صادق شروانی
نئی دہلی ، بھارت جوڑو ےاترا کو کامیاب بنانے کےلئے جہاںاےک طرف ملک بھرکے کانگریسی دل وجان سے لگے ہوئے ہےں تو وہےں ابھی تک راجدھانی کے کانگرےسےوں کے دماغ ٹھکانے پر نہیں ہیں۔خاص طور سے دہلی کانگرےس کا تو اور بھی برا حال ہے بھارت جوڑو ےاترا کے دہلی متں داخل ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اسکے لئے سےدھے طور پر خود کانگرےس ذمہ دار ہے۔ بتاےا جاتا ہے کہ ریاستی کانگریس کئی خیموں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ دہلی کانگرےس زمین پر اترنے کےلئے تیار نہیں ہیں۔ ہوا میں کام کرنے کی عادت ابھی تک نہیںگئی ہے اوپر سے سینئر لیڈر بھی متحد نظر نہیں آ رہے ہیںبہت سے لےڈران ایک دوسرے کو نیچا دےکھانے کےلئے کام کر رہے ہیں بلکہ زیادہ تر لیڈر تو جم کر رسہ کشی اور گروپ بازی میں ملوث بتائے جاتے ہیں ۔جبکہ تمام دہلی والے اس بھارت جوڑویاترا میں شامل ہونے کےلئے نہ صرف تیار ہیں بلکہ بے چین بھی ہیں بتایا جاتا ہے کہ مقامی سطح کے لیڈر جن کوبڑے لیڈران صرف چھٹہ بھیا کہتے ہیں وہ پوسٹر لگانے کےلئے بھی تیار ہیں لیکن ان کو تنظیم کی جانب سے میٹر (مضمون ) بھی نہیں دے رہے ہیں۔ او ریہ یاترا 24دسمبر کو دہلی میں داخل ہوگی لیکن دہلی میں ریاستی لیڈرو ںکی جانب سے زمینی سطح پرکوئی مضبوط تیار ی نظر نہیں آتی ہے اتناہی نہیں خود کانگریس چار پانچ خیموںمیں تقسیم ہوتی ہوئی دکھ رہی ہے ۔ ایک طرف جہاںسینئر لیڈر راجیو شکلا ،اجے ماکن ،ریاستی صدرانل چودھری ،سابق ریاستی صدر جے پرکاش اگروال ،سبھاش چوپڑا سابق ممبر اسمبلی الکا لامبا،اروندرسنگھ لولی جیسے لیڈران نے اپنا اپنا گروپ بنالیا ہے۔ اور اس بھارت جوڑو یاترا کو کامیاب بنانے کےلئے کوئی سنجیدہ نظر نہیں آرہا ہے کیوںکہ ان کے علاوہ دہلی کے اور بھی بڑے لیڈر ہیں جن کو اس بھارت جوڑویاترا میں کوءاہم ذمہ داری دے کر اس کونہ صرف کامیاب بنایا جاسکتا ہے بلکہ ایک پیغام یہ بھی دیا جاسکتا ہے کہ دہلی سے کانگریس نے واپسی شروع کردی ہے۔ سابق ریاستی وزیر ہارون یوسف کو تو بالکل ہی کنارہ لگادیا ہے جبکہ سابق ممبر اسمبلی چودھری متین احمد جیسے ممبران سے کوئی بھی صلاح ومشورہ نہیں لیا جارہا ہے پتہ چلا ہے کہ ان لیڈران سے ابھی تک رابطہ بھی نہیں کیاگیا ہے۔ اس طرح سے دیگر لیڈران کو بھی کوئی پوچھنے والا نہیں ہے باوثوق ذرائع کے مطابق دہلی کانگریس میں رسہ کشی زروں پر ہے۔ کچھ لیڈران نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس یاترا کو کامیاب بنانے کےلئے ابھی تک کوئی معنی خیز کمیٹی بھی تشکیل نہیں دی گئی ہے دوسری طرف سابق ممبر اسمبلی حسن احمد پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا کیوںکہ وہ شاید ریاستی صدر انل چودھری یا دیگر لیڈران کی ناراضگی کی وجہ سے پل بھر میں کانگریس کو چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہوگئے تھے لیکن وقت رہتے انہوںنے کانگریس میں واپسی کی ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ یہ گروپ بازی کانگریس پارٹی میں نئی ہے ایسا تو کافی پہلے سے ہوتا رہا ہے لیکن اس وقت کانگریس اقتدار میں تھی اور ان باتوں کا زیادہ نقصان نہیں ہوتا تھا اس کے باوجود کانگریسی زمین پر اترنے کےلئے تیار نہیں ہے رسہ کشی اورگروپ بازی دیگرسیاسی پارٹیوںمیں بھی ہے لیکن وہ دبی ہوئی ہے لیکن کانگریس میں صاف طو رپر نظر آتی ہے اگر اس طرح کے پروگرام کےلئے بھی لیڈران اپنی اپنی راہ پکڑیں گے تو بھارت جوڑو یاترا کامیاب کیسے ہوگی۔ واضح رہے کہ آج بھارت جوڑویاترا ہریانہ کے نوح ضلع میں پہنچ چکی ہے ۔نوح میں راہل گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج لڑائی دونظریہ کی ہے ایک جو کچھ چنندہ لوگوںکو فائدہ پہنچاتی ہے جبکہ دوسرے لوگوں کی آواز ہے جگہ جگہ پارٹی کے والنٹیئر راہگیروںکی مدد کررہے تھے اس دوران لوگوںمیں زبردست جوش اور جذبہ دیکھنے کو ملا۔جبکہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑویاترا دکا شیڈول صرف واٹسپ یونیورسٹی تک محدود کردیاگیا ہے جبکہ پوسٹر کی شکل میں دہلی کی دیواروںسے ندارد ہے۔












