تہران (ہ س)۔امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے پانچویں دور کا آغاز کل جمعے کے روز متوقع ہے، تاہم اسرائیل ان مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کی جوہری تنصیبات پر فوری حملے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی خفیہ ذرائع کے مطابق، حالیہ دنوں میں اْن کا اندازہ ایک معاہدے کے قریب پہنچنے سے ہٹ کر مذاکرات کے ممکنہ طور پر ناکام ہونے کی جانب مائل ہو گیا ہے۔ایک ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج سمجھتی ہے کہ کامیاب حملے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے، اس لیے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل کو جلدی کارروائی کرنا ہو گی۔ البتہ اس عجلت کی وجہ واضح نہیں کی گئی۔ ایک اور ذریعے نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ان مذاکرات کے خاتمے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی کارروائی پر آمادہ کیا جا سکے۔اس تناظر میں نیتن یاہو نے اعلیٰ سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام کے ساتھ ایک اہم خفیہ اجلاس بھی منعقد کیا۔ دوسری طرف امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل صدر ٹرمپ کی منظوری کے بغیر بھی کارروائی کر سکتا ہے۔یہ معلومات ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہیں جب دس دن قبل مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے ایرانی مذاکرات کار عباس عراقچی کو عمانی ثالثی کے ذریعے ایک تحریری تجویز پیش کی تھی، جس کی ایران نے تردید کی ہے۔اگرچہ 12 اپریل سے جاری چار مذاکراتی ادوار کو مثبت قرار دیا گیا، تاہم یورینیم کی ملکی سطح پر افزودگی کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روب?و اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ویٹکوف نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کسی بھی سطح پر افزودگی کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب ایران نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے یورینیم” افزودگی کو "سرخ لکیر” اور پر امن مقاصد کے لیے اپنا حق قرار دیا ہے۔












