واشنگٹن/مشرق وسطیٰ، (ہ س)۔ امریکی فوج نے بحیرہ عرب میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب پہنچے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کوم) کے مطابق ڈرون ’’جارحانہ انداز‘‘ سے جہاز کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کا مقصد واضح نہیں تھا، جس کے بعد اپنے دفاع میں کارروائی کی گئی۔بحریہ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنس نے بتایا کہ ابراہم لنکن سے پرواز بھرنے والے ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ڈرون کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی فوجی ساز و سامان کو نقصان ہوا۔یہ واقعہ ایسے وقت ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی پروگرام کو لے کر سفارتی بات چیت کی کوششیں چل رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ معاہدہ نہیں ہونے کی صورت میں حالات خراب ہو سکتے ہیں۔اسی درمیان، سینٹرل کمانڈ نے ایک اور واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے جڑی کشتیوں اور ایک ڈرون نے امریکی جھنڈے والے ایک تجارتی جہاز کے قریب تیز رفتار سے پہنچ کر اسے روکنے اور قبضے میں لینے کی دھمکی دی۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں بڑھتی فوجی سرگرمیاں اور کشیدگی آنے والے دنوں میں امریکہ-ایران تعلقات کو اور حساس بنا سکتے ہیں، خاص کر تب جب دونوں ممالک بات چیت کے امکانات کو بھی ٹٹول رہے ہیں۔












