نئی دہلی، (یو این آئی) مغربی ایشیا کی مسلسل بدلتی صورتحال کے درمیان حکومت بلا تعطل توانائی کی فراہمی، محفوظ سمندری آپریشنز، مغربی ایشیا کے خطے میں مقیم ہندوستانی شہریوں کو ضروری امداد کی فراہمی اور اہم شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے فعال طور پر مربوط اقدامات کر رہی ہے۔پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے منگل کو مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے پی این جی کنکشنز میں تیزی لانے کو کہا گیا ہے اور قومی پی این جی مہم 2.0کی مدت 30 جون تک بڑھا دی گئی ہے۔ مارچ کے مہینے میں 3.1 لاکھ سے زیادہ کنکشنز میں گیس کی سپلائی شروع کی گئی اور 2.7 لاکھ سے زیادہ نئے کنکشنز شامل کیے جا رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم مارچ سے روزانہ اوسطاً 50 لاکھ سے زیادہ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی کی گئی ہے۔ ساتھ ہی 23 مارچ سے اب تک مہاجر مزدوروں کو 5 کلو گرام والے 3 لاکھ 20 ہزار سلنڈر فروخت کیے گئے ہیں۔ صرف ہفتہ کے روز ہی 63 ہزار سلنڈر فروخت کیئے گئے ہیں۔ حکومت نے افواہوں پر قابو پانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پریس بریفنگ کے ذریعے درست معلومات عام کریں۔بیان کے مطابق اب تک 959 سے زائد ہندوستانی ملاحوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی گئی ہے، جن میں سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9 ملاح واپس آئے ہیں۔ پورے ہندوستان میں بندرگاہوں کے آپریشنز معمول کے مطابق ہیں اور کسی قسم کے ہجوم یا رش کی اطلاع نہیں ہے۔ مغربی ایشیا کا بحران شروع ہونے والے دن یعنی 28 فروری سے اب تک 5.72 لاکھ سے زیادہ مسافر ہندوستان لوٹ چکے ہیں۔ پورے مغربی ایشیا کے خطے میں ہندوستانی مشنوں کی ہیلپ لائنز چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام ریفائنریاں اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھی کافی ذخائر دستیاب ہیں۔ ریفائنریوں سے گھریلو ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ کچھ علاقوں میں افواہوں کے باعث گھبراہٹ میں خریداری کے واقعات دیکھے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر غیر معمولی فروخت اور ہجوم کی صورتحال پیدا ہوئی۔ تاہم، ملک کے تمام پٹرول پمپوں پر پٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ افواہوں کی روک تھام کے لیے ریاستی حکومتوں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ پریس بریفنگ کے ذریعے درست معلومات عام کریں۔صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے ڈی-پی این جی اور سی این جی ٹرانسپورٹ کے لیے 100 فیصد سپلائی یقینی بنائی گئی ہے۔ گرڈ سے منسلک صنعتی اور تجارتی صارفین کو ان کی اوسط کھپت کا 80 فیصد فراہم کیا جا رہا ہے۔چلنے والے یوریا پلانٹس کو سپلائی اب ان کے گزشتہ 6 ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 70 سے 75 فیصد پر مستحکم ہے۔ سپلائی برقرار رکھنے اور پائپ لائن آپریشنز میں توازن کے لیے اضافی ایل این جی کارگو اور ری گیسیفائیڈ ایل این جی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، لیکن ایل پی جی تقسیم کاروں کے پاس گیس ختم ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ صنعتی سطح پر آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ میں 92 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی ) پر مبنی ترسیل فروری 2026 کے 53 فیصد سے بڑھ کر گزشتہ روز 83 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یکم مارچ سے پبلک سیکٹر کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے روزانہ اوسطاً 50 لاکھ سے زائد گھریلو ایل پی جی سلنڈر تقسیم کیے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ 23 مارچ سے اب تک ملک بھر میں نقل مکانی کرنےوالے مزدوروں کو 5 کلو گرام ایف ٹی ایل کے 3 لاکھ 20 ہزار سے زائد سلنڈر فروخت کیے گئے ہیں۔ساتھ ہی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو باقاعدہ کوٹے کے علاوہ 48,000 کلو لیٹر مٹی کے تیل (کیروسین) کا اضافی الاٹمنٹ کیا گیا ہے۔ ضروری اشیاء ایکٹ 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر 2000 کے تحت ریاستی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔حکومت نے بتایا ہے کہ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری روکنے کے لیے کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اب تک 3000 سے زائد چھاپے مارے جا چکے ہیں اور گزشتہ روز 500 سے زائد سلنڈر ضبط کیے گئے۔ ایل پی جی کی مانگ پر دباؤ کم کرنے کے لیے مٹی کے تیل اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن کے اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔وزارت کوئلہ نےکول انڈیا اور سنگرینی کولیریز کو حکم دیا ہے کہ وہ ریاستوں کو زیادہ مقدار میں کوئلہ الاٹ کریں تاکہ چھوٹے، درمیانے اور دیگر صارفین کو سپلائی فراہم کی جا سکے۔ ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی دونوں صارفین کے لیے نئے پی این جی ا کنکشنز کی حوصلہ افزائی کریں۔












