ایران:ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اس خطے کو سات اکتوبر کو ہونے والے حملے کی ضرورت تھی۔
انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ آٹھویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 36 ہزار سےتجاوز کرگئی ہے۔
یہ جنگ گذشتہ برس سات اکتوبر کو غزہ کے اطراف میں اسرائیلی بستیوں پر حماس کے حملے سے شروع ہوگئی تھی۔انہوں نے آج سوموار کو تہران سے ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کی 35 ویں برسی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ حماس کا حملہ خطے کے لیے صحیح وقت پر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "فلسطینیوں نے اسرائیلی دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے ایک نازک دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ بچ نہیں سکےگا”۔
انہوں نے کہا کہ "صہیونی ریاست کی طرف سے شروع کیا گیا وحشیانہ حملہ خطے کو کنٹرول کرنے کے اس کےناکام منصوبے کا اعصابی ردعمل ہے”۔
ان کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی پر تباہ کن جنگ نے مسئلہ فلسطین کو دنیا میں اولین حل طلب مسئلہ بنا دیا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی پٹی پر کئی مہینوں سے اسرائیلی بمباری جاری ہے، جس میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں اور ڈیڑھ ملین سے زائد فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اس موقعے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے گذشتہ ماہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے انتخابات بر وقت کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 جون کو ملک میں صدارتی اہم ہیں اور وقت پر گے۔
انہوں نے خمینی کی برسی کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب میں اعتراف کیا کہ رئیسی کی ہلاکت کے واقعے کے اندرون ملک اور بین الاقوامی سطح پر اثرات مرتب ہوئے”۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صدارتی انتخابات کا "عالمی سطح پر مضبوط اثر” پڑے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اب تک صدارتی انتخابات میں اپنے ناموں کا اندراج کرنےوالے امیدواروں کی تعداد 17 تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم ان درخواستوں کی اہلیت پر گارڈین کونسل آنے والے دنوں میں فیصلہ کرے گی۔
درخواست دہند گان امیدواروں میں سب سے نمایاں سابق صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے اسپیکر، محمد باقر قالیباف، ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر علی لاریجانی، سعید جلیلی کے علاوہ جوہری فائل میں سابق چیف مذاکرات کار اور خامنہ ای کے معتمد خاص واحد حقانیان کے نام شامل ہیں۔
19 مئی کو ایرانی صدر رئیسی، وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر عہدیدار ایران کے صوبہ آذربائیجان کے شہر تبریز کے قریب ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔












