رکبر ماب لنچنگ معاملے میں پولیس کا رول؟
ہمارے ملک میں کچھ دنوں سے ہجوم کے ساتھ کئے گئے جرم کو سنگین جرم قرار دینے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ مجرمانہ ذہنیت کے چند لوگ سنگین سے سنگین جرم کرنے کے لئے کسی ایسے موضوع اور موقعہ کا انتظار کرتے ہیں جس کی آڑ میں وہ جرم کرنے کے بعد بھی قانون کی آنکھ میں دھول جھونک سکیں ۔ایسے مجرموں کے لئے مذہب اور عقیدے کا لبادہ بڑے کام کی چیز ثابت ہوتی ہے۔اور اس وقت یہ نسخہ اور تیر بہدف ثابت ہوتا ہے جب حکومت بھی اکثریتی مذہبی عقیدے کو آئین و قوانین سے بالا سمجھنے لگے کیونکہ اس کا تعلق سیدھے سیدھے ووٹ سے جڑتا ہے اور اقتدار کی عمر طویل ہو جاتی ہے ۔
گذشتہ روز راجستھان کے الور کی ایک سیشن عدالت نے جولائی 2018 میں ایک مسلم ڈیری فارمر کی لنچنگ کے الزام میں چار افراد کو سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اگر کوئی پہلو خان کے 2017 کے قتل کے مقدمے میں ان تمام افراد کی رہائی کو یاد کرے، جو گائے کی حفاظت کے نام پر غنڈہ ٹیکس وصولنے والی گینگ کے حصہ تھے ،اور موٹی موٹی رقم لے کر گایوں کو سلاٹر ہاؤس تک پہنچانے والوں کی حفاظت کا ذمہ لیتے تھے اور ان کے مطالبے کو نہ ماننے والوں کو لنچ کرتے تھے ، تو 31 سالہ رکبر خان کے لیے انصاف کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ، جس پر دو گایوں کو ساتھ لے جانے کے دوران ایک ہجوم نے حملہ کیا تھا اور پھر الور کے لالاوندی گاؤں کے قریب ایک دوست کے ساتھ، پولیس کو رکبر خان شدید زخمی حالت میں ملا تھا، جس کے بعد وہ دم توڑ گیا، غالباً اسے طبی علاج کے لیے لے جانے میں تاخیر ہوئی تھی ۔اور یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ خود پولیس نے شدید زخمی حالت کے باوجود انہیں ادھر ادھر گھما کر تاخیر کی تھی تاکہ ان کے بچنے کی کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جائے ۔
الور فیصلے کی روشنی میں دیکھا جائے تو لنچنگ کے معاملات میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہندوستانی تعزیری قانون کے تحت مجرمانہ قتل اور قتل کے درمیان پتلی لکیر لامتناہی تجزیہ کا موضوع ہے، لیکن ہجومی تشدد کے معاملے میں اس اہم فرق کو قبول کرنا آسان نہیں ہے۔
اگر حالیہ برسوں میں مختلف ریاستوں میں نام نہاد گائے کے تحفظ کے نام پر قائم گروہوں کے حملوں کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے جن میں سے کچھ مہلک ترین ہیں، تو ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کامیابی سے مقدمہ چلانے میں فوجداری نظام انصاف کا ریکارڈ کافی مایوس کن ہے۔ اس پس منظر میں یہ حقیقت قابل ذکر ہے کہ الور میں پولس ایک جرم ثابت کرنے میں کامیاب رہی۔ تاہم شدت پسندوں کو صرف مجرمانہ قتل کا قصوروار پایا گیا جوسنگین اور پلان بنا کر کئے گئے قتل کے مرتکب تھے اور غلط طریقے سے گائے کے نقل و حمل کی روک تھام تشویش پیدا کرتی ہے ۔کیو نکہ اس کے لئے پولیس کا محکمہ موجود ہے ۔ایسے میں پولیس کو بھی سوچنا چاہئے کہ ایسے لوگ جب گرفت میں آتے ہیں تو ان کو عدالت سے اتنی سخت سزا دلوائی جائے کہ اس سے مجرموں کو عبرت حاصل ہو ۔
رکبر خان کا خاندان ایک مشتبہ شخص کو بری کیے جانے پر، جسے وہ جھوٹا سمجھتے ہیں کا مرکزی ملزم تھا، اور اسے صرف سات سال کی سزا ہوئی ہے بے حد غمزدہ ہے ۔ پولیس نے بری ہونے والے VHP لیڈر اور حملہ آوروں کے درمیان چند ٹیلی فونک بات چیت پر انحصار کیا تاکہ اسے ایک اہم ملزم کے طور پر گرفتار کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ یہ سنگین قتل کے مترادف نہیں ہے، ٹرائل کورٹ نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملہ آوروں کا نہ تو مارنے کا ارادہ تھا اور نہ ہی وہ جانتے تھے کہ ان کا حملہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔ امکان ہے کہ استغاثہ چاروں کو سنائی گئی ناکافی سزا اور ایک کی اپیل پر بری ہونے کو ناکافی سمجھتا ہے ،اور انہیں خدشہ ہے کہ یہ گینگ جو منظم طور پر گائے کی حفاظت پر معمور ہے اور جس کی طرف ایک بار خود وزیر اعظم نے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ گروہ جو گائے کی حفاظت کا ڈھول پیٹتا ہے معاشرے کا ناپسندیدہ عنصر ہے ۔اب اقلیتوں کے تحفظ اور سلامتی کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے تعصب اور بدتمیزی کے پروپیگنڈے کی تردید کرنے کے باوجود کہ اس طرح کی سرگرمیاں، فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دیتی ہیں ۔ایسا فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔
(شعیب رضا فاطمی )












