کانپور،سماج نیوز سروس : موتی نگر جاجمؤ واقع مسجد اقصیٰ میں ایک خصوصی اصلاحی نشست و درسِ قرآن جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی زیر نگرانی منعقد ہوئی، جس میں معروف عالم دین اور حضرت مولانا پیر فقیر ذو الفقار احمد نقشبندی رحمۃ اللہ کے خلیفہ و مجاز مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی نے فکر انگیز خطاب فرمایا۔ اس موقع پر شہر کے ممتاز علماء، دانشوران اور کثیر تعداد میں عوام موجود رہے۔ مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نے خطاب میں سورہ کہف کی آخری آیات کی روشنی میں درس دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر دینی بیانات اور درسِ قرآن سننے کا معمول بنانا چاہیے۔ انہوں نے فرمایا کہ رات کو سونے سے پہلے اللہ والوں کے بیانات سننے سے وہ باتیں ذہن میں پیوست ہو جاتی ہیں اور نیند کی حالت میں بھی انسانی دماغ مثبت رخ پر کام کرتا رہتا ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے سائنسی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نیند میں بھی سننے کی صلاحیت بیدار رہتی ہے، لہٰذا اگر سوتے وقت قرآن یا کوئی خیر کی بات سنی جائے تو وہ انسانی شخصیت اور تربیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ مولانا نے شرک کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ شرک محض بت پرستی کا نام نہیں بلکہ اللہ کے علاوہ کسی اور ذات یا سبب (مثلاً دکان، کاروبار یا عہدہ) پر ایسا بھروسہ کرنا کہ اللہ کا حکم پیچھے رہ جائے، یہ بھی شرک کی ایک جڑ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ،جب انسان دکان کو رزق کا ضامن سمجھ کر نماز چھوڑ دیتا ہے تو یہیں سے شرکِ خفی کی ابتدا ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیتوں پر ہے اور جب تک دل کی اصلاح نہ ہو، ظاہری اعمال بے وزن رہتے ہیں۔ جنت الفردوس اور انسانی نفسیات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ انسان فطرتاً کمال کا طالب ہے، اسی لیے دنیا کی کوئی بھی آسائش اسے مستقل مطمئن نہیں کر پاتی۔ یہ کمال صرف جنت میں ملے گا جہاں سے انسان کبھی نکلنا نہیں چاہے گا۔ انہوں نے سورہ کہف کی روشنی میں بتایا کہ جن کے دلوں میں ایمان اور عملِ صالح ہوگا، وہی جنت الفردوس کے حقدار ہوں گے۔ اس مجلس میں کثیر تعداد میں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔نشست کا اختتام رقت آمیز دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی فلاح اور باطنی اصلاح کی خصوصی دعائیں کی گئیں۔












