روس و قفقاز :روس اور یوکرین کی اب تک کی تیس ماہ سے جاری جنگ کے دوران یوکرین میں دوسری بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ یہ تبدیلی بدھ کے روز یوکرینی وزیر خارجہ ڈیمٹرو کولیباکے استعفیٰ دینے کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ پچھلے ماہ یوکرینی فضائیہ کے سربراہ کو ایک ایف سولہ طیارے کی تباہی کے بعد بر طرف کیا گیا تھا۔
کہا جا رہا ہے کہ صدر زیلنسکی اگلے مہینوں میں اپنی ٹیم کو ‘ ری سیٹ ‘ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاکہ موسم خزاں کے بعد نئے حالات میں بہتر رزلٹس کی توقع ممکن بنائی جا سکے۔ اس تناظر میں آنے والے دنوں میں مزید عہدے داروں کے استعفے اور تقرریاں سامنے آسکتی ہیں۔
بدھ کے روز پارلیمنٹ کے سپیکر نے وزیر خارجہ کا استعفیٰ فیس بک پر پوسٹ کیا ہے۔ یوکرین کی روایت کے مطابق پارلیمان اس استعفے پر غور کرے گی ۔ اگرچہ یہ غور رسمی نوعیت کا ہوتی ہے اور عام طور پر استعفا منظور کرلیا جاتا ہے۔ سپیکر نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں جلد ہی استعفے پر بحث کرے گی۔
صدر زیلنسکی نے حال ہی میں حکومتی مشینری کو تبدیل کرنے کا اشارہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اس وقت جبکہ ملک کو زیادہ فعال اور بہتر گورننس دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ایک بہت بڑے جنگی چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔












