2024کے عام انتخاب کو اب محض ایک سال بچے ہیں۔اس درمیان تین چار ریاستوں میں اسمبلی انتخابات بھی ہونے ہیں۔لیکن یہ بات مان کر چلنا چاہئے کہ اسمبلی انتخابات اور پارلیمانی انتخاب میں آسمان زمین کا فرق ہے۔جو لوگ کرناٹک یا راجستھان کے انتخابی نتائج کو پارلیمانی انتخابی نتائج سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں وہ کہیں نہ کہیں غلطی پر ہیں۔موجودہ بی جے پی کے مقابلے کے لئے بھی جو متحدہ محاذ بنانے کی کو شش ہو رہی ہے وہ وقتی اتحاد ہے کیونکہ اس اتحاد میں شامل تمام سیاسی پارٹیوں کو ریاستی سطح پر کانگریس سے لڑنا پڑا ہے اور آئندہ بھی لڑنا پڑیگا یہ بات وہ پارٹیاں بھی سمجھتی ہیں۔اس اتحاد کی سب سے بڑی خامی بھی یہی ہے۔لیکن اس اتحاد کی ضرورت اس لئے ہے کہ موجودہ برسر اقتدار بی جے پی پارٹی ایک مخصوص نظریات کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔اور وہ نظریہ ہندوتو کا نظریہ ہے جو جمہوری طرز حکومت کی نفی کرتا ہے۔اور اس کی مجبوری ہے کہ وہ ایک ناپسندیدہ طرز حکومت میں شامل ہو کر اقتدار تک پہنچ سکی ہے۔اور اب وہ رفتہ رفتہ تمام جمہوری قدروں کو ختم کر رہی ہے۔اور یہی وہ وجہ ہے کہ ملک کی تمام علاقائی پارٹیوں کو متحد ہونے کو مجبور کر رہی ہے۔اب یہ تمام علاقائی پارٹیاں اس بات کو سمجھ چکی ہیں کہ کانگریس اور بی جے پی میں یہی فرق ہے کہ کانگریس کے دور اقتدار میں ہی ہم نے کانگریس سے الگ اپنی پارٹی بھی بنائی اور آزادانہ انتخاب لڑ کر ریاستوں میں اپنی اپنی سرکار بھی بنائی۔لیکن بی جے پی کے اقتدار میں رہتے یہ ممکن نہیں ہے۔بی جے پی جس طرح پورے ملک میں علاقائی پارٹیوں کو اپنے اندر شامل کرتی جا رہی ہے وہ علاقائی پارٹیوں کے لئے تشویشناک ہے۔علاقائی پارٹیوں کو اب یہ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ 2024کے انتخاب میں اگر ہم نے متحدہ محاذ نہیں بنایا اور کانگریس کو اس میں شامل نہیں کیا تو پھر ملکی سطح پر مسلمان کانگریس کے ساتھ جانے کا من بنا چکے ہیں اور مسلمانوں کا ووٹ بینک جیسے ہی ان علاقائی پارٹیوں کی دسترس سے باہر ہوا ان علاقائی پارٹیوں کی حالت نہایت بری ہو جائے گی۔خاص طور پر اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی ،مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس اور بہار میں جنتا دل یونائٹیڈ اور راشٹریہ جنتا دل کی۔ویسے مہاراشٹرا پر بھی اس کا اثر پڑیگا اور بہت حد تک آسام دہلی اور جنوبی ہند کی ریاستوں پر بھی۔مسلمانوں کا کانگریس کی طرف مراجعت کا رحجان کئی اسمبلی انتخابات میں بھی دیکھنے میں آ چکا ہے۔دہلی میں کیجریوال کی سرکار بھی دہلی کے پندرہ فیصد مسلمانوں کے بل پر ہی چل رہی ہے۔جس دن یہ پندرہ فیصد مسلمان ایک ساتھ عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر کانگریس میں چلے گئے اسی دن سے کیجریوال کی سرکار کی گنتی شروع ہو جائیگی۔
لیکن ان سب کے باوجود ابھی متحدہ محاذ کے راستے میں کئی مشکلیں اور بھی ہیں جو سامنے آنے والی ہیں۔ان میں سب سے بڑا مرحلہ یہ ہے کہ کانگریس کس حد تک علاقاءپارٹیوں کو فری ہینڈ دیتی ہے۔ابھی تک جو بات سامنے آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ پورے ملک میں بی جے پی کے ایک کینڈیڈیٹ کے مقابلے محاذ اپنا ایک نمائندہ میدان میں اتاریگی۔اور اس کے لئے کانگریس کی جیتی ہوئی سیٹ کے علاوہ اسے دوسرے نمبر پر رہنے کا بھی فائدہ دیا جائیگا۔لیکن کیا مغربی بنگال،بہار اور اتر پردیش میں یہ فارمولہ اسے قبول ہوگا ،اور اگر ایسا نہیں ہوا تو کیا سماج وادی پارٹی ،ترنمول کانگریس اور نتیش کمار اور تیجسوی یادو کانگریس کو اس کی پسند کی سیٹیں دینے پر تیار ہو جائنگے ؟کیونکہ اس کے پہلے کم سے کم بہار میں تیجسوی یادو کو تو بہت برا تجربہ ہو چکا ہے جہاں انہوں نے کانگریس کو اس کی خواہش کے مطابق سیٹ تو دے دیا لیکن ان سیٹوں پر آر جے ڈی اپنے ووٹ کانگریس کے حق میں ٹرانسفر کرانے میں ناکام رہی۔
مغربی بنگال اور اتر پردیش میں تو ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو یہ خوف بھی ہوگا کہ اگر کانگریس ایک بار کسی سیٹ پر کامیاب ہو گئی تو کہیں وہاں اس کی تنظیم مظبوط نہ ہو جائے اور وہ ووٹر جو بنیادی طور پر پہلے کانگریس کے ہی ووٹر رہے ہیں اگر اسمبلی انتخاب میں لوٹ کر ان کے پاس نہ آئے تو ان کی پارٹی کے وجود پر ہی سوالیہ نشان نہ لگ جائے ؟
لیکن ان تمام خدشات سے بڑا خد شہ یہ بھی ہے کہ اگر جلد از جلد بی جے پی کو اقتدار سے باہر نہیں کیا گیا تو پھر ملک کا جمہوری آئین اور تمام جمہوری ادارے ہی ہاتھ سے نہ نکل جائیں۔لہذا یہ سمجا جا سکتا ہے کہ 2024کا عام انتخاب غیر معمولی طور پر بہت اہم ہونے جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس ایک سال کے عرصہ میں حزب اختلاف عوامی مسائل کو کس حد تک اجاگر کر پاتی ہے اور بی جے پی اپنے مذہبی ایجنڈے کو ان عوامی مسائل کے اوپر کس حد تک حاوی کرتی ہے۔












