بنگلورو، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتوار کو ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے وزیر اعظم نریندر مودی سے پوچھا کہ گاندھی جی کی وجہ سے ’گاندھی ٹوپی‘ مشہور ہوئی۔ نہرو کی شرٹ نہرو کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ آپ کی جیکٹ بھی مشہور ہے۔ آپ روزانہ چار جیکٹیں سرخ، پیلے، نیلے اور زعفرانی پہنتے ہیں۔ اب یہ ’مودی جیکٹ‘ کے نام سے مشہور ہو رہی ہے۔ کانگریس صدر نے مزید کہا کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں صرف ‘مودی-مودی کا نعرہ لگتا ہے ۔ ارے! اس خطے اور ملک کا بھلا کریں۔ کیا کانگریس کو گالی دینے سے ملک ترقی کرے گا؟
کلبرگی ضلع سے تعلق رکھنے والے، کھرگے نے ہندوستان کی آزادی میں آر ایس ایس اور بی جے پی کی شراکت کا مسئلہ اٹھایا، اور دعویٰ کیا کہ جب کانگریس والے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے، آر ایس ایس کے لیڈر سرکاری عہدے حاصل کرنے میں مصروف تھے۔کرناٹک میں 10 مئی کو ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے یہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کھرگے نے کہا، ’’مودی کہتے رہتے ہیں کہ کانگریس نے پچھلے 70 سالوں میں کیا کیا ہے۔ ارے بھائی، اگر ہم نے 70 سالوں میں کچھ نہیں کیا ہوتا تو آپ وزیر اعظم نہیں ہوتے ۔ ہم نے آزادی دلائی۔ مہاتما گاندھی نے خطرہ مول لیا۔ اور اپنی جان گنوا کر آزادی ہمیں دے دی۔
کانگریس صدر کھرگے نے کہا کہ کانگریس نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے کہا کہ وہ ہندوستانی آئین لکھیں۔ اس نے ووٹ کا حق سمیت عوام کو مساوی حقوق دیے۔ اگر دلت، قبائلی اور دیگر پسماندہ طبقے کے لوگ پنچایت صدر، ایم ایل اے، ایم پی اور وزیر بن رہے ہیں تو اس کی وجہ کانگریس کے ذریعہ ملک کو دیا گیا آئین ہے۔ یہ 70 سال سے پہلے ممکن نہیں تھا۔کھرگے نے الزام لگایا کہ نہ تو آر ایس ایس اور نہ ہی بی جے پی نے ملک کی آزادی کے لیے جنگ لڑی۔ ہم نے ہی اس کے لیے جدوجہد کی۔ آپ میں سے کوئی بھی جیل نہیں گیا، آپ کی پارٹی کا کوئی بھی پھانسی پر نہیں چڑھا۔آر ایس ایس نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ دوسروں کو آزادی کے لیے لڑنے دیں۔ ان کے کیڈر کی توجہ سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے پر ہونی چاہیے۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ ان کے تمام کارکنوں کو حکومت اور فوج میں ملازمتیں بھی ملیں اور وہ ان جگہوں پر گئے جہاں اچھی گنجائش تھی۔
کانگریس صدر کھرگے نے الزام لگایا کہ کرناٹک سے منتخب ممبران پارلیمنٹ ریاست سے متعلق کوئی مسئلہ وزیر اعظم کے ساتھ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ انہیں ان سے ملنے کا موقع نہیں ملتا۔ مودی ان (ایم پیز) سے بات بھی نہیں کرتے۔ وہ دور درشن کی طرح ہیں – ان کا درشن دور سے ہی ہو سکتا ہے ۔ ہم اپنے وزیر اعظم کو ٹی وی پر دیکھ سکتے ہیں یا ریڈیو پر ان کے من کی بات سن سکتے ہیں ۔کانگریس کے صدر نے عوام کو یقین دلایا کہ 13تاریخ کو کرناٹک میں کانگریس سرکار بنانے جا رہی ہے ۔اور پھر باری آئے گی وعدے پورے کرنے کا جسے پورا کر کے دکھائینگے ۔












