بھارت میں سیاسی فساد کا چلن عام ہوچکا ہے۔لیکن افسوس کہ اس موضوع پر نہ تو بات کی جاتی ہے اور نہ ہی سنجیدگی سے لکھا جاتا ہے۔ہاں جب فساد ہوتا ہے تو اخبارات میں خبروں سے لے کر اڈیٹوریل اور کالم میں فساد کا ذکر ضرور ہوتا ہے لیکن وہ سارا کا سارا مواد لیفٹ رائٹ کی سیاست تک ہی محدود رہتا ہے۔اور پھر جیسے ہی پولیس کا یہ بیان سامنے آتا ہے کہ اب علاقہ میں امن ہے یہ موضوع بھی ختم ہو جاتا ہے۔فساد کا ہونا،اس میں انسانی جانوں سمیت گھروں ،گاڑیوں دوکانوں کی لوٹ اور آتش زنی کے بعد ان خاندانوں کی تفصیل سامنے آتی ہی نہیں جن کاسب کچھ سواہا ہو چکا ہوتا ہے۔ان سیکڑوں لوگوں کی کسی کو خبر نہیں ہوتی جو پولیس کے ذریعہ گرفتار کر کے جیل رسید کئے جا چکے ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ تر بے گناہ ہوتے ہیں جو یا تو چھوٹا موٹادھندہ کرنے والے لوگ ہوتے ہیں یا پھر مزدور طبقہ سے ان کا تعلق ہوتا ہے۔اور پھر شروع ہوتا ہے ان کے اہل خانہ کی بربادی کا دور۔کورٹ کا چکر ،پولیس کی پوچھ تاچھ ،معاشرے میں مشکوک اور بے عزتی کی زندگی۔ پوراخاندان بکھر کر رہ جاتا ہے۔
یوں تو ہمارے ملک میں ہندو مسلم فساد کی روایت بہت پرانی ہے۔لیکن موجودہ سرکار میں اس فساد کا بالکل نیا پیٹرن سامنے آیا ہے جس میں جانی نقصان بھلے ہی کم ہو لیکن دہشت کا ایک ایسا ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ غریب اور کم پڑھے لکھے مسلمان ان فسادیوں کے رعب میں آکر ان کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔یہ ایک طریقہ کار بن چکا ہے کہ ان یاتراؤ ں کا روٹ وہیں سے ہوکر گذرتا ہے جہاں مسلمانوں کی گھنی آبادی ہو ،کم از کم مسجد و مدارس ان کے راستے میں ضرور ہو جہاں پہنچتے ہی نارمل سے نظر آنے والے جلوس کے لوگ درندوں کی طرح اچھلنے لگتے ہیں۔ڈی جے اور ڈھول کی آواز تیز ہوجاتی ہے اور خاص طور پر مساجد کے آگے سارا جلوس رک کر طوفان بد تمیزی شروع کر دیتا ہے جس میں مسلمانوں کےخلاف مشتعل کرنے والے نعرے لگائے جاتے ہیں اور عین اسی وقت اس بھیڑ پر کہیں سے ایک پتھر آکر گرتا ہے اور جیسے یہ اشارہ ہوتا ہے کہ اب حملہ آور ہونا ہے۔ اور پھر اس عمل کا شدید ردعمل ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دکانیں ،گاڑیاں گھر اور مساجد و مدارس سے آگ کے شعلے اٹھنے لگتے ہیں۔تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ اس پیٹرن پر فسادات ہو رہے ہیں۔اور بیانات کے ذریعہ یہ باور کرایا جاتا ہے کہ حملہ پہلے مسلمانوں کی جانب سے کیا گیا۔اور جلوس کے لوگ اس حملے سے بے قابو ہو گئے۔ایف آئی آر میں بھی پولیس یہی دکھاتی ہے کہ جلوس امن و سکون کے ساتھ جا رہا تھا کہ یکایک سنگ باری شروع ہو گئی اور اس کے ری ایکشن میں یہ سب ہوا۔لیکن عدالت میں بھی یہ بات بحث کا حصہ نہیں بن پاتا کہ( ۱)مسلم اکثریتی علاقہ سے جلوس نکالنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ (۲) پولیس کی موجودگی کے باوجود جلوس مسجد کے سامنے روکا کیوں گیا؟(۳)جلوس پر پتھر بازی کرنے والا پہلا شخص کبھی بھی گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟
اور اس کا نتیجہ ہے کہ اصل مجرم کبھی قانون کے دائرے میں نہیں آ پاتا اور دونوں طرف کے بے قصور لوگ تباہ ہو جاتے ہیں۔
اب یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ زیادہ تر فسادات میں جانی نقصان تو کم ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔اور جو خوفناک ماحول خلق ہوتا ہے اس سے متاثرہ طبقہ کبھی باہر نکل ہی نہیں پاتا۔کیونکہ عدالتوں میں انصاف دلانے والی پولیس بھی کہیں نہ کہیں شدت پسندوں کے ساتھ ہی کھڑی ہوتی ہے۔ایف آئی آر سے لے کر سی سی ٹی وی فوٹیج تک سب کچھ پولیس کے رحم وکرم پر ہوتا ہے اور اسی پولیس کے ذمہ تفتیش بھی اور اسی کی بنیاد پر چارج شیٹ بھی داخل ہوتا ہے اور عدالت کا فیصلہ بھی ان ہی شواہد کہ بنیاد پر ہوتا ہے تو پھر یہ کیسی قرار واقعی سزا ہے اور اس قرار واقعی سزا کی بنیاد پر ایسے فسادات کو کیونکر روکا جاسکتا ہے جس میں سیاست بھی شامل ہو۔
2014کے بعد سیاسی منظر نامہ کا جائزہ لیا جائے تو مرکز صرف ان ریاستوں کو ہی قابل اعتماد اور دیش بھکت ریاست سمجھتی ہے جہاں اس کی حکومت ہے۔دیگر ریاستوں سے اس کا معاندانہ رویہ انتہائی بدبختانہ ہے۔ان دنوں ہر غیر بی جے پی ریاست کا مرکز سے تعلق کشیدہ ہے جسے معمول پر لانے کی پہل بھی کبھی مرکز کی طرف سے نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ ہے کہ اس قسم کے فسادات کے بعد بی جے پی کے لوگ پہلا ڈیمانڈ یہی کرتے ہیں کہ ریاستی سرکار کو برخواست کیا جائے۔اور پھر تلے اوپر بیان بازی کا وہ بازار گرم ہوتا ہے کہ اصل واقعہ یا سانحہ کہیں اور رہ جاتا ہے اور میڈیا میں یہ خبر موضوع بحث ہو جاتی ہے کہ ہندوؤ ں کے جلوس پر مسلمانوں کی جانب سے پتھر بازی ہوتی ہے۔یہ مسلمان ہندوؤ ں کو اپنے ہی ملک میں مذہبی جلوس نکالنے نہیں دینا چاہتے۔رام کا جلوس بھارت میں نہیں نکلے گا توکیا پاکستان میں نکلے گا،وغیرہ وغیرہ۔
اور یہی مکالمہ نعرہ بن کر فضا کو زہر آلود کرتا ہے۔جو فساد ماب لنچنگ ،زہریلے بیانات اور دو مذاہب کے درمیان تصادم کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں سے تو اب یہ توقع بھی نہیں کہ وہ نفرت کے ان فصلوں کو اجاڑنے کی ہمت کریںگے لیکن عدالت عالیہ کا دم غنیمت ہے اور اب عام لوگوں کی پر امید نگاہیں صرف عدالت عظمی کو دیکھ رہی ہیں۔












