منی پور میں حالات بالکل قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔حالانکہ خبروں میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ حالات کنٹرول میں ہیں لیکن یہ محض سرکاری بیان ہے جو روٹین کا بیان ہے ۔جبکہ مقامی ذرائع سے جو خبریں آ رہی ہیں وہ تشویشناک ہیں ۔ابھی تک ملک کے عام لو گوں کو یہی بتایا جا رہا ہے کہ ریزرویشن کو لے کر دو قبائلی گروہ آپس میں الجھ گئے ہیں ۔لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس فساد کا بھیانک چہرہ یہ ہے کہ عیسائی مذہب کے لوگوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے اور ان کے گھروں کو آگ کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔اقلیتی طبقہ کے ساتھ یہ وہی ناروا سلوک ہے جس کے لئے ملک کی ایک خاص سیاسی جماعت پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں ۔منی پور میں بھی فی الوقت وہی ہو رہا ہے ۔لیکن میڈیا میں خبروں کا زاویہ بالکل مختلف ہے ۔
منی پور اور امپھال سمیت بارڈر کے اس پورے علاقہ میں کشیدگی کا واقعہ نیا نہیں ہے ۔پہاڑی اور میدانی لوگوں کے درمیان ناچاقی کا ماحول بھی نیا نہیں ۔لیکن اب جس طرح ان پہاڑی لوگوں کے درمیان بھی ریزرویشن کے نام پر بانٹنے کی سیاست ہو رہی ہے اس نے اس علاقہ کے امن و امان کو پلیتہ لگا دیا ہے ۔لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مرکزی سرکار اس علاقہ کی ترقی کے جو دعوے دہلی میں بیٹھ کر کرتی ہے اس کا کیا مطلب ہے ۔جبکہ یہاں عام شہریوں کو جان کے لالے پڑے ہیں ۔ضرورت کی اشیا کا فراہم ہونا مشکل ہے ۔پہلے بھی بغیر پیرا ملٹری فورس کی نگرانی کے پٹرول ٹینکر ہو یا دوسری اشیا کا ٹرک ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا مشکل تھا ۔منی پور میں پٹرول جیسا آتش گیر مادہ بوتلوں میں سڑکوں پر فروخت کیا جاتا تھا ۔اور یہ شدت پسندوں کو بہت آسانی سے دستیاب ہو جاتا تھا ۔
خبر ہے کہ پچھلے 12 گھنٹوں میں تشدد کے دوسرے واقعہ میں لاوارث مکانات کو نذر آتش کیا گیا۔یہ لا وارث مکانات تھے یا نہیں اس کی تصدیق کون کریگا ؟کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ یہاں بنے لکڑی کے چرچوں کو چن چن کر آگ لگائی جارہی ہے ۔اور اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ لا وارث مکانات ہی تھے تو اس کے مکین کہاں گئے ؟یا تو انہیں مار دیا گیا یا پھر شدت پسندوں کے خوف سے انہیں جنگلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔خبر ہے کہ اس تازہ واقعہ کو انجام دینے والے ایک سابق ایم ایل اے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔
وزیر اعلی نونگ تھومبم برین سنگھ نے کہا کہ "ایک اور دور کی بدامنی کو جنم دینے کی سازش کے پیچھے ایک سابق ایم ایل اے کو دو دیگر لوگوں کے ساتھ سین گل بیرل بندوقوں سے لیس اس وقت پکڑا گیا جب انہوں نے سڑک کنارے دکانداروں کو جن میں زیادہ تر خواتین تھیں کو نیو چیکون علاقہ خالی کرنے کو کہا اور دکانداروں کے انکار کرنےپر صبح تقریباً 10 بجے سابق ایم ایل اے نے مسلح افراد کو اکسایا، انہوں نے کہا کہ عہدیداروں نے بتایا ہے کہ جیسے ہی انتشار کی خبر پھیلی، ایک ہجوم نے حملہ کیا اور کچھ لاوارث مکانات کو نذر آتش کردیا۔ لیکن وہاں موجود فوج اور پیرا ملٹری کے جوانوں نے جلد ہی علاقہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ۔
خبر کے مطابق 12 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا واقعہ تھا۔ اتوار کی رات کو بھی امپھال کے مغربی ضلع میں تین افراد زخمی حالت میں ہسپتال پہنچائے گئے ۔ جب ایک شخص نے ڈبل بیرل بندوق لے کر ان پر حملہ کیا۔ اس حملہ آور شخص کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چنگ کھومنگ کپگن کے نام سے شناخت کیے گئے ایک شخص کو اتوار کی رات گاؤں موئڈنگ پوک میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ملوث پائے جانے کے بعد امپھال ویسٹ ضلع سے 12 بور کی شاٹ گن اور سات کارتوسوں کے ساتھ پکڑا گیا۔ تینوں زخمیوں کو ریجنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مزید خبر ہے کہ سیکورٹی فورسز نے پیر کی صبح نیو چیکون کے علاقے میں سڑک کنارے دکانداروں کو دھمکی دینے کے بعد تین مشتبہ افراد کو دو سنگل بیرل 12 بور بندوقوں کے ساتھ بھی پکڑ ا گیا ہے ۔انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی کی ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی شک یا شبہ ہو، براہ کرم پولیس اور ہنگامی نمبروں سے رابطہ کریں ۔الغرض ملک کا وہ سب سے سرسبز اور قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ آج مہینوں سے فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہے ۔لیکن امن و امان کے ذمہ دار سیاسی رہنماؤں کو بغلیں بجانے سے فرصت نہیں کہ پورے نارتھ ایسٹ پر بھگوا جھنڈا لہرا رہا ہے ۔












