لکھنؤ / سیتاپور،سماج نیوز سروس: ضلع سیتاپور کے قصبہ لہر پور میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رات کے اندھیرے میں ’مسجد عمر‘ کو شہید کیے جانے کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ، جمہوریت کے منافی اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو امن و امان اور باہمی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کی غیر منصفانہ کارروائی نے مقامی مسلمانوں میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر جمعیۃ علماء وسطی اترپردیش کے صدر مولانا اسلام الحق اسجد میاں قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے لہر پور کا دورہ کیا اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا۔ اس وفد میں صدر جمعیۃ علماء لکھیم پور قاری محمد اسحاق، جنرل سیکریٹری لکھیم پور مولانا محی الدین، مولانا اسامہ اور حافظ ارشد شامل تھے۔ وفد نے مسجد کے متولی اور ذمہ داران بالخصوص مفتی عبدالرحمن، حافظ علی محمد اور ڈاکٹر معید کے صاحبزادے سے تفصیلی ملاقات کی اور تمام تر کاغذی کارروائی اور شواہد اکٹھے کیے۔ متاثرین اور ذمہ داران سے حاصل ہونے والی معلومات انتہائی چونکا دینے والی ہیں۔ یہ زمین باقاعدہ قبرستان کے طور پر درج ہے اور وقف نامہ (وقف نمبر 37) کے تحت رجسٹرڈ ہے، جہاں 2010 سے مسجد قائم تھی اور باقاعدگی سے نمازیں اور نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی تھی۔ سب سے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس مسجد کے خلاف کارروائی پر عدالت کی جانب سے مئی تک کا ’اسٹے آرڈر‘ (حکم امتناعی) موجود تھا۔ اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے کسی پیشگی نوٹس کے بغیر، صبح چار بجے تین سے چار کلومیٹر کے علاقے کی ناکہ بندی کر کے اس مسجد کو شہید کر دیا۔ انتظامیہ کی زیادتی صرف یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ کارروائی کے دوران مسجد کے متولی کو حراست میں لے لیا گیا اور مسجد کی شہادت مکمل ہونے کے بعد ہی انہیں رہا کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ اب انتظامیہ کی جانب سے مسجد کمیٹی پر بلڈوزر اور انہدامی کارروائی کے اخراجات کی مد میں 39 لاکھ 55 ہزار روپے اور 3 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانے کا غیر قانونی اور ظالمانہ مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ نیز، اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے محض واٹس ایپ پر ’بلیک ڈے‘ کا اسٹیٹس لگانے والے مقامی نوجوانوں کو بھی پولیس نے ہراساں کیا اور اٹھا لیا۔ اس پورے معاملے پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس افسوسناک اور غیر قانونی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ”لہر پور میں ضلعی انتظامیہ نے جس طرح قانون کو بالائے طاق رکھ کر اور عدالتی اسٹے کی مدت ختم ہونے سے دو ماہ قبل ہی مسجد کو شہید کیا ہے، وہ سراسر اختیارات کا ناجائز استعمال اور عدالتی احکامات کی توہین ہے۔ جمعیۃ علماء امن و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مضبوط قانونی لڑائی لڑے گی۔ جائے وقوعہ پر پہنچے جمعیۃ علماء کے وفد نے مقامی مسلمانوں، جو کہ لہر پور میں اکثریت میں ہیں، کو صبر و تحمل کی تلقین کی ہے اور اپیل کی ہے کہ وہ جذبات میں آ کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو، اور نہ ہی کوئی جلوس یا ہنگامہ کریں۔ جمعیۃ علماء کے اکابرین نے یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کے تمام دستاویزات جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی ’لیگل سیل‘ کو بھیجے جا رہے ہیں۔












