آسام حکومت کا نیا ستم!
ریاست آسام میں کم عمری کی شادی کا معاملہ اب زیادہ طول پکڑتا جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا حکومت کے اس احمقانہ ایکشن سے مسلمانوں میں سخت ناراضگی ہے توہیں دوسری جانب خواتین بھی سڑکوں پر اتری ہوئی ہیں جو اپنے خاوند ،بیٹی،شوہر ےا دیگر متعلقین کو گرفتار کئے جانے کے خلاف ریاستی حکومت کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کررہی ہیں۔ سینکڑوں خواتین اپنے رشتہ داروں کی گرفتاریوں کے بعد سے احتجاج کر رہی ہیں۔مسلمانوںکا کہنا ہے کہ انہیں کم عمری کی شادی کے نام پر نشانہ بنایا جارہا ہے اور بسوا حکومت نے ان کی پر سکون زندگی میں زہر گھول دیا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ اب تک دو ہزار سے زائدمسلم عورتیں،لڑکیاں اور مرد گرفتار کئے جاچکے ہیں ۔حکومت کے اس قدم سے بد نظمی کا علام یہ ہے کہ بیشتر مسلمان خواتین اور شیر خوار بچوں پر ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ۔ شوہروں کو جیل میں ڈالدینے ان کو صعوبتیں تو الگ جھیلنا پڑ رہی ہیں تو وہیںان کی عورتیںاپنے مردوںسے الگ ہوکر پریشان ہیں تو کہیں شیرخوار بچے اپنی ماؤں سے بچھڑ گئے ہیں ۔اس بے تکے قدم کے خلاف پورے ملک سے مسلم تنظیموں میں بی چینی ہے تو وہیں اپوزیشن جماعتیں آسام حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں ۔لیکن اس پر کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔اس کا کہنا ہے کہ ان کافیصلہ سبھی ہندو مسلمان کے بارے میں ہے ،تفریق کی کوئی بات نہیںہے۔جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ لوگوں میں مسلمان مردوں اورخواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔ بلا شبہ یہ ایک بے ہنگم فیصلہ ہے جسے ریاستی حکومت کو واپس لے لینا چاہئے ۔یہ مسلمانوں کو ذہنی طور سے ہراسان کرنے کے سوا کچھ اورنہیں ۔وہ پہلے ہی غربت کے مارے اپنی گزر بسر کررہے ہیں تووہیں اب ان پرنئے انداز سے پریشان کرنے کا بہانہ تراش لےا گےا۔اس سے قبل مدارس کے سروے کے نام پر ہراساں کیا جاتا رہا،کہیں ان کے مکانوں پر بلڈوزر چلایا گیا تو کہیں ان کے مدارس کے سروے کرانے کے نام پر ان کی تعلیم کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ۔شاید یہ بات رےاستی حکومت کوگوارا نہیں ہے کہ مسلمان اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں ملک کی ترقی میں معاون ہو سکیں ۔اس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ مرکزی حکومت نے اقلیتوں کے طلبہ کو دی جانے والی پری میٹرک اسکالر شپ اور مولانا آزاد فاؤنڈیشن کی ریسرچ اسکالر شپ موقوف کردی ہے!۔اسکے بعد آسام میں مدارس میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ،اب چائلڈ میرج قانون کے بہانے مسلمانوں پر منظم طور سے مقدمات لگائے جارہے ہیں جن سے مسلم خواتین ،اور خاندان کے خاندان ویران و برباد ہو رہے ہیں ۔کہا جارہا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے رےاست میں اس طرح کی کارروائیاں کر کے خوف کا ماحول پیدا کر دےا ہے۔پوچھا جارہاہے کہ کیا لوگ اس سے وقف نہیں ہیں کہ مسلم ماؤں کوکس طرح سے ا ن کے شیر خوار بچوں سے الگ کیا جارہا ہے اور ان کے شوہروں اور والدین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جارہا ہے۔غور طلب ہے کہ جن افراد کی شادی 14 برس سے کم عمر کی لڑکی سے ہوئی انھیں تعزیرات ہند کے انتہائی سخت قانون پاکسو کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے تحت سات برس تک قید یا عمر قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ ایسے معاملوں میں ضمانت بھی ممکن نہیں۔حالات اور اطلاعات جھنجوڑنے والی ہیں ۔سچائی یہ ہے کہ ایک حاملہ خاتون کی موت ہو گئی وہیں ایک اور لڑکی نے حکومتی کارروایوں اور گرفتاریوں سے گھبرا کر خود کشی کرلی ہے۔اسےڈر ستانے لگا تھا کہ اس سے میرج سرٹیفکیٹ پوچھا جائےگا،جس کا ایک دن پہلے اس نے اپنے باپ سے پر اسرار طریقہ سے ذکر بھی کیا تھا ۔ بی جے پی حکومت کے اس فیصلے پر چو طرفہ تنقید و مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اورکتنا مسلمانوں کو ستاےا جائےگا اور انہیں قانونی دستاویزات کے نام پر ہراساں کیا جاتا رہے گا۔اس سے قبل شہریت رجسٹر ی کے نام پر بھی آسام میں لوگوں میںخوف و ہراس پیدا کرنے کی ایک کوشش کی جا چکی ہے ۔حالیہ معاملہ میں لوگ اس بات سے زیادہ خوف زدہ ہیں جن کی شادےوں کو کئی سال گزر چکے اس کے باوجود ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔،ایسا کیوں؟تازہ شادےوں کی بات تو دور ہے۔قابل ذکر ہے کہ ملک میں مسلم پرسنل لاءبلوغت کے بعد کبھی بھی لڑکی کی شادی کی اجازت دیتا ہے۔ جبکہ چائلڈ میرج ایکٹ اٹھارہ سے کم عمر لڑکی کی شادی کی اجازت نہیں دیتا۔ان تازہ گرفتاریوں کے بعد تنازع کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جار ہا ہے۔بہر حال اس سے ایسا لگ رہا ہے کہ چائلڈ میرج قانون کے نام پر ریا ستی حکومت کو اقلیتوں کو ہراساں کرنے کا ایک ہتھیار مل گیا ہے ۔
(سید مجاہد حسین)












