يمن:اے ایف پی کے صحافیوں اور سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کے لیے جمعے کو ایرانی شہروں اور حوثیوں کے زیرِ قبضہ یمنی دارالحکومت صنعاء میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔
سرکاری نیوز ایجنسی آئی آر این اے نے بتایا کہ بدھ کے روز حکام نے لبنان میں حزب اللہ تحریک کی حمایت اور "فلسطین میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم کی مذمت” کے لیے مظاہروں کی کال دی تھی جس کے جواب میں یہ مظاہرے تہران اور دیگر ایرانی شہروں میں کیے گئے۔
حزب اللہ شرقِ اوسط میں ایران سے منسلک مسلح گروہوں "محورِ مزاحمت” کا حصہ ہے جنہوں نے حماس کی حمایت میں اسرائیل اور امریکی افواج کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس اتحاد میں یمن کی حوثی ملیشیا بھی شامل ہے جس نے اسرائیل پر میزائل داغنے کے ایک دن بعد جمعے کو دارالحکومت صنعاء میں دسیوں ہزار افراد کے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ تہران میں نمازِ جمعہ کے بعد شہر کے وسط میں انقلاب سکوائر کے ارد گرد ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرین نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی تصاویر کے ساتھ ساتھ فلسطین اور حزب اللہ کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے۔لبنان میں خون ریزی” کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے نعرے لگائے، "اسرائیل تباہ ہو چکا ہے۔ لبنان فاتح ہے۔” مظاہرین نے اسرائیلی اور امریکی پرچم نذر آتش بھی کیے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے سمنان، قم، کاشان، کرمانشاہ، شیراز اور بندر عباس میں دیگر مظاہروں کی فوٹیج نشر کی۔
صنعاء جسے ایرانی حمایت یافتہ حوثی مسلح گروپ نے ایک عشرے سے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، وہاں ہزاروں کی تعداد میں نعرے لگانے والے مظاہرین جمع ہوئے جن میں کئی رائفلیں اور پلے کارڈز لہرا رہے تھے۔
حوثی حامی مرتضیٰ المتوکل نے کہا، "ہم لبنان میں اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ انشاء اللہ آپ کی فتح ہوگی۔ یہ جنگ اسرائیلی دشمن کے ساتھ نہ پہلی ہے اور نہ ہی آخری لیکن ان شاء اللہ یہ اسرائیل کے لیے 2006 کی جنگ سے زیادہ تکلیف دہ ہو گی۔”
ایک اور مظاہر محمد مشکی نے کہا: "خواہ جنگ کتنی ہی طویل اور بڑی ہو، ہم ان کے ساتھ ہیں، ہم فتح حاصل کرنے تک تمام یمنی عوام، لبنانی اور فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں ان شاء اللہ۔”اسرائیل کے اتحادی اور مظاہروں پر سخت پابندی رکھنے والے بحرین میں دو مظاہروں میں غزہ میں جنگ اور لبنان پر بمباری کی مہم کی مذمت کی گئی۔
منامہ کے شمال میں واقع ایک گاؤں میں سینکڑوں افراد نے غزہ اور لبنان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مارچ کیا اور دارالحکومت میں سینکڑوں لوگوں نے فلسطینی اور لبنانی پرچم لہرائے اور اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے نعرے لگائے، "لوگ تعلقات کو معمول پر لانے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”پیر کے دن سے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو لبنان کی 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد مہلک ترین تشدد ہے۔












