شعبان کے معنی ”پھیلنے کے آتے ہیں۔چوں کہ یہ مہینہ رحمتوں کے پھیلنے کا مہینہ ہے، اس لیے اس کو شعبان کہا جاتا ہے۔بعض مشائخ نے لکھا ہے کہ شعبان کا نام شعبان اس لیے رکھا گیا کہ اس مہینے میں رمضان کے لیے زیادہ مقدار میں بھلائی پھیلتی ہے، اور رمضان کو اس لیے رمضان کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔“
روایات میں ماہ شعبان کی فضیلت کثرت سے وارد ہوئی ہے۔اس ماہ کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے بعد رمضان کا بابرکت مہینہ آتا ہے۔اس لیے اس مہینے عبادت، تلاوت اور اللہ کے حضور گریہ و زاری بڑھا دینا چاہیے اور رمضان المبارک کے استقبال کے لیے خود کو تیار رکھنا چاہیے۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزہ رکھتے تھے۔چناں چہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ رمضان کے علاوہ روزوں میں سب سے افضل کون سا روزہ ہے، آپ نے فرمایا:”جو روزہ شعبان کے مہینے میں رمضان کے استقبال کے لیے رکھا جائے وہ روزہ سب روزوں سے افضل ہے، جو صدقہ رمضان میں دیا جائے وہ صدقہ تمام صدقوں میں افضل ہے“۔
اس مہینے کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد اسی مہینے میں سب سے زیادہ روزے رکھتے تھے۔چناں چہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضور اکرم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کو مہینوں میں سے کسی مہینے میں نہیں دیکھتا کہ اتنے روزے رکھتے ہوں جتنے شعبان میں، تو آپ نے فرمایا :
”اس مہینے سے لوگ غافل ہیں، یہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے، یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں اعمال رب العالمین کے یہاں پیش ہوتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل ایسے وقت میں پیش ہو کہ میں روزے سے رہوں“، (نسائی)۔ایک دوسری حدیث ہے، جس کی روایت سیدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں، وہ فرماتی ہیں :” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھے جاتے، یہاں تک کہ ہم کہنے لگتے کہ اب نہیں چھوڑیں گے۔اور کبھی چھوڑتے جاتے کہ ہم کہنے لگتے اب روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ سوائے رمضان کے کسی مہینے کے روزے پورے رکھے ہوں، اور میں نے نہیں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھے ہوں “۔ذکر کردہ روایات سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے مہینے میں کثرت سے روزے رکھنے کا اہتمام کرتے تھے۔یہ آنحضرت کی روحانی و جسمانی طاقت تھی کہ آپ صومِ وصال اور شعبان میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔اسی لیے یہ عمل امت کے لیے مسنون نہیں ہے، کیوں کہ شعبان میں مسلسل روزے رکھنے سے رمضان کے روزوں کے لیے کمزوری کا اندیشہ ہے۔البتہ شعبان کے مہینے کے نصفِ اول میں روزے رکھ سکتے ہیں۔آدھا شعبان گذر جانے کے بعد اجازت نہیں ہے۔آپ کا ارشاد گرامی ہے :”جب شعبان آدھا ہوجائے تو روزہ نہ رکھو (ترمذی)۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ رمضان کے روزوں کے لیے تازہ دم رہا جائے۔صحابہ کرام شعبان کا چاند دیکھتے ہی رمضان کی تیاری میں مصروف ہو جاتے تھے، خاص طور سے قرآن کی تلاوت میں اضافہ کردیتے تھے۔اس لیے شعبان کے مہینے کو رمضان المبارک کے استقبال کا مہینہ سمجھا جائے اور رمضان المبارک کے لیے اپنے آپ کو اچھی طرح تیار کیا جائے۔
شعبان کے مہینے کی چودہ اور پندرہ تاریخ کی درمیانی رات کو شب برات کہتے ہیں۔برات کے معنی لغت میں بری ہونے کے ہیں۔اس رات میں گنہ گاروں کی مغفرت اور مجرموں کی برات ہوتی ہے۔اس لیے اس کو شب برات یا لیلتہ البرات کہتے ہیں۔یہ بابرکت رات ہے، اس لیے اس کو لیلتہ المبارک بھی کہا جاتا ہے۔کچھ روایات سے، جو اگر چہ سند کے اعتبار سے مضبوط نہیں ہیں لیکن تعددِ طرق کی وجہ سے فضائل کے باب میں قابلِ ذکرو عمل ہیں، واضح ہوتا ہے کہ شب برات ایک بابرکت رات ہے، اس رات میں اللہ کے انعامات اور رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔اس لیے اس رات میں نمائش اور رسومات سے دور رہتے ہوئے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (1) زیادہ سے زیادہ عبادت، تلاوت اور مناجات میں مشغول رہنا چاہیے۔اس رات کی برگزیدگی کا تقاضا ہے کہ اس کا کوئی پل بے جا چیزوں میں صَرف نہ ہو، جب تک بیدار رہیں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں، لیکن افسوس ہم نے اس مقدس رات کو کھیل تماشا کی رات بنا لیا ہے۔نوجوان بچے غول بنا کر ادھر اُدھر گھومتے پھرتے اور ادھم چوکڑی مچاتے اور گاڑیوں و موٹر سائیکلوں پر کَرتب دکھاتے پھرتے ہیں۔ستم یہ کہ یہ سب کچھ مقدس رات کے نام پر کیا جاتا ہے۔اگر ہم عبادت اور قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے تو خرافات اور بے ہودہ حرکتوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کی غلط تصویر تو نہ پیش کریں۔آتش بازی، ادَھم چَوکڑی اور دیگر رسوم کو ہم نے اس رات سے اس طرح جوڑ لیا ہے کہ گویا یہ رات ان ہی سب چیزوں کے لیے آتی ہے۔اگر ہم کو اسوہ رسول کی سچی پیروی کی ذرا بھی فکر ہے تو ہمیں یہ ضرور معلوم کرنا چاہیے کہ کیا اس رات میں ان چیزوں کی گنجائش ہے؟۔کچھ لوگوں میں پیڑھی در پیڑھی یہ خیال چلا آرہا ہے کہ اس رات روحیں گھروں میں آتی ہیں اور دیکھتی ہیں کہ کسی نے ہمارے لیے کچھ پکایا ہے یا نہیں۔اس لیے ان روحوں کی ضیافت کے لیے اچھی اچھی چیزیں تیار کی جاتی ہیں۔یہ سب وہ باتیں اور رسومات ہیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ شب برات سے پہلے جب کسی کا انتقال ہوجاتا ہے تو جب تک شب برات میں اس کے لیے فاتحہ نہ کیا جائے وہ اَٹکا رہتا ہے، مردوں میں شامل نہیں ہوتا ہے۔یہ خیال بھی بے بنیاد ہے۔اس رات میں کرنے کے جوکام ہیں وہ اوپر ذکر کئے گئے۔بَس قابل توجہ چیز یہ ہے کہ اگر خوش قسمتی سے یہ رات ہمیں ملتی ہے تو مسنون اعمال انجام دینا چاہیے، اور غیر شرعی چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ایک قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ فضیلت والی راتوں کے سلسلے میں عام طور پر لوگ سوچتے ہیں کہ جب تک پوری رات جاگ کر عبادت نہ کی جائے کچھ فائدہ نہیں۔یہ خیال صحیح نہیں ہے، جو جس قدر عبادت، ریاضت اور عمل خیر کرے گا اجروثواب کا مستحق ہوگا۔کسی بابرکت رات کی خیروبرکت پانے کے لیے کم از کم اتنا اہتمام کیا جائے کہ اس رات کا شروع اور آخر حصہ یادِ خدا میں گذرے۔اس لیے شعبان کی چودہویں تاریخ کا سورج غروب ہوتے ہی اللہ کی طرف متوجہ ہوجائیں،مغرب کی نماز تکبیرِ اولی کے ساتھ ادا کرنے کا اہتمام کریں اور پھر جتنا وقت ہو سکے یاد خدا میں گذاریں، اور پھر رات کا آخری حصہ تہجد، تلاوت، اور ذکرودعا میں گزاریں، ورنہ کم سے کم فجر کی نماز تکبیرِ اولی کے ساتھ ادا کریں۔سچی نیت کے ساتھ رات کے شروع اور آخر حصے میں عبادت کے اس اہتمام سے ہوسکتا ہے کہ اللہ رب العزت اپنی رحمت سے رات بھر کی عبادت کا ثواب عطا فرمادیں۔












