کرن تھاپر ملک کے ایک مشہور و معروف اور بے باک صحافی ہیں، یہ وہی صحافی ہیں کہ جنہوں نے 2007 میں گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور ملکِ ہند کے موجودہ وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی سے اپنے انٹرویو میں گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام اور گجرات فسادات جیسے حساس موضوع پر مسلسل سوال کر رہے تھے؛ چنانچہ وہ ان سولاات کے جوابات سے بچتے ہوئے درمیان میں ہی انٹرویو ختم کرتے اور یہ کہتے ہوئے: ”اپنی دوستی بنی رہے“ وہاں سے اٹھ گئے تھے۔کرن تھاپر نے ملک ہند کی ریاست جموں و کشمیر کے سابق گورنر ”ستیہ پال ملک“ سے ایک انٹرویو لیا جو کہ یوٹویوب چینل ”دا وائر“ پر 14 اپریل 2023 کو نشر ہوا۔ اس انٹرویو کا دورانیہ ایک گھنٹہ 9 منٹ ہے۔ اس انٹرویو کا اکثر حصہ انگریزی میں ہے؛ جب کہ متعدد مقامات پر ہندی میں بھی سوال و جواب ہوئے ہیں۔
انٹرویو کے آغاز میں کرن تھاپر نے جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے دعوں کے بیچ ان کے ذریعے اسمبلی کو تحلیل کیے جانے کے متعلق سوالات کیے۔ جس کا انہوں نے اپنے انداز میں جواب دیا۔
اس کے بعد دوسرا؛ مگر سب سے حساس اور سب سے اہم سوال 14 فروی 2019 کو ہوئے ”پلوامہ حملہ“ کے متعلق کیا کہ:
”فروری 2019 میں سی آر پی ایف کے ہزار فوجیوں کے قافلے کو بذریعہ سڑک کیوں جانے دیا گیا؟ حفاظتی انتظامات کے تمام خطرات تھے، خفیہ ایجنسیوں کے رپورٹ تھی، آپ اس وقت جموں و کشمیر کے گورنر تھے، کیسے اجازت دی؟“ستیہ پال ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ: مجھے حقائق بتانے دیجیے، سی آر پی ایف نے اپنے جوانوں کو لے جانے کے لیے وزارتِ داخلہ سے پانچ ہوائی جہاز مانگے تھے۔ اس وقت راج ناتھ سنگھ وزیرِ داخلہ تھے؛ کیوں کہ اتنا بڑا فوجی قافلہ کبھی بذریعہ سڑک نہیں جاتا ہے۔ مگر وزارتِ داخلہ نے ہوائی جہاز دینے سے انکار کر دیا۔ صرف پانچ ایئر کرافٹ کی ضرورت تھی، لیکن انہیں ائیر کرافٹ نہیں دیا گیا۔ مجھ سے اگر ایئر کرافٹ مانگتے تو میں کیسے بھی انتظام کر دیتا۔ میں نے اسی شام بذریعہ فون وزیر اعظم کو کہا کہ ہماری غلطی سے ہوا ہے، اگر ہم ایئر کرافٹ انہیں دے دیتے تو یہ سانحہ پیش نہیں آتا۔ تو اس کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ: ”تم ابھی چپ رہو“دوسرے موقع پر انہوں نے وزیرِ اعظم کا جواب کچھ یوں ذکر کرتے ہیں کہ: ”تم ابھی چپ رہو، یہ کوئی اور چیز ہے، ہمیں بولنے دو۔“صحافی کرن تھاپر نے اس حساس موضوع کو الگ الگ انداز میں متعدد بار دہرایا؛ تاکہ جواب مزید مستحکم اور مضبوط ہو جائے؛ مگر ہر بار الفاظ کے رد و بدل کے ساتھ سابق گورنر کا یہی جواب رہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ: قومی سلامتی مشیرِ کار (نیشنیل سکیورٹی ایڈوائزر) اجیٹ ڈوبھال نے کہا کہ: آپ یہ سب مت کہیے، چپ رہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ: سی آر پی ایف کے قافلے کو جس روٹ سے گزرنا تھا، اسے ٹھیک سے سینیٹائز نہیں کیا گیا تھا، حفاظتی انتظامات ناکافی تھے، اس علاقے میں مین شاہراہ سے منسلک متعدد لنک روڈ تھے؛ مگر ایک بھی جگہ پر جپسی یا ایسی کوئی ٹیم (حفاظتی دستہ) تعینات نہیں تھی؛ تاکہ وہاں کوئی داخل نہ ہو سکے۔
بقول سابق گورنر اس وقت وہ لوپ میں نہیں تھے۔ نیز انہوں نے کہا کہ: میں آپ سے شیئر کر سکتا ہوں کہ مجھے لگ گیا تھا کہ اب یہ سارا آنس پاکستان کی طرف جانا ہے تو چپ رہیے۔اس کے بعد صحافی کرن تھاپر نے کہا کہ: مطلب یہ ایک طرح کی سرکار کی پالیسی تھی کہ الزام پاکستان کے سر۔ اور ہم اس کا فائدہ اٹھائیں اور یہ ہمارے الیکشن میں معین و مددگار ثابت ہو؟۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ: جی ہاں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں اس وقت وزیرِ داخلہ ہوتا تو اس سانحے کی ذمہ داری لیتا اور اپنی اس ناکامی کے پاداش میں استعفی دے دیتا۔ یہ دیش کا بڑا نقصان تھا۔ چالیس فوجی جوانوں کی شہادت ہماری ناکامی کی وجہ سے ہوئی۔اگلا سوال تھا کہ: کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی تنظیم اس کے لیے ذمہ دار تھی۔؟ تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے یہ کہا کہ: اس میں کوئی شک نہیں۔ اتنا دھماکہ خیز مواد پاکستان کی ہی مدد سے ملا ہوگا۔ لیکن تین سو کلو کا دھماکہ خیر مواد لے کر ایک گاڑی علاقے میں دس بارہ رروز سے گھوم رہی تھی، اس کا کچھ پتا نہیں چلا۔ یہ انٹیلیجنس کی بھی ناکامی ہے، یہ سلامتی کی بھی ناکامی ہے۔ انڈین سسٹم کی بھی ناکامی ہے۔ میں بھی ذمہ دار ہوں؛ کیونکہ میں اس وقت جموں و کشمیر کا گورنر تھا۔
اس حساس اور سنسنی خیز انکشافات سے جہاں الیکٹرانک میڈیا کی سانسیں پھول جانی تھیں اور مسلسل اسی موضوع پر بحث و مباحثہ اور ڈیبیٹ کرنا چاہیے تھا، وہ سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سچ اور جھوٹ ایک الگ مسئلہ ہے؛ مگر اس حساس موضوع پر لب کشائی کی جسارت تو کرنی چاہیے۔جس وقت ستیہ پال ملک صوبہ کشمیر کے گورنر تھے، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی کے عزیز مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس جنرل انشورنس نے ریاست میں انشورنس اسکیم کو نافذ کرنے کی کوشش کی تھی، جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس اسکیم کو نافذ کرنے کے عوض ڈیڑھ سو کروڑ روپئے کی پیش کش ہے۔ اس کے علاوہ ریاستِ جموں و کشمیر میں پن بجلی یوجنا یعنی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے نفاذ کے لیے بھی اتنی ہی رقم کی پیش کش تھی یعنی دونوں پروجیکٹ کی منظوری کے عوض تین سو کروڑ روپئے بہ طورِ رشوت ملنے کی چرچا عام تھی؛ لیکن ان پروجیکٹ کو گورنر ستیہ پال ملک نے نا منظور کر دیا۔ جس کے بعد آر ایس ایس رکن رام مادھو ایک صبح ستیہ پال ملک کے پاس حاضر ہوئے اور اسکیم کے متعلق دریافت کیا اور جب اسکیم کے منسوخ ہونے کی اطلاع ملی تو خاصے ناراض ہو گئے۔
اسی واقعے کے متعلق صحافی کرن تھاپر نے سابق گورنر ستیہ پال ملک سے اپنا دوسرا سوال کیا کہ: ”آپ نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ: ریلائنس انشورنس کمپنی صوبہ جموں و کشمیر میں ایک انشورنس اسکیم لاگو کرنا چاہتی تھی۔ جسے آپ نے منسوخ کر دیا تھا۔تو ستیہ پال ملک نے کہا کہ آر ایس ایس رکن اور وزیر اعظم کے قریبی رام مادھو ایک صبح سات بجے راج بھون تشریف لائے اور ریلائنس انشورنس اسکیم کے متعلق سوال کیا کہ کیا آپ نے وہ منسوخ کر دیا؟ انہوں نے جواباً کہا: ہاں اسے ختم کر دیا۔ اس کے بعد رام مادھو نے لیٹر کے بارے میں پوچھا کہ کیا چٹھی چلی گئی؟ تو انہوں نے اپنے سیکرٹری سے معلوم کرکے اثبات میں جواب دیا۔ جس کے بعد آر ایس ایس رکن رام مادھو ناراض ہو گئے۔ بعد میں اس اسکیم کی منسوخی کی وجہ کے متعلق ذکر کرتے ہیں کہ: اسکیم کی منظوری کے دو دن بعد اس کو منسوخ کیا گیا؛ کیونکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی تھی۔ اور مخالفت کی وجہ ساڑھے آٹھ ہزار روپئے سالانہ قسط اور سبک دوش ملازمین کو بیس ہزار روپئے سالانہ کی قسط ادا کرنی تھی؛ جبکہ علاج و معالجے کے لیے منتخب شدہ ہسپتال غیر معیاری تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ: یہ شور تھا کہ ان دونوں معاہدوں میں ڈیڑھ ڈیڑھ سو کروڑ روپئے کی پیش کش ہے۔ یعنی اگر اس وقت وہ بہ طورِ گورنر ان معاہدوں کو منظوری دے دیتے تو وہ رقوم ان کے سپرد کر دی جاتی۔ ان دونوں اسکیموں میں سے ایک تو ریلائنس انشورنس تھی اور دوسری اسکیم ”ہائیڈرو پاور پروجیکٹ“ تھا۔ اس کے بعد اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے صحافی کرن تھاپر نے پوچھا کہ: جب سی بی آئی نے آپ کو ان چیزوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا تھا کہ: ”وزیر اعظم کے لوگ ہیں“ تو انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: میں نے کہا کہ اس میں جو انوالوڈ (شامل) ہیں وہ (وزیر اعظم) مودی جی کے نزدیک ہیں۔ اول: امبانی، دوم: رام مادھو، سوم: حسیب درابو۔حسیب درابو (سابق وزیر خزانہ جموں و کشمیر) کے متعلق اور اس کے تعلقات و روابط کے متعلق بتاتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا کہ: جب بھی میں وزیر اعظم صاحب سے ملنے جاتا تو مجھے کہتے تھے کہ: اس سے ملے کہ نہیں تم، حسیب درابو سے؟ دو تین بار تو میں نے کہا کہ نہیں ملا، تو خیر ایک دن میں نے اسے بلا ہی لیا۔ حسیب درابو مجھے ملنے آئے تو پھر اس نے کہا کہ آپ نے ہمارا ہائیڈرل والا کینسل کر دیا ہے۔ چلو ہم تو کرا ہی لیں گے کہیں سے۔ تو میں نے وزیر اعظم کو بولا کہ حسیب درابو سے ملا میں، آپ کہہ رہے تھے۔ تو وزیر اعظم کہنے لگے کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ: وہ تو دلالی کا کام لے کر آئے تھے۔ میں نے منع کر دیا تو وزیر اعظم بولے کہ ٹھیک کیا۔
اس کے بعد کرن تھاپر نے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے سوال کیا کہ: کیا وزیرِ اعظم بھی اس میں ملوث اور شامل ہیں؟ تو اس کے جواب میں ستیہ پال ملک نے جواباً کہا کہ: نہیں، وہ اس میں ملوث نہیں ہیں؛ لیکن میں محفوظ طریقے پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ وزیر اعظم کو بدعنوانی اور کرپشن سے کوئی بہت نفرت نہیں ہے۔اور اس کا بڑا ثبوت ہے کہ میں نے ان کو شکایت کی کہ یہ یہ لو لیول کرپشن ہو رہا ہے، تو انہوں نے مجھے خود تیسرے دن فون کرکے کہا کہ: ستیہ پال بھائی! آپ کی جانکاری غلط ہے۔ میں نے کہا کہ: کس سے معلوم کیا؟ انہوں نے کہا کہ: فلاں آدمی سے معلوم کیا۔ میں نے کہا: یہ تو خود چیف منسٹر کے گھر میں بیٹھ کر پیسے لے رہا ہے۔ اور الٹی میٹلی ایک ہفتے میں میرا وہاں سے ٹرانسفر (تبادلہ) کر دیا گیا۔ تو میں یہ کیسے مانوں کہ یہ کرپشن کے خلاف ہیں۔
مزید دوسرے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ستیہ پال ملک کہتے ہیں کہ: ایک آدمی کا معاملہ بتایا کہ اس کے آفس سے فون جاتا ہے کہ پی ایم او سے بول رہے ہیں، فلاں یعنی جتیندر سنگھ کے یہاں سے۔ ہمارے وزیر سے رابطہ کرو۔ تو میں نے کہا کہ آپ کے آفس کا نام استعمال ہو رہا ہے، تو انہوں نے امت شاہ کو کہا۔ امت شاہ نے مجھ سے تصدیق کی۔ میں نے کہا: ہاں! بالکل ایسے ہی ہے اور یہ مجھے چیف سیکرٹری نے بھی بتایا، آپ اس سے بھی پوچھ لیں۔ لیکن جتیندر سنگھ تو وہیں ہیں، جہاں تھے۔ میں کیسے مان لوں کہ کرپشن کے خلاف ہیں؟ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ: (وزیرِ اعظم) ایک معاملہ تو بتا دیں کہ جہاں کرپشن کو بند کیا ہو۔ میں تو دو معاملے بتا رہا ہوں کہ جن میں میں نے شکایت کی۔ اور دونوں صد فی صد درست۔












