کانپور:۔ جمعیتہ علماءشہر کانپور کے زیر اہتمام چل رہے سہ روزہ اجلاس معراج النبی کے تےسرے روز خواتےن کا خصوصی اجتماع منعقد ہوا جس مےں لکھنؤ سے تشریف لائے مولانا محمد کوثر ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اسلام نے عورت کو جو مقام دیا وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا ہے، یہ مقام یونہی نہیں دیا گیا بلکہ اس سے انسانی سماج کا سب سے مشکل اور بڑا کام لیا گیا ، وہ کام ہے نسلوں کی تربیت ۔ دنیا کے کسی مذہب میں باپ کی وراثت میں بیٹی کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا ہے، لیکن اسلام میں حصہ تودیا گیا ہے بلکہ اس کو فرض بھی کیا ہے۔مولانا ندوی نے کہا کہ عورت کی طاقت یہ ہے کہ معاشرہ کی اصلاح اسی سے ہی وابستہ ہے لیکن ہمارے یہاں اصلاح معاشرہ کی ہزاروں کوششیں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہیں ۔ ہمیں اگر اصلاح معاشرہ کو کامیاب کرنا ہے تو اصلاح خواتین کی کوششوں کو بڑھانا ہوگا۔ سماج کی تشکیل میں عورتوں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
دار ارقم اسلامی اکیڈمی گجرات کے مہتمم مولانا محمد اسماعیل قاسمی نے کہا کہ وہ علم جو انسان کو زندگی جینے طریقہ سکھائے اس کو سیکھنا ضروری ہے۔ اس طرح کے پروگرام ہمارے اندر آخرت کا خوف اور اللہ کی محبت پیداکرکے بہتر انسان بنانے کیلئے ہوتے ہیں۔ انسان اچھے اعمال کرکے اچھی طرح سے زندگی گزارے اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق چلے تو اللہ اس کو بہترین زندگی نصیب کریں گے ،جو انسان اپنی محنت سے حاصل نہیں کر سکتا۔ انسان کو چین و سکون بہترین گاڑیوں، بنگلوں اور دنیا کے اسباب سے نہیں ملتا ، اللہ کے ذکر سے انسان کے دل کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ مولانا نے حضرت عاصیہ ؑ اور فرعون کا واقعہ تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ حالات کیسے بھی خراب ہوں، لوگ ہمار ایمان کو سلب کرنے کی کوششیں کر رہے ہوں، اگر ہم اللہ کے سہارے کو مضبوطی سے پکڑ کر دین پر عمل کرنے کا عزم مسمم کر لیں تو دنیا میں کوئی ہمیںپریشان نہیں کر سکتا۔ ہم اپنے گھر میں دین کا ماحول بنائیں، بچوں کے سامنے دینی تعلیمات اور اللہ کے حکم کو ماننے پر ملنے والے فائدے اور چھوڑنے پر ہونے والے نقصانات کو بیان کریں۔ کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اللہ کے احکامات اور نبی کی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کا عزم کریں۔اللہ کے یہاں ایمان کا اعتبار ہے، ذات ،برادری اور نسل کا نہیں، اس لئے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے قبل اجلاس معراج النبی کے دوسرے اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے جمعیتہ علماءاتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے کہا کہ اللہ کا نظامت اور قدرت یہ ہے کہ وہ جسے چاہتے اور پسند کرتے ہیں اسے دنیا کی آزمائشوں میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ ان آزمائشوں پر صبر کرے اور اللہ اس کے درجات بلند کریں، نیکیوں میں اضافہ فرمائیں۔ جتنے بھی نبی دنیا میں آئے اللہ نے سب کو پریشانی میں ڈال کر آزمایا ہے۔ اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انبیائے کرام کو آزمایا گیا اور سب سے زیادہ مجھے آزمایا گیا ۔ اللہ کے نبی پر بہت ساری تکلیفیں آئیں، آپ کے چچا اور محبوب زوجہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ طائف گئے تو وہاں بھی آپ کے ساتھ بدتمیزی کی گئی۔ تمام آزمائشوں پر آپ نے صبر کیااور اپنے مشن پر ڈٹے رہے تو اللہ نے آپ کو معراج عطا فرمائی، امام الانبیاءجیسا مقام عطا فرمایا۔ دنیا میں جو بھی مسلمان ہیں وہ اگر آزمائشوں پر صبر کریں گے تو اللہ انہیں بھی خوب انعام و اکرام سے نوازیں گے۔
جرول بہرائچ سے تشریف لائے مولانا محفوظ الرحمن قاسمی نے سورہ اسریٰ کے ذریعہ معراج کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عبادت صرف اللہ کی ہوگی، پیشانی صرف اسی کے آگے جھکے گی، کسی اور کے آگے ہماری پیشانی جھکے یہ اللہ کو گوارہ نہیں۔ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، غریبوں، مسکینوں، قرابت داروں، رشتہ داروں، بیوی، شوہر، بہن، بھائی کے حقوق ادا کرنا، لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کرنے اوران کے ساتھ صلہ رحمی کرنا، مشکل حالات میں بھی حوصلہ اور ہمت سے کام لینا، بھٹکے ہوئے مسافروں کی مدد کرنا، فضول خرچی سے بچنا، بے جا رسومات سے پرہیز کرنا حلال روزی کمانا، زنا کے قریب بھی نہ جانا، اپنے گھر کی خواتین اور بچیوں کو پردہ کا اہتمام کرانا، اسلام کی پہچان اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کا پیغام ہے۔ مولانا نے کہا کہ اگر ہم معراج کے پیغام پر صحیح معنوں میں عمل کرلیں تو ہمارا معاشرہ امن و چین اور سکون والا معاشرہ بن جائے گا اور مذہب اسلام و قرآن کے تعلق سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں پر بھی لگام لگے گی۔اس سے قبل جلسہ کا آغاز قاری مجیب اللہ عرفانی اور اجتماع خواتین کا آغاز مولوی محمد توقیر اور محمد فضل نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ نظامت کے فرائض شہری جمعیتہ کے نائب صدر مولانا محمد اکرم جامعی نے انجام دئے۔حافظ محمد مسعود ، حافظ محمد اشرف ، مولوی محمد فرحان اور محمد شادان نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں خواتین اور عوام شریک اجلا س رہے۔












