یہ نیاانکشاف نہیں ایک جانی مانی سچائی ہے کہ آج دنیا میں نوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہندوستان میں ہے۔ عالمی ادارے پاپولیشن فنڈکی رپورٹ بتاتی ہے کہ نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہندوستان ہے عمرکے بارے میں کئے گئے مذکورہ سروے کے مطابق افریقہ کم عمراور شمالی یوروپ قابلِ لحاظ ضعیف شہریوں کے حامل ہیں، برطانیہ میں نوجوانوں کی تعداد، ہندوستان میں نوجوانوں سے دس فیصد کم ہے لیکن وقت کے ساتھ نوجوانوں کی آبادی کایہ اوسط کم ہوجائے گا، خاص طورپراگلے پینتیس سال میں ۰۵۰۲ءتک نوعت بدل جائے گی اور نوجوانوں کی برتری کایہ تناسب باقی نہیں رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق ۵۶۰۲ءآتے آتے ہندوستانی نوجوانوں کی تعداد کم ہونے لگے گی ۔
اِس وقت ملک میں نوجوانوں کی آبادی ساڑھے پینتیس کروڑ ہے، جو ایک ریکارڈ ہے، جس کااگرمناسب استعمال ہوتو عالمی پیمانے پر ہندوستان کامستقبل تابناک ہوسکتا ہے کیونکہ نوجوان نسل توانائی سے بھرپور ہوتی ہے، زرخیز ذہن کی مالک، جینے کی بھرپوراُمنگ اورکچھ کرگزرنے کی لگن رکھتی ہے اورایسی ہی نسل مستقبل کی معماربن سکتی ہے۔ لیکن یہ اُسی وقت ممکن ہے، جب اُس میں صلاحیت ہو، ہُنرہو، صحت ہو، فیصلہ کرنے کی قوت ہواوروہ زندگی کے بارے میں حقیقت پسندانہ نظریہ رکھتی ہو۔
عالمی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کی آبادی بڑھنے کے کسی بھی ملک پرگہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جومثبت ومنفی دونوں طرح کے ہوسکتے ہیں اوراِس کادارومدار اِس پر ہے کہ نئی نسل کی تربیت اُن کے سرپرست کس سلیقہ سے کرتے ہیں یا حکومتیں کس طریقہ سے اُن کی ضروریات کی تکمیل کاکام انجام دیتی ہیں اور کس طرح نئی نسل کوتعلیمی، معاشی اورسماجی امورمیں مصروف رکھا جاتا ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہرسال لیبرفورس میں تقریباً ۳۱ ملین یعنی نوجوان شامل ہورہے ہیں۔ جنہیں کام یا روزگار چاہئے لیکن حکومتِ ہند کے اعداد وشمار کے مطابق مردم شماری کے دوران ۳۱۱ ملین عوام نے بتایا کہ وہ روزگار اورکام کےلئے فکرمند ہیں یعنی بے روزگاری سے پریشان ہیں لیکن تشویشناک پہلویہ ہے کہ کسی ہنریافن کے بغیرہی یہ نوجوان جاب مارکیٹ میں قدم رکھ رہے ہیں۔
ہائی اسکول تک تعلیم پانے والے اِن نوجوانوں میں تین فیصد سے بھی کم پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ ہیں ، جبکہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم سے وابستہ نوجوانوں کی تعداد بہت کم صرف بیس فیصد ہے، اِ س سے ہندوستان میں معیاری تعلیم کی سطح کااندازہ ہوتا ہے، یہی حال ہنرمندی وکاریگری کا ہے کہ اہل نوجوان نہ ہونے سے جگہیں خالی پڑی ہیں، نوجوانوں میں عزائم تو ہیں مگر صلاحیتوں کی کمی ہے جبکہ عزائم صلاحیتوں کابدل نہیں ہوسکتے، یہ دونوں خوبیاں موجود ہوں نوجوان ہرشعبہ میں نمایاں مقام حاصل کرکے خود کو منوا سکتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایک اورمسئلہ یہ بھی ہے کہ جن گھرانوں میں مال ودولت کی افراط ہے، وہاں نوجوان تعلیم وتربیت میں پیچھے ہیں اورغریب طبقوں میں ذہین نوجوانوں کی کافی تعداد پائی جاتی ہے جواعلیٰ تعلیم اورہنرحاصل کرناچاہتے ہیں لیکن اُن کے پاس ذرائع ووسائل کی کمی ہے، جوذرائع وسائل سے لیس ہیں اور اچھے مستقبل کاخواب بھی دیکھ رہے ہیں، اُن میں ایک بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جوڈاکٹر ، انجینئر ، پائلٹ ، آئی اے ایس، آئی پی ایس کی ڈگری لیکر معاشرہ کے باعزت شہری بنناچاہتے ہیں ،ان کے نزدیک دوسرے شعبے غیراہم اورغیرافادی ہیں،یہ سوچ بھی مناسب نہیں ہے۔اِس کے بجائے ہونایہ چاہئے کہ نوجوان شہروںمیں رہتے ہوں یا دیہاتوں میں اُنہیں اپنے سماج اور معاشرہ میں کام کرنے کےلئے خود کوتیار اوراُس کااہل بنانے پرتوجہ دینا چاہیے۔
آج ہمارا ملک ہندوستان اقتصادی اورسماجی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے، جسے اگرترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہونا ہے تواُسے ملک کی نوجوان آبادی کاصحیح ڈھنگ سے استعمال کرنا پڑے گا، نوجوانوں کی یہی طاقت ہے، جو ملک کی معیشت کورفتار دے سکتی ہے لیکن اِس کےلئے پہلے نوجوانوں کو مناسب تعلیم وتربیت سے آراستہ کرکے کام کے بہتر مواقع فراہم کرناہونگے، یہ ایک بڑا اوربنیادی کام ہے۔ جس کےلئے کارگر منصوبہ بندی کے ساتھ چوطرفہ اقدامات ہونے چاہئے تاکہ ملک کے تقریباً ۸۲ کروڑ ناخواندہ مگر بالغ نوجوان پڑھ لکھ سکیں ، کیونکہ جیسا کہ بتایاجاتا ہے غریب خاندانوں کے ۵۸ فیصد بچے ہی پانچویں کلاس تک پہنچتے ہیں، اِس کے بعد اُن کی تعلیم کا سلسلہ باقی نہیں رہتا، اِسی طرح ۸۱ سے ۸۲سال کی عمر کے سومیں سے تیس طلباءہی اچھی تعلیم حاصل کرپاتے ہیں، اِس کےلئے ایک طرف اسکولوں کی کمی ذمہ دار ہے تو دوسری طرف سرپرستوں کی غُربت اہم وجہ ہے، نوجوانوں کی بڑی آبادی کودیکھتے ہوئے اُن کاصحیح مصرف اُسی وقت ہوسکتا ہے جب ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سیکڑوں نئے اسکول اور ہزاروں کالج کھولے جائیں، اِسی طرح تکنیکی تعلیم کی کمی کو دور کرنے کےلئے سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر میں چلنے والے انجینئرنگ اور میڈیکل کالج اور دوسرے ڈگری۔ڈپلوما اداروں کی صلاحیت کوبڑھانا اوراُن میں غریب طلباءکے داخلے کےلئے گنجائش پیداکرنا ضروری ہوگا، اِسی طرح نوجوانوں کوالگ الگ شعبوں میں ہنرمند بنایا جاسکتا ہے اوران کی افرادی طاقت کاملک کی تعمیر میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
بلاشبہ ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک نوجوانوں کےلئے چلائے جارہے ہیں مختلف منصوبے خاص طورپر اُنہیں ہنریافتہ بنانے کے پروگرام سے استفادہ کرکے جونوان سرگرم زندگی میں داخل ہورہے ہیں اُنہیں بھی آج خاطر خواہ روزگار کی ضمانتیں نہیں مل رہی ہے لہٰذا وہ اوّل کم تنخواہ پرکام کرنے کےلئے مجبور ہیں دوسرے ملک کے باہر روزگار کی تلاش میں نکل جاتے ہیں اوراُن کی جوتوانائی وصلاحیت تعمیروطن میں صرف ہوناچاہیئے، وہ نہیں ہوپاتی ،اِسی طرح ملک کے اندر شمالی ہند کے ناخواندہ نوجوان، مزدور ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، بہار اور اترپردیش سے کام کی تلاش میں بڑے شہروں کارُخ کررہے ہیں، جہاں سے دلال اُنہیں خلیجی اوریوروپی ممالک میں کام کے لئے بھیج دیتے ہیں اوراُن کے پاسپورٹس کفیل اپنے پاس رکھ کربے حدکم اُجرت پراُن سے سخت محنت کاکام لیتے ہیں،اِس طرح ملک کی توانائی قوم وملک کے بجائے دوسروں کے استحصال اورکمائی کاباعث بن رہی ہے۔ اِس کے برعکس فروغ انسانی وسائل کے ایک ادارے کا تجزیہ ہے کہ ہندوستان کو ۲۲۰۲ءتک تقریباً سات سو ملین ماہر ورکروں کی ضرورت ہوگی کیونکہ ملک کی بڑھتی معیشت کے لئے تربیت یافتہ کارکنوں کی شدید ضرورت محسوس ہورہی ہے، عام طورپر صنعت کار یا تاجراداروں کاتاثر ہے کہ ہندوستان میں کافی افرادی قوت موجود ہے، تازہ دم نوجوان کام کی تلاش میں سرگرداں ہیں، لیکن وہ تربیت یافتہ نہیں ہیں اُن میں مہارت کافقدان ہے اِس کمی کودور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ایک مناسب میکانزم وضع کیاجائے۔
مرکزی حکومت کا ملک کے نوجوانوں کواپنی زمین سے جوڑنے کے لئے ”ایک سال ملک کے نام“ سے ایک منصوبہ تیارکیاجارہا ہے۔ اِس کامقصد دیش کے سماجی اور اقتصادی مسائل کو سلجھانے میں نوجوانوں کی تعمیری صلاحیتوں کااستعمال کرنا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اسکولوں میں بڑھتے ڈراب آؤٹ ، خراب سینیٹشن ماؤں اور بچوں کی بڑھتی شرح اموات اور زراعت سے متعلق بحران کے حل کےلئے نوجوان اپنے شعور کا استعمال کریں اور اِن کاموں میں انتظامیہ کی مدد کےلئے آگے آئیں۔
اِس منصوبہ کے لئے ۰۲ سے ۹۲ سال کے گریجویٹ یانان گریجویٹ نوجوانوں کاانتخاب ایک سال کے لئے ہوگا اوراِس کے لئے آل انڈیا سطح پر ایک امتحان ہندی یاانگریزی میں دینا ہوگا۔ جس میں کامیاب اُمیدوار کوایک انٹرویو سے بھی گزرنا پڑے گا ،امتحان میں حصّہ لینے کےلئے نوجوانوں کانام کسی تعلیمی ادارے یانوجوانوں کے درمیان کام کرنے والی سماجی تنظیم کے ذریعہ تجویز کیاجانا چاہئے، پہلے سال ۰۵۳ نوجوان چُنے جائیں گے، جنہیں دوماہ کی ٹریننگ بھی ملے گی اوراِس کے دران اُنہیں کسی دوردراز علاقے میں دس دن گزارنے ہونگے۔ اِس کے بعد اُنہیں کسی تحصیل میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ وہاں کے اہم مسائل ومشکلات کامطالعہ کرکے ایک سال میں اُن کے حل کےلئے اپنی رپورٹ پیش کرسکیں، اِن نوجوانوں کو پورے سال ۵۲سے ۰۳ ہزار روپئے ماہانہ بونس دیاجائے گا۔سال کے ختم ہونے پر شری پیرمبدور میں قائم راجیوگاندھی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یوتھ ڈیولپمنٹ اُنہیں ایک سرٹیفکٹ فراہم کرے گا، نہرویواکیندر جلدہی اِس منصوبے کااعلان کرسکتا ہے، اگراِس منصوبہ کواُس کی بنیادی فکرکے ساتھ عملی جامہ پہنایا گیا تو قوی امید ہے کہ ملک کے لاعلاج مسائل کاتعمیری حل سامنے آسکتا ہے۔کیونکہ حکومت کے نیٹ ورک میں کام کرتے ہوئے مذکورہ نوجوان کسی بھی دباؤ سے اُوپر اُٹھ کر ار غیرجانبدار رہ کر ملک کے سلگتے مسائل کاجائزہ لے سکیں گے، اِس مطالعاتی کام سے اُنہیں سماجی حقائق کوقریب سے دیکھنے ،سمجھنے اورعام لوگوں سے گفتگو کرنے کاموقع ملے گا، یہ تجربہ مستقبل کی سرگرم زندگی میں اُنہیں بڑی ذمہ داری نبھانے میں بھی مددگار بنے گا، اگرآگے چل کر اُنھوںنے ایڈمنسٹریشن کے شعبہ میں قدم رکھاتو یقینی طورپر وہ دوسروں سے بہتر ایڈمنسٹریٹر ثابت ہونگے۔ یہ اسکول کی دنیاسے نکلنے والے منیجروں کے مقابلہ میں بہترمنتظم ہوسکتے ہیں کیونکہ اُن کو مسائل اوراُن کے حل زمینی شعور اورتجربہ حاصل ہوگا۔
ہندوستان آج جس موڑ پرکھڑا ہے، اس کے سامنے سب سے بڑاکام یہ ہے کہ وہ روایتی صنعتوں کواپنانے اوربڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دے ، اِس کے ساتھ ساتھ علاقائی کام دھندوں اور صنعتوں کوبڑھانے کی پالیسی اپنائے تاکہ ایک طرف گاؤں سے شہروں کی طرف منتقل ہوتی آبادی کوروکاجاسکے، دوسری طرف کام کی تلاش میں نوجوانوں کے ملک سے باہرجانے کی حوصلہ شکنی ہو، اِسی طرح انسانی وسائل بالخصوص نوجوان طاقت کاتعمیرِوطن میں کارگر استعمال ہوسکتا ہے دوسری طرف نوجوان آبادی کی ایک نالج سوسائٹی ملک میں فروغ پاسکتی ہے جوملک کی تعمیروترقی کےلئے نہایت ضروری ہے۔












