کانگریس پارٹی جو ملک کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی ہے، پچھلے کئی سالوں سے موت و حیات کی کشمکش میں جی رہی ہے اور ہر نیا دن اس کے زوال میں اضافہ کررہا ہے۔ اسی درمیان کانگریس کے خیر خواہوں کے پیہم مطالبے کے بعد کانگریس کے نئے صدر کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔نئے صدر کا تعلق محروم طبقے سے ہے اس لئے ملک میں بسنے والے محروم طبقات اور مذہبی اقلیتوں اور بے بسی کے گزارنے والے کروڑوں عوام کے مسائل جاننے اور اسے دور کرنے اور ایسے لوگوں کی زندگی میں بہار لانے کا جذبہ رکھتے ہوںگے، ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ کانگریس کے زوال سے ایسی طاقتوں کو زبردست عروج ہے جو ملک کی اقلیتوں ان کی تہذیب و کلچر اوران کی عبادت گاہوں کو پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتی ہیں۔ یہ مذہبی اقلیتیں ماضی میں کانگریس کے اہم ووٹر تھے لیکن اس پارٹی کے دور حکومت میں زبردست فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے اوران کی روک تھام میں غیر معمولی تاخیر اور ان کی معاشی و ترقی و انتظامیہ میں حصہ داری کےلئے کوئی مؤثر اقدام نہ کئے جانے کے باعث ملک کی اقلیتیں خاص کر مسلمان کانگریس سے دور اوران کی سیاسی وابستگی علاقائی پارٹیوں سے ہوگئیں۔ بہار بنگال اور برسوں سپا وبسپا جیسی علاقائی پارٹیوں کی حکومت کا قیام اس کی تازہ مثال ہے۔یہ علاقائی پارٹیاں پچھلے دو ڈھائی دہائیوں سے ریاستوں میں برسراقتدارہیں لیکن یہ علاقائی پارٹیاں بھی ان کی امیدوں پر کھری نہیں اتر رہی ہیں، ساتھ ہی ان علاقائی پارٹیوں کے قیام اور کانگریس کے زوال سے فرقہ پرست طاقتیں حد درجہ مضبوط ہو گئی ہیں اور جمہوری ادارے بھی اس سے متاثر ہورہے ہیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کاایک بڑا طبقہ کانگریس کی طرف واپسی اورکانگریس سے ہی سیاسی تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ تعلقات کے استواری کا مسئلہ یکطرفہ نہیں ہوسکتابلکہ کانگریس کو بھی اقلیتوں کی طرف ہاتھ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ ان افراد اور ان تنظیموں کو اپنے ساتھ لانے کےلئے عملی اقدام کرے جو مسلمانوں میں گرفت رکھتے ہیں۔ جمعیۃ علماءہند مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور ہر ضلع قصبے میں اس کے رضاکار موجود ہیں اس کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ مغربی یوپی کے ہر ضلعے میں پچاس ہزار آدمی اس کی دعوت پر ہر وقت لبیک کےلئے تیار رہتے ہیں۔ اس تنظیم کے سابق صدر حضرت مولانا اسعد مدنی کانگریس کے ٹکٹ پر تین مرتبہ راجیہ سبھا میں نمائندگی کرچکے ہیں، ان کے بھائی اور جمعیۃ علماءہند کے ایک دھڑے کے روح رواں مولانا ارشد مدنی کانگریس کے زبردست مداح ہیں اور اسی پارٹی کو مسلمانوں کا سچا خیرخواہ مانتے ہیں۔
صوبہ بہار میں امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کو مسلم عوام پر زبرست گرفت ہے۔بریلوی مسلک کی اہم شخصیت مولاناتوقیر رضا لاکھوں لوگوںکے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ اس طرح کے تمام لوگوں اور تنظیموں کو کانگریس سے جوڑنے کےلئے عملی اقدام کیا جائے اور عوام پر گرفت رکھنے والوں کو کانگریس قیادت پارٹی اور حکومت میں نمائندگی دے کر پارٹی کے گرتے گراف کو دور کر سکتے ہیں۔ لیکن کانگریس کی قیادت کے طریقہ کار سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس کے لئے تیار نہیں ہے۔ کانگریس کے نئے صدر محترم نے پرانی ورکنگ کمیٹی کو تحلیل کرکے47افراد پر مشتمل نئی ایگزیکٹیو کمیٹی بنائی ہے۔ اس میں مسلمانوںکو نمائندگی دی گئی ہے، حالانکہ مسلمانوں کی آبادی 14فیصد ہے اور ملک کا ہر ساتواں فرد مسلمان ہے، اس لحاظ سے سات مسلمانوں کی نمائندگی دی جانی چاہئے۔ لیکن صرف تین مسلمان ہی اس با اختیار کمیٹی میں جگہ پانے میں کامیاب ہیں۔ اسی طرح کسی بھی ریاست کا مسلمان صوبائی صدر نہیں ہے۔کیا کانگریس کے نئے صدر اس باتوں پر توجہ دیںگے اور مسلمانوں کے ساتھ ہورہی بے انصافی کو دور کرنے اوران کے جائز مطالبات کو پوری کرنے کی کوشش کریںگے۔












