قرآن کریم اللہ تعالی کی آخری آسمانی کتاب ہے۔ بطورمعجزہ اللہ نے اس کو اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔اس کا ایک ایک حرف مبنی بر حقیقت اور مسلمانوں کے لئے شریعت اور دین کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کتاب کا منکر مسلمان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔سیکڑوں سال گزرنے کے باوجود اس کی کسی آیت میں زیر وزبر کی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اللہ تعالی کا کھلا چیلنج ہے کہ قیامت تک کوئی اس میں ایک حرف کی تبدیلی نہیں کرسکتا۔جن لوگوں نے ماضی میں اس آسمانی کتاب کو جھوٹا ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی سب کو منہ کو کھانی پڑی۔ وہ لوگ بھی ذلیل وخوار ہوئے اور اخروی گرفت سے قبل دنیا میں اللہ کے عذاب وعقاب کے شکار ہوئے جنہوں نے اس کی توہین کے مرتکب ہوئے۔
قرآن کریم کی خدمت ہر مسلمان مرد وعورت کی سعادت ہے۔ہر کوئی اس سعادت مندی سے بہرور ہونا چاہتا ہے۔اس کی سعادتیں مختلف اعتبار سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس کی تلاوت سعادت ہے۔اس کو سمجھنا سعادت ہے۔اس کو لکھنا سعادت ہے۔اس کی نشر واشاعت سعادت ہے اور سب سے بڑی سعادت اس پر عمل کرنا ہے۔لیکن افسوس اس وقت مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کے حقوق و واجبات سے غافل ہیں۔ تقریبا ہر گھر مسلمان کے گھر میں مصحف موجود ہوتاے لیکن سوائے مخصوص اوقات کے قرآن کریم سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔ بطور زینت گھروں میں رکھا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے مسلمانان پوری دنیا میں ذلت و رسوائی سے دوچار ہیں۔مسلمانوں کی حالات میں اس وقت تک سدھار ممکن نہیں جب تک وہ کتاب الہی سے اپنا رشتہ مکمل طور سے استوار نہ کریں،رشتہ برائے نام نہیں بلکہ عملی رشتہ ہونا چاہئے جیسا کہ صحابہ کرام کا رشتہ تھا۔ ہر لمحہ قرآن کے ساتھ بسر ہوتا تھا۔جس کی وجہ سے انہوں نے دنیا پر فتوحات حاصل کیں،اللہ کی زمین میں وحدانیت کو قائم کیا۔
اس وقت پچاس سے زائد اسلامی ممالک ہیں۔ہر ایک ملک اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اپنی استطاعت کے مطابق کرتا ہے۔خدمات کی شکلیں مختلف ہیں۔خدمات کے ضمن میں اسلام کے بنیادی مصادر کتاب وسنت کی خدمات سب سے نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔اس معاملے میں خلیج عرب کی خدمات دیگر اسلامی ملکوں کے مقابل سب سے زیادہ ہیں۔خلیجی ملکوں میں بھی مملکت سعودی عرب سے سب پر فوقیت رکھتا ہے۔کتاب وسنت کی خدمات جس اعلی پیمانے پر سعودی عرب کررہا ہے وہ پوری اسلامی دنیا کے لئے مثال ہے۔بالخصوص قرآن کریم کی خدمت کی بات کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کا کوئی ایسا حصہ نہیں جہاں’’ کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس‘‘ کا طبع شدہ مصحف پایا نہ ہوجاتا ہو۔چھوٹے بڑے،معری،مترجم دنیا کی 72زندہ زبانوں میں کمپلیکس نے مصحف شائع کیا ہے۔جس کی تقسیم سعودی حکومت بڑے منظم طریقے سے کرتا ہے۔ اس کمپلیکس میں شب وروز ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں۔ جن کی عربوں میں تنخواہیں ۔ ان ملازمین کو عمدہ قسم کی سہولیات پیش کی جاتی ہیں۔روزانہ کمپلیکس کے ذریعہ براہ راست زائرین کو بھاری تعداد میں ان کی مادری زبان میں مفت مصاحف دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح دنیا کے الگ الگ ملکوں میں سعودی حکومت کے خرچ پر یہ مصاحف بھیجے جاتے ہیں تاکہ لوگ آسمانی پیغام سے روشناس ہوسکیں۔ان مصاحف کا کوئی معاوضہ یا بدل سعودی حکومت کسی سے نہیں طلب کرتی۔حالانہ سعودی عرب کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ مصاحف کی طباعت پرخرچ ہوتا ہے۔احادیث وتفاسیر کی وہ کتابیں الگ ہیں جو قرآن کمپلیکس یا سعودی عرب کے دوسرے مراکزسے مسلمانوں میں مفت تقسیم ہوتے ہیں۔بعض کتابیں کئی کئی جلدوں میں ہوتی ہیں،تاہم ان کی کوئی قیمت وصول نہیں کی جاتی۔اسلام اور مسلمانوں کی یہ خدمات ان ناقدین کے لئے زور دار طمانچہ ہیں جو ہمہ وقت اس مملکت کی تنقید کیا کرتے ہیں۔
شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود نے گزشتہ دنوں یہ فرمان صادر کیا کہ اس سال رمضان المبارک کی مناسبت سے دنیا کے 22ملکوں میں مختلف زبانوں میں دس لاکھ(1000000) مصاحف تقسیم کئے جائیں گے۔یہ مصاحف اسلامی مراکز اور مکاتب کے ذریعہ عام لوگوں تک پہنچیں گے۔یقینا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ان کے فرزند ولی عہد محمد بن سلمان حفظہما اللہ اسلام او رمسلمانوں کی خدمات کی وجہ سے دنیا کے تمام مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔اس دور میں جبکہ ساری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو ہدف طعن بنایا جارہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی طرف سے لوگوں کا رجحان تیزی سے کم ہورہا ہے۔ سعودی عرب کا دین کی ترویج واشاعت کے لئے کمربستہ رہنا اور ہر قسم کے سیاہ وسفید کو خرچ کرنا معمولی بات نہیں۔سعودی عرب کی یہی انفرادیت ہے جس کی وجہ سے عام مسلمانان اس مملکت سے محبت کرتے اور اس کی دفاع کے لئے ہمہ وقت تیار کھڑے رہتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں امن و وامان ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔حالانکہ قرآن کریم کے مطابق امن وامان کے استحکام کا واحد ذریعہ اللہ کے پیغام کو تسلیم کرلینے میں ہے۔اور چونکہ سعودی عرب کی بنیاد قرآن وحدیث پر ہے اس لئے اول دن سے سعودی عرب ہر قسم کی شدت پسندی اور دہشت گردی کی مخالف کرتا ہے۔بالخصوص شاہ سلمان بن عبد العزیز اور محمد بن سلمان نے ہر اس فکر وخیال کی بیخ کنی کی ہے جس سے ملک کا امن وامان اور استحکام متاثر ہوتا ہو۔داخلی امان وامان کی طرح عالمی کے لئے بھی سعودی عرب کوشاں ہے اور اس کے لئے جو بھی تعاون ہوسکتا ہے اس کو بروئے کار لانا سعودی عرب اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتا ہے۔
ماضی قریب میں سعودی عرب نے ترکی اور شام کے لئے جو کچھ کیا پوری دنیا نے دیکھا۔زلزلہ متاثرین تک راحت پہنچانے کے لئے شاہ سلمان بن عبد العزیز اور محمد بن سلمان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھا۔مدد کی جو بھی صورت ہوسکتی تھی ساری صورتیں اختیار کیں یہاں تک کہ ترکی صدر اردوگان کو اعتراف کرنا پڑا کہ امداد کے معاملے میں سعودی عرب سب سے نمایاں ہے۔ایسا ہی معاملہ مصحف کی خدمت اور اس کی نشر وشاعت کا ہے۔خدمت تو تمام ممالک کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے مگر سعودی عرب سب پر فوقیت رکھتا ہے،اس کی کاوشیں سب سے نمایاں اور قابل صد ستائش ہیں۔












