کانپور،سماج نیوز سروس :”رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہے اور اس ماہِ مقدس کے روزوں کا اصل مقصد انسان کے اندر تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرنا ہے۔ جس طرح حجِ مبرور کی علامت یہ ہے کہ حاجی کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ جائے، اسی طرح رمضان کی عبادات کی قبولیت کی کھلی نشانی یہ ہے کہ انسان رمضان کے بعد گناہوں سے تائب ہو کر نیکیوں کا خوگر ہو جائے۔” ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے آج جامع مسجد اشرف آباد میں ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کے موقع پر نمازِ جمعہ سے قبل ایک کثیر مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فرزندانِ توحید کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے انتہائی یکسوئی کے ساتھ اس پرمغز بیان سے استفادہ کیا۔ مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ جاری ہے، اور اب وقت ہے کہ ہم اپنا کڑا محاسبہ کریں کہ جو دن گزر گئے وہ ہم نے کس حال میں گزارے۔ انہوں نے شبِ قدر کی اہمیت، طاق راتوں کی فضیلت اور صلوٰۃ التسبیح کے اہتمام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ساعتیں اللہ کی خاص رحمت کے نزول کی ہیں، لہٰذا انہیں خلوصِ دل سے عبادت، تلاوت، اور سچی توبہ میں گزارنا چاہیے۔ نئی نسل کی دینی تربیت کے حوالے سے گہری فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء اترپردیش نے فرمایا کہ والدین کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی عبادات اور دینداری کی فکر کریں۔ انہوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی نسلوں سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہمارے بعد وہ کس راستے پر چلیں گے۔ مولانا نے واضح کیا کہ دین سیکھنا ہر مسلمان مرد، عورت، بوڑھے اور جوان پر فرضِ عین ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر علاقے میں لڑکیوں، خواتین اور بڑی عمر کے افراد کے لیے دینی تعلیم کے خصوصی نظم کا ارادہ کیا گیا ہے تاکہ ہر شخص صحیح معنوں میں مسلمان بن کر زندگی گزار سکے۔ مشرقِ وسطیٰ سمیت عالمی سطح پر اور ملک کے موجودہ حالات پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا قاسمی نے فرمایا کہ آج مسلمانوں کی پریشانیوں کی بنیادی وجہ احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں دلوں کے اندر ’وہن‘ (دنیا کی محبت اور موت کا ڈر) کا پیدا ہو جانا ہے۔ انہوں نے صاحبِ ثروت اور کاروباری حضرات کو خصوصی طور پر متوجہ کیا کہ وہ اپنی دولت کو محض ذاتی کوٹھیوں کی تعمیر اور آسائشوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ملت کی فلاح و بہبود کے لیے معیاری اسکول، کوچنگ سینٹرز اور ہسپتال قائم کریں جن سے نسلیں اور انسانیت دیرپا فائدہ اٹھا سکیں۔ خطبے کے اختتام پر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے امتِ مسلمہ کے موجودہ حالات کی بہتری، مظلوموں کی داد رسی اور رمضان کی عبادات کی قبولیت کے لیے انتہائی رقت انگیز اور جامع دعا فرمائی، جس میں کثیر تعداد میں موجود عوام نے پورے خضوع و خشوع کے ساتھ آمین کہا۔












