بھارت چین سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ،دونوں ممالک کی افواج میں ہاتھا پائی اور تکرار کی خبریں ہیں ۔توانگ سیکٹر میں دو دن پہلے بھارت کے کچھ فوجی بھی چینی افوقاج کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہو گئے ہیں اور ان کا اروناچل پردیش کے ایک اسپتال میں علاج چل رہا ہے کہا جاتا ہے کہ وہ شدید طور سے زخمی نہیں ہوئے ہیں ،صرف معمولی چوٹیں آئی ہیں ۔ادھر دعویٰ یہ کیاجارہا ہے کہ اس تصادم میں چین کے بھی کئی فوجی زخمی ہوئے ہیں !۔بھارت چین کی افواج میں ہوئی اس جھڑپ کی گونج پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی ،مودی حکومت اس معاملے پر منگل کو بری طرح گھری نظر آئی۔اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے پر صفائی مانگی گئی ۔جس پر حکومت کے ہاتھ پائوں پھولتے نظر آئے ۔اپوزیشن نے سوال کیا کہ حکومت چینی توسیع پسندی اور تجاوزات پر خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے ؟ راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر کھڑگے نے وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کیاہے ۔انہوںنے کہا کہ لداخ کی وادی میں گلوان میں مسلح افواج کی بہادری اور شجاعت سب کو معلوم ہے لیکن چین کی جانب سے اپریل 2020سے ہماری سر زمین میں دراندازی اور ڈیپساس میں وائی جنکشن تک چینی دراندازی آج بھی جاری ہے ، جوکہ کافی حیرت انگیز ہے۔اس کے علاوہ کھڑگے نے چین سرحد تناع پر حکومت سے کئی اور چبھتے سوالات کئے۔لیکن ان سب پر حکومت کی جانب سے اس کی تردید میں اتنا کہا گیا کہ توانگ تصادم میں زیادہ کچھ نقصان نہیں ہوا ہے ، صرف بھارت ہی نہیں،دونوں افواج کے لوگ زخمی ہوئے ہیں ۔
الغرض راجناتھ نے گول مول جواب دے کر اس معاملے کو معمولی بتاکر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور حکومت کا بچائو کرتے نظر آئے۔لیکن دیکھا گیا کہ وزیر دفاع راجناتھ کے بیان سے قبل کھڑگے نے حکومت کے سامنے جو انکشافات کئے ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن کا اپوزیشن کو شاید ہی کوئی واضح جواب مل سکا!۔در اصل اپوزیشن پارٹی کانگریس ،مرکزی حکومت پر کئی بات یہ الزام عائد کرچکی ہے کہ وہ مبینہ چینی در اندازی کی خبروں سے لاعلمی کا اظہار کرتی ہے یا پھر اس سے آنکھیں موندے ہوئے بیٹھی ہے!۔اس لئے کل پارلیمنٹ میں بھی حکومت ان سوالوں سے گھری نظر آئی ۔لہذااس معاملے پر کافی ہنگامہ ہو تارہااورآخیر میں کانگریس نے ایوان سے واک آئوٹ کردیا۔ اپوزیشن کا سوال اب بھی تشنہ ہے اور شاید یہ تشنگی کبھی ختم نہ ہو سکے ۔بلا شبہ کئی سال سے چین ہماری سرحدی حدود میں در اندازی کی کوششیں کرتا رہا ہے بلکہ یہ دعویٰ غلط نہیں لگتا کہ اس نے بھارت کی کئی ہزار کلومیٹر کی زمین لداخ میںہتھیا لی ہے ۔سیکولر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دعویٰ کیا جاتارہا ہے کہ چین بھارت میں گلوان میں اپنی بستیاں آباد کررہا اور توسیع میں مصروف ہے جبکہ حکومت چین کوکچھ بولنے کی ہمت نہیں کر پارہی ہے!۔ آپکو بتادیں کہ کھڑگے نے ایون پارلیمنٹ میں حکومت سے یہ بھی انکشاف کیاکہ اپریل 2020تک جمود کو یقینی بنانانے کے مطالبے کے باوجود چین نے ہمارا علاقہ خالی کرنے سے انکار کردیا ہے اور جان بوجھ کر وزیر اعظم مودی کے 2020،20جون کے بیان کا سہارا لے رہا ہے جس میں انہوںنے کہا تھا کہ ہمارے علاقے میں کوئی داخل ہی نہیں ہوا ہے۔انہوںنے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ’’ اب تو چینیوں کے ساتھ ہمارے علاقے سے دستبرداری کیلئے جاری بات چیت بھی رک گئی ہے ۔اور کوئی نئی تاریخ کا تعین بھی نہیں کیا گیا ہے‘‘۔ کھڑگے کے چبھتے سوالات اور نکات یقینا بے چین کرنے والے ہیں کیونکہ یہ معاملہ ہمارے ملک کی سیکورٹی سے منسلک ہے اور حکومت کو اس پر سنجیدگی سے دھیان دینے کی ضرورت ہے ۔اس میں شک نہیں کہ اگر ہماری جانب سے چینی دراندازی کی خبروں کی تردید نہیں کی جاتی تو پڑوسی ملک کی داداگری مزید سر چڑھ کر نا بولتی ۔یہ معاملہ نہایت حساس ہے اور اگر دونوں ممالک کے درمیان مصالحت سے حل نا کیاگیا تو آگے چین کوئی اور بھی حرکت کرسکتا ہے ۔قابل غور بات ہے کہ چین ہم سے اربوں ڈالر کا بزنس کرتا ہے اور ایک سال میں بھارت اور چین کے درمیان بزنس 45فیصدیعنی 97 بلین ڈالر تک بڑھا ہے۔جس سے اس کو فائدہ ہورہا ہے ،لیکن اس کے ساتھ وہ بھارت پر دبائو کی حکمت عملی کے ساتھ کام کررہاہے ۔لیک شاید ہم اس کی چالوں کو سمجھنا چاہئے ۔ ایسے میں اب اس کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔عجب بات ہے کہ جب ہماری سرحدکی حفاظت کی بات آتی ہے تواس معاملے میں حکومت کا سرد رویہ سامنے آتا ہے!جب کہ اسے سبق سکھانے کے لئے ہمیں اس سے تجارت کو بند کردینا چاہئے ۔اہم سوال ہے کہ آگے چل کر یہ تنازع سنگین موڑ بھی لے سکتا ہے اور معاملہ پیچیدہ تر ہونے کا خدشہ ہے ،ا سلئے اس ایشو بیٹھ کرکیوں نہ سلجھا لیا جائے؟۔گلوان وادی 2020 اپریل میں بھارت چین فوجیوں کے درمیان خونریز جھڑپ کے بعد یہ تیسری بار ایسا ہوا ہے کہ دونوں افواج کے درمیان ہاتھا پائی اور تکرار کی نوبت آگئی۔ مرکزی حکومت اس جانب کوئی سنجیدہ غور و خوض کیوں نہیں کرتی ہے ،اب تو اپوزیشن جماعتیں اس پر اپنے اعتراضات رکھ رہی اور سوال اٹھا رہی ہیں،حکومت کو عوام اور اپوزیشن کو مطمئن کرنا چاہئے ۔چین اپنے اندرونی معاملوں سے دھیان بھٹکانے کیلئے جب چاہتا ہے، سرحدی تنازع کو اٹھا دیتا ہے ۔اس پر دونوں جانب کا نقصان ہوتا ہے ،بھارت کا کہیں زیادہ ہوجاتاہے۔اس معاملے کو حل کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہئے ،کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔












