• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, جنوری 16, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

شور کے عہد میں شعور کی ضرورت

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 16, 2026
0 0
A A
شور کے عہد میں شعور کی ضرورت
Share on FacebookShare on Twitter

ملک اس وقت جس دور سے گزر رہا ہے، وہ محض سیاسی کشمکش کا نہیں بلکہ فکری انتشار اور سماجی بے چینی کا بھی آئینہ دار ہے۔ ہندو، مسلم، مندر، مسجد اور غیر قانونی مزار کے نام پر جو سیاست تیزی سے فروغ پا رہی ہے، وہ صرف اقتدار کی جنگ نہیں رہی بلکہ عوام کے ذہن و دل کو متاثر کرنے کی منظم کوشش بن چکی ہے۔ اس فضا کو سب سے زیادہ تقویت الیکٹرانک میڈیا اور ہندی پرنٹنگ میڈیا سے مل رہی ہے، جو دن رات انہی موضوعات کو اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ سوال کم اور شکوک زیادہ جنم لے رہے ہیں۔
ٹی وی اسکرین پر ہونے والے مباحثوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ اب مقصد مسئلے کو سمجھنا نہیں رہا بلکہ ایک خاص بیانیے کو مضبوط کرنا بن چکا ہے۔ اینکر سوال کرنے کے بجائے فیصلہ سناتا ہے، مہمان کو سننے کے بجائے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، اور گفتگو کو اس سمت میں لے جاتا ہے جہاں ایک ہی مذہب مسلسل مشتبہ نظر آئے۔ ہندی اخبارات کی سرخیاں بھی اسی ذہنیت کی ترجمان دکھائی دیتی ہیں، جہاں پیچیدہ سماجی اور قانونی معاملات کو محض مذہبی زاویے سے پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے مخفی نہیں رہی کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ غیر جانب دار نہیں رہا۔ صحافت جو سماج کا ضمیر سمجھی جاتی تھی، وہ اب اکثر طاقتور سیاسی بیانیے کی توسیع بنتی نظر آتی ہے۔ اس عمل میں سب سے زیادہ نشانہ مسلمان بن رہے ہیں، جن کی عبادت گاہیں، تاریخ اور شناخت مستقل سوالوں کے گھیرے میں رکھی جا رہی ہیں۔
لیکن اگر اس پوری صورتِ حال کا سارا بوجھ صرف میڈیا پر ڈال دیا جائے تو یہ خود احتسابی سے گریز کے مترادف ہوگا۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس ماحول میں کچھ کردار ہمارے اپنے درمیان سے ابھر رہے ہیں، جو نادانستہ طور پر اسی بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں جس سے شکوہ کیا جاتا ہے۔
ٹی وی مباحثوں میں بار بار ایسے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے جو خود کو اسلام اور مسلمانوں کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ گفتگو کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے پورا دین، پوری تاریخ اور پورا آئین انہی کے علم میں سمٹ آیا ہو۔ مگر چند ہی لمحوں میں ان کی بات چیت جذباتیت، بے احتیاطی اور غیر ضروری جملوں میں بدل جاتی ہے۔ اینکر کو مطلوبہ مواد مل جاتا ہے، اور اگلے دن پورا مسلم سماج صفائی دیتا نظر آتا ہے۔ حال ہی میں ایک حساس مذہبی اور قانونی مسئلے پر ہونے والا ٹی وی مباحثہ اس صورتِ حال کی واضح مثال تھا۔ سوالات اشتعال انگیز تھے، ماحول جان بوجھ کر تلخ رکھا گیا تھا، اور کچھ نام نہاد نمائندے جذبات میں بہہ کر وہ سب کچھ کہہ بیٹھے جس کی قیمت پوری ملت کو چکانی پڑی۔ اگلے دن کی سرخیاں کسی ایک فرد نہیں بلکہ پورے سماج کے خلاف تھیں۔
اسلام کا مزاج چیخ و پکار نہیں بلکہ حکمت، دلیل اور سنجیدگی ہے۔ قرآن کا اسلوب غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اور رسول اکرم ﷺ کی سیرت اس بات کی روشن مثال ہے کہ شدید مخالفت اور اشتعال انگیزی کے باوجود وقار، صبر اور اخلاق کو کبھی ترک نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس موجودہ صورتِ حال میں کچھ لوگ ٹی وی اسٹوڈیو کو منبر اور ریٹنگ کو کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ اسلام ہر مائکروفون کے سامنے بولنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ کہاں خاموشی بہتر ہے اور کہاں گفتگو ضروری۔ بعض اوقات خاموشی سب سے مضبوط موقف ہوتی ہے، اور بعض اوقات پیچھے ہٹ جانا ہی اصل دانش مندی بن جاتا ہے۔
مندر، مسجد اور مزار جیسے مسائل کو مذہبی جنگ کا رنگ دینا دراصل انہی طاقتوں کے بیانیے کو قبول کرنا ہے جو سماج کو مستقل تصادم میں مبتلا رکھنا چاہتی ہیں۔ یہ مسائل جذبات سے نہیں بلکہ زمین، تاریخ، قانون اور آئین سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کا حل بھی عدالتوں، مکالمے اور آئینی دائرے میں ہی تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ ٹی وی اسٹوڈیوز کی شوریدہ فضا میں۔ موجودہ دور کا چیلنج اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مسائل کی نوعیت کے ساتھ ساتھ ان کا ادراک اور ردعمل بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ تنازع اور کشیدگی کے لمحات میں اکثر وہ لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں جو تحمل اور سمجھ بوجھ کے بجائے جلد بازی اور جذباتیت پر انحصار کرتے ہیں۔ حالات کی نزاکت کو صحیح انداز میں پرکھنے کی ضرورت ہر فرد اور گروہ پر عائد ہوتی ہے، تاکہ فیصلے اور رویے صرف وقتی جذبات کی بنیاد پر نہ ہوں۔ یہ بات واضح ہے کہ اجتماعی شعور کی کمی، بغض اور غیر محتاط رویے طویل مدت کے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔ کئی بار لوگ اپنی معلومات کی محدودیت کے باوجود فوراً رائے دے دیتے ہیں، اور بعض اوقات ایسا کیا جاتا ہے کہ صرف اپنی پوزیشن یا مقام کے تحفظ کے لیے بات رکھی جاتی ہے، جس سے اصل موضوع پس منظر میں رہ جاتا ہے۔ نتیجتاً، عوامی فہم متاثر ہوتا ہے اور اصلاح کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اس تناظر میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہر موقف کو سوچ سمجھ کر اور مکمل معلومات کے ساتھ پیش کرنا لازمی ہے۔ نظریات کا اظہار صرف اظہار کی خاطر نہیں بلکہ سمجھ بوجھ کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ معاشرتی توازن قائم رہے۔ فکری احتساب کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص خاموش ہو جائے، بلکہ یہ ضرورت ہے کہ گفتگو کے معیار اور اثرات کا ہر فرد شعوری جائزہ لے۔ اہم یہ ہے کہ اختلافات کی صورت میں بھی رویہ اخلاقی اور ذمہ دارانہ ہونا چاہیے۔ بحث و مباحثے کی فضا میں دوسروں کے جذبات، رائے اور وقار کو نقصان پہنچائے بغیر اپنا موقف پیش کرنا سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی اختلافی صورت میں، تحمل اور صبر کے ساتھ حکمت عملی اختیار کرنا نہ صرف اجتماعی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے بلکہ سماجی اعتبار کو بھی مستحکم رکھتا ہے۔
مزید برآں، عوامی سطح پر علم، تحقیق اور درست معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ بے بنیاد قیاس آرائی، افواہوں یا ذاتی تعصب کی بنیاد پر رائے دینا معاشرتی انتشار کو بڑھاتا ہے اور تعلقات میں فاصلے پیدا کرتا ہے۔ اس لیے معاشرتی رہنماؤں، اہل علم اور ذمہ دار شہریوں پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں رہنمائی فراہم کریں، اور عوام میں غلط فہمیوں کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ مذہبی، سماجی یا تاریخی مسائل کے سلسلے میں توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی قسم کے اختلاف کو شدت دینے کے بجائے حل کے عملی راستے تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ صرف معاشرتی فلاح کے لیے نہیں بلکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق بھی لازمی ہے۔ عوامی شعور کو درست سمت دینے کا کام ہر فرد کے لیے فرض ہے تاکہ اجتماع میں یکجہتی اور اعتماد قائم رہ سکے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نمائندگی کوئی صرف رسمی اختیار یا رتبے کی علامت نہیں، بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ ہر شخص جو کسی کمیونٹی یا گروہ کے نام پر اظہار رائے کرتا ہے، اسے اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کی گفتگو کا اثر وسیع ہو سکتا ہے۔ غیر محتاط بیانات اور غیر سوچے سمجھے اقدامات لمبی مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
آئندہ کے چیلنجز کا سامنا صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہر فرد اپنی حیثیت، کردار اور اثرات پر غور و فکر کے ساتھ نظر ڈالے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جذبات اور ذاتی مفادات کے بجائے معاشرتی بھلائی، عدل و انصاف اور باہمی تعاون کو ترجیح دی جائے۔ دانشمندانہ رویہ اختیار کرنے سے، نہ صرف ذاتی معاملات میں توازن قائم ہوتا ہے بلکہ سماج کے بڑے مسائل میں بھی غیر ضروری کشیدگی پیدا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
موجودہ دور میں، جہاں اختلافات اکثر ذاتی، گروہی یا لسانی بنیادوں پر شدت اختیار کر لیتے ہیں، ہر شہری کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ استدلال، تدبر اور محتاط رویے کے ذریعے مسائل کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرے۔ بصیرت کی روشنی میں فیصلے کرنا نہ صرف تصادم کے امکانات کو کم کرتا ہے بلکہ معاشرتی اعتماد اور تعلقات کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ علاوہ ازیں، اخلاقی اور عملی شعور کے امتزاج سے فرد نہ صرف اپنے اعمال کے نتائج کو سمجھتا ہے بلکہ اجتماعی فلاح اور انصاف کے فروغ کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرز عمل سے اختلافات تشدد یا دشمنی میں تبدیل نہیں ہوتے بلکہ تعمیری مکالمے اور باہمی احترام کی فضا قائم رہتی ہے۔
مزید برآں، تحمل، سنجیدگی اور تدبر کے ذریعے افراد معاشرتی بحران میں درست سمت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف آج کے مسائل کا حل فراہم کرتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثالی معیار قائم کرتا ہے، جس پر سماجی اتحاد، فکری بصیرت اور اخلاقی اقدار کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ فرد کی ذمہ داری، حکمت عملی اور اجتماعی شعور کے امتزاج کے بغیر معاشرتی استحکام ممکن نہیں۔ جو لوگ اس اصول پر عمل کرتے ہیں، وہ اپنے اور دوسروں کے وقار کا تحفظ کرتے ہیں اور ایک مضبوط، ذمہ دار اور متوازن معاشرہ قائم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو حقیقی اتحاد، عدل اور وقار کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    جنوری 16, 2026
    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    جنوری 16, 2026
    انڈیا اوپن: بیڈمنٹن کورٹ سے ہندوستان کے لیے مایوس کن خبریں، ایچ ایس پرنئے اور کدامبی سری کانت باہر

    انڈیا اوپن: بیڈمنٹن کورٹ سے ہندوستان کے لیے مایوس کن خبریں، ایچ ایس پرنئے اور کدامبی سری کانت باہر

    جنوری 16, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا: مارکس اسٹوئنس انجری کے باعث میدان سے باہر

    ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا: مارکس اسٹوئنس انجری کے باعث میدان سے باہر

    جنوری 16, 2026
    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے امریکی حکومت سے مذاکرات ناکام

    جنوری 16, 2026
    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    ایرانی حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے: ٹرمپ

    جنوری 16, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist