاب ہونے اور اس کی نورانیت سے دل و دماغ کو اچھی طرح منور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مہینے کے آنے سے پہلے ہی اس ماہ کے مخصوص اعمال اور احکام کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے اور ان کی ادائیگی کے صحیح طریقے سے واقف بھی ہوا جائے اور یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کون سی چیزیں ان اعمال کے ثواب کو کم کردیتی ہیں اور کن چیزوں سے یہ اعمال باطل ہوجاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ دن رات کا ایک نظام الاوقات Time Table بنایا جائے تاکہ اس مہینے کی رحمتوں اور برکتوں کو زیادہ سے زادہ سمیٹا جاسکے۔
قرآن اور رمضان کا باہم خاص جوڑ اور گہرا تعلق ہے۔ چناں چہ رمضان کے مبارک ماہ میں ہی قرآن نازل ہوا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس ماہ میں قرآن سے شغف بڑھ جاتا تھا، آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے، احادیث شریفہ میں وضاحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہِ رمضان میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کے نازل شدہ حصوں کا دور کرتے تھے۔ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ اسوہ رسول کے مطابق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام فرماتے،اس لیے اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔
تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام بھی رمضان المبارک کا قرآن کریم کے ساتھ خاص تعلق کا مظہر ہے۔ نمازِ تراویح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع فرمائی اور مسجد میں باجماعت اس کو ادا بھی فرمایا، لیکن اس خیال سے اس کو ترک کردیا کہ کہیں امت پر واجب نہ ہوجائے اور پھر امت کے لیے اس کو ادا کرنے میں مشقت ہو۔روایات سے واضح ہے کہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے تھے، اور دن ورات کا وافر حصہ تلاوتِ قرآن میں صَرف کرتے تھے۔لہٰذا اس مبارک مہینہ میں زیادہ سے زیادہ اپنا وقت قرآن کریم کی تلاوت میں لگانے کا معمول بنایا جانا چاہیے۔
قرآن کی تلاوت چونکہ ایک عبادت ہے، لہٰذا ریا اور دکھاوے کے بجائے صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو،تلاوت اطمینان کے ساتھ اور ٹھہر ٹھہر کر اور خوش الحانی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ تلاوتِ قرآن کے وقت اگر معانی پر غور وفکر کرکے پڑھیں تو بہت ہی بہتر ہے۔ قرآن کریم کے پیغام پر خود بھی عمل پیرا ہوں اور اس پیغامِ ربانی کو دوسروں تک بھی پہنچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ اور تلاوتِ قرآن کی برکت سے تقویٰ والی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطا فرمائے۔بخاری شریف میں ہے :”حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب حضرت جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور بڑھ جاتی۔ وہ رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احسان کرنے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے۔“
اسی طرح حدیث میں ہے :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسد (رشک) تو بس دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے۔ پہلا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اس کا پڑوسی اسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں صرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر کہتا ہے کاش مجھے بھی اتنا مال ملتا جتنا اسے ملا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔“( متفق علیہ)۔
الغرض رمضان کا مہینہ نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔اس ماہ کی قدر کرنے والوں اور اپنی آخرت کو بنانے اور سنوارنے والے اعمال کو زیادہ سے زیادہ انجام دینے والوں کے حق میں ہی یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے خلاصی کا ذریعہ ہے۔












