ماضی قریب تک نہایت ہمہ گیروہمہ صفت شخصیتیں ہمارے درمیان موجود تھیں، لیکن ایک ایک کرکے اُن کی جدائی نے اِس محفلِ علم ودانش کوسوناکردیاہے،پھربھی مرشدی و مولائی سیدمحمدرابع حسنی ندوی کی ذات والاصفات ایسی تھی جوآخری شمع کے طورپرمحفل میں فروزاں رہی، اوراپنے اسلاف وخاندان کے امتیاز نیزآن بان شان کی نمائندگی کررہی تھی۔آج دینی مدارس کی سندلے کرنکلنے والے اورعالم وفاضل کے خطاب یافتہ حضرات کی کمی نہیں،لیکن اِن میں صحیح فکراورعلمی ذوق رکھنے والے محدودہوتے جارہے ہیں، درحقیقت یہ قحط الرجال کا دور ہے، جس طرح بارش کے قطروں میں سے چندہی قطرے صدف میں موتی بنتے ہیں اسی طرح سینکڑوں فارغین مدرسہ میں سے چندایسی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں جنھیں گوہرشاہوار کہا جاتا ہے،حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی وسیع المطالعہ اوروسیع النظر عالم دین تھے،وہ صرف اسلاف کے کارناموں سے واقف نہیں تھے اُن کے صحبت یافتہ اور نقشِ قدم پر چلنے والے،مدبر، معلم، مصنف، مقرر اور قائدکی صفات سے متصف تھے۔
حضرت والاکے احوال زندگی پرنظرڈالیں توابتدائی تعلیم اپنے خاندانی مکتب رائے بریلی میں حاصل کی،اِس کے بعددارالعلوم ندوۃ العلماءلکھنؤ میں داخلہ ہوا،اوروہیں سے ۴۹-۱۹۴۸ءمیں فضیلت سے تعلیم مکمل کی،درمیان میں۴۷-۶۴۹۱ءمیں ایک سال دارالعلوم دیوبندمیں بھی تعلیم حاصل کی،ندوہ سے فراغت کے بعدایک سال حجاز(سعودی عرب)میں مطالعہ کے لئے قیام رہا،اوراس دوران وہاں کے علماءسے شخصی طورپراستفادہ کیا۔
۲۵۹۱ئ میں دارالعلوم ندوۃ العلماءلکھنؤ میں عربی ادب کے استاد کی حیثیت سے تقرر ہوا، اورچند سال کے بعدصدرشعبۂ عربی مقررہوئے۔ ۴۹۹۱ئ میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم ، ۸۹۹۱ءمیں نائب ناظم ندوۃ العلماءاورحضرت مولاناسیدابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے انتقال کے بعدجنوری ۰۰۰۲ئمیں ناظم ندوۃ العلماءمنتخب ہوئے،اورحال تک اس منصب کی رونق بڑھارہے تھے۔
حضرت والاہنداوربیرونِ ہندمیں مختلف تعلیمی کمیٹیوں اوراسلامی اداروں کے سربراہ اور رکن بھی رہے، مثلاً ہندوستان میں مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤکے صدر،دینی تعلیمی کونسل اترپردیش کے صدر، دارِ عرفات اکیڈمی رائے بریلی کے صدر،دارالمصنفین اکیڈمی اعظم گڈھ کے رکن، مولانا آزاد اکیڈمی لکھنؤ کے رکن،نیزآل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکے ۲۰۰۲ءسے صدر عالی قدر اور ہندوستان سے باہرکی تنظیموں اوراداروں میں آکسفورڈسینٹرفاراسلامک اسٹڈیز برطانیہ کے ٹرسٹی، رابطہ ادب اسلامی عالمی کے نائب صدراوراس کے شعبہ برصغیراورممالک شرقیہ کے صدر، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے رکنِ تاسیسی اوران کے علاوہ ملک کے مختلف دینی واسلامی مدرسوں کے سرپرست تھے۔حضرت مولاناعلی میاں ندویؒ کے امریکہ،یورپ اورمشرقِ وسطیٰ کے علمی وتعلیمی دوروں میں ان کے ساتھ رہے،اس سے وہاں کے تعلیمی اداروں اورتعلیمی نظام کودیکھنے کاموقع ملا، نیزوہاں کی اہم دینی ،علمی اورسیاسی شخصیت سے ملاقات میں مولاناکے شریک رہے، حضرت مولاناعلی میاں کے علمی واسلامی کاموں میں ان کے علمی معاون رہے اوران کا اعتماد حاصل کیا،مولاناکی تربیت کے نتیجہ میں انہی کی طرح اعتدال وتوازن،اعلیٰ اخلاق،تحمل و بردباری،افہام وتفہیم کے ذریعہ معاملات کوسلجھانے کی صلاحیت مولاناسیدمحمدرابع حسنی ندوی میں بھی پائی جاتی تھی،ملک کے بارے میں ان کانقطۂ نظریہ تھا کہ سیکولرزم، جمہوریت اور عدم تشدداورباہمی رواداری ہی سے یہ ملک ترقی کی منزلیں طے کرسکتا ہے۔ مولاناعلی میاں ندویؒ کی طرح پیام انسانیت کے کام کوآپ بنیادی اہمیت دیتے تھے۔
مختلف ملکوں کے بین الأ قوامی سطح کے سیمناروں اورکانفرنسوں میں شریک ہوکر مقالات پیش کیے،ان مقالات کی تعدادکئی درجن سے متجاوزہے،ادبی ،اسلامی ،تعلیمی اور سماجی موضوعات پرتقریباًتین درجن تصنیفات آپ کے قلم سے نکل چکی ہیں،ان میں سے نصف کے قریب عربی میں ہیں اورتقریباًاتنی ہی اردومیں،اور کئی تصانیف زیرِ طبع ہیں۔حضرت کااپنی طویل تدریسی زندگی میں تعلیمی وتربیتی ذمہ داریوں اور دعوتی وعملی مشغولیتوں کے ساتھ صحافت سے قریبی رشتہ رہاہے ، انھوں نے ۹۵۹۱ءمیں پندرہ روزہ عربی اخبار ”الرائد“ نکالا،اوراس میں مرحوم کے تحریری اداریے،عالم عرب وعجم میں گہری دلچسپی کے ساتھ پڑھے جاتے رہے ،مشرِ ق وسطیٰ کے ممتازادیبوں اورصحافیوں سے اُن کاربط رہا، جومحض صحافی یااہل قلم نہیں تھے بلکہ اپنے دل میں ملت کادردرکھتے ،اورقوم وملت کو درپیش مسائل نیزخطرات سے آگاہ تھے۔”الرائد“کے ساتھ ”البعث الاسلامی“میں بھی مسلسل مضامین شائع ہوتے رہے،جوبیشترعالم عربی کے مسائل سے متعلق ہوتے تھے۔
ندوۃ العلماءکایہ بھی امتیازہے کہ اس نے عربی رسائل کے ساتھ اردوصحافت میں پیش روکی حیثیت برقراررکھی،حضرت مولاناابوالحسن علی حسنی ندویؒ نے آزادی کے بعدپندرہ روزہ”تعمیر“لکھنؤ سے نکالا، اس کے بعد۴۶۹۱ئ میں”تعمیرِ حیات“جاری ہوا،اس اخبار میں بھی مخدومی مولانارابع صاحب کے قلم سے اردومیں اہم مضامین ، حالاتِ حاضرہ کے تجزیے اور تبصرے شائع ہوتے رہے،ان مضامین کاتعلق عالم اسلام میں پیش آنے والے سیاسی اور ثقافتی مسائل سے زیادہ تھا، اورتعلیمی وفکری رجحانات سے ،سامراج اور مستشرقین نیز تجدد پسند مسلمان اہل فکرکی طرف سے جوموادپیش کیاجاتارہااُن پرحضرت کے قلم سے علمی بحث ہوتی رہی اوران کی روشنی میں ملت کی رہنمائی کااہم کام انجام پاتارہا۔روزنامہ ”راشٹریہ سہارا“ اور دیگراردو روزناموں میں بھی اِس نوع کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے رہے۔
مولاناسیدرابع حسنی ندوی ۱۲سال قبل ملتِ اسلامیہ کی نمائندہ تنظیم آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈکااتفاقِ رائے سے صدرمنتخب کیاگیا،تب سے حضرت کی قیادت ورہبری میں یہ ادارہ سرگرمِ عمل تھا،اس عرصہ میں ہندوستانی مسلمان جن صبرآزمامسائل ومشکلات سے دوچار ہوئے ،آپ کی رہبری میں مسلمانوں نے اُن کانہایت پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا، بالخصوص بابری مسجدکے قضیۂ نامرضیہ پرصبروتحمل کامظاہرہ کرکے جہاں قیادت کی اتباع میں ایک مثال قائم کی وہیں دنیاکے سامنے اتحادِ امت کی نظیربھی پیش کی ہے۔حضرت کی خصوصی توجہ سے بھوپال میں مسلم پرسنل لابورڈ کا۸۱واں اجلاس منعقد ہوا اور اُس میں عرصہ سے زیرِ غور”نکاح نامہ“کومنظوری ملی،حضرت کابھوپال شہرسے جورشتہ وتعلق نوجوانی میں اُستوارہوااُس کااعادہ بھی مسلسل ہوتارہا،دارالعلوم تاج المساجدکی مجلسِ شوریٰ، عالمی رابطہ ادبِ اسلامی کے سیمناراوردیگرانعقادمیں آپ کی شرکت ہوتی رہی،بھوپال سے اسی خصوصی ربط وتعلق کے نتیجہ میں یہاں آپ کے دورِ نظامت میں ندوی العلماءکی تین مزید ذیلی درس گاہوں کے قیام کومنظوری ملی،اﷲتعالیٰ سے دعاہے کہ حضرت والا کے درجات بلند فرمائے اور امت کو ان کا نعم البدل فراہم ہو ۔ آمین۔












