گجرات میں جہا ایک جانب بی جے پی میں کامیابی کا جشن ہے اور اس کی مودی حکومت تعریف کرتے نہیں تھک رہی ہے ،وہیں دوسری جانب ہماچل میں کانگریس پارٹی کی بڑے فرق سے جیت پر اس کی کامیابی کو سراہا جارہا ہے لیکن اسی بیچ گجرات میں اس کی کار کردگی پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں اور تنقیدوں کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے ،اب اپنوں کی بھی تنقید اور تبصرے سامنے آنے لگے ہیں ۔پارٹی کے ایک بڑے لیڈر اور ایک سابق وزیر کا خیال ہے کہ کانگریس اگرچہ ہماچل میں جیت گئی ہے لیکن اسے گجرات میں ہار سے سبق سیکھنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہا سابق مرکزی وزی ارو کانگریس کے ایک بزرگ لیڈر پی چدمبر نے ایک نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔وہ کافی تلخ نظر آئے اور کانگریس پر تنقید سے ذرا نہیںہچکچائے ۔پی چدمبرم نے کانگریس کو آئینہ دکھاتے ہوئے اس کی ہار پر سخت تبصرہ کیا ،تاہم انہوںنے یہ بھی کہا کہ کانگریس میں اپوزیشن کی لیڈر شپ والی خصوصیات بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ’’ایک محور ‘‘ بننے کیلئے بہترین پوزیشن میں ہے جس کے ارد گرد 2024 کے عام انتخابات کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مخالف محاذ بنایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ چدمبرم نے کانگریس کی ہار کے اسباب کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انتخابات میں’خاموش‘ انتخابی مہم جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی ،اور اس ہار کے پیچھے عام آدمی پارٹی کا ہاتھ ہے جس نے گجرات میں کانگریس کی محنت پر پانی پھیر دیا اور اسی طرح کھیل خراب کی جس طرح گوا اور اترا کھنڈ میں کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو ہریانہ اور پنجاب کے علاوہ دہلی سے باہر زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلیوں اور دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے حالیہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہئے کہ بی جے پی تینوں میں اقتدار میں تھی، لیکن وہ دو میں ہار گئی ، یہ اس کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہے۔اپنے تبصرے میں چدمبرم نے یہاں تک کہا کہ گجرات میں جیت اہم ہے، لیکن اس سے یہ حقیقت نہیں چھپ سکتی کہ حکمراں بی جے پی کو ہماچل پردیش اور ایم سی ڈی میں فیصلہ کن شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان کے علاوہ راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بھی گجرات میں کانگریس کی ہار پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ان کا بھی خیال ہے کہ گجرات میں کانگریس کو ہرانے کے لئے عام آدمی پارٹی نے بڑا رول ادا کیا ہے !۔
اس میں شک نہیں کہ گجرات کی کانگریس ہار اب خود کانگریس کے لیڈروں کو کھٹک رہی ہے ۔امید یہی کی جارہی تھی کہ کانگریس پچاس سے زائد سیٹیں حاصل کر لے گی ،لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کے پیچھے عام آدمی پارٹی کی میدان میں اترنے کی حکمت عملی بڑا سبب بتائی جارہی ہے ۔لیکن اس کا پارٹی کو احساس ہے کہ ریاست گجرات میں کانگریس کو اپوزیشن کا مقام دلانے والا ہندسہ بھی نہیں مل سکا ہے ،جو کہ افسوس کی بات ہے ؟لیکن سوال یہ ہے کہ اب اس پر تبصرہ کیوں کیا جارہا ہے اور آنسو کیوں بہائے جارہے ہیں ، اب اس سے کیا فائدہ ہوگا؟کیا وقت رہتے کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی جاسکتی تھی؟اگر نہیں تو کیوں؟ ،کم از کم قیادت کو بہتر مشورے تو دئے جاسکتے تھے یارہنمائی کی جاسکتی تھی !کیونکہ بعض لیڈر ان اپوزیشن کے ہر قدم کو کھلی آنکھ سے دیکھ رہے تھے اور وہ کسی بھی فیصلے کے لئے آزاد تھے !۔در اصل پچھلے نقصان سے کوئی سبق نہ لینا اور ان کا صرف ذکر کرنا ہماری عادت بن چکی ہے اور ان سے کوئی سبق لینا نہیں چاہتے !۔حالانکہ ابھی وقت گیا نہیں ہے ،کانگریس کے پاس بہتر قوت ارادی ہے تو اس کے پاس کارکنوںکی لمبی فوج ہے اگر وہ صدق دل سے محنت کرے اور ایمانداری سے اپنا رول ادا کرے۔جس طرح سے راہل گاندھی کانگریس کیلئے محنت کررہے ہیں کم از کم اس کو زندہ رکھنے کا عزم کیا جانا چاہئے۔بقول چدمبرم کے کانگریس میں ابھی وہ اسپرٹ باقی ہے جو اپوزیشن پارٹیوں کی سرداری کے اہم رول کو ادا کرسکتی ہے ۔لیکن اس کے لئے اتحاد ،تیقن اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔چدمبرم اور گہلوت کانگریس کے بزرگ لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں اس لئے انہیں الیکشن کی حکمت عملی تیار کرنے میں اپنا اہم رول ادا کرنا چاہئے ۔ ان کے پاس تجربہ بھی ہے اور صلاحیت بھی، جو پارٹی کو جوان اور زندہ رکھنے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے ۔اس لئے وہ آئندہ کسی دیگر ریاستوں میں انتخابات سے قبل اپنے بیباک خیالات رکھنے چاہئیں تاکہ ان کے تجربات پارٹی کے حق میں کسی کام آسکیں۔












