شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی، پانچ جنیہ اور آرگنائزر کو دیئے گئے اپنے ایک طویل انٹرویو میں موہن بھاگوت نے جس وضاحت سے آر ایس ایس کے موقف کی وضاحت کی ہے ایسا نہیں کہ اس سے ملک کے لوگ پہلے سے واقف نہیں تھے لیکن اس انٹرویو نما بیان کی ٹائمنگ پر غور کرنے کو سب مجبور ہیں۔ یقیناً راہل گاندھی کے آر ایس پر مسلسل حملوں سے وہ خائف ہیں اور ڈیمیج کنٹرول کرنے کی کوشش ان کا فرض ہے ،اور اسی لیئے موصوف اپنے ہی اخبار کو اپنا بیان نما انٹرویو دیتے ہیں اور لگے ہاتھوں بی جے پی کے ہندو مسلم ایجنڈے کو بھی بنیاد فراہم کردیتے ہیں تاکہ فوری طور پر ہونے والے ریاستی انتخابی ماحول کو بھی مذہبی منافرت کی انگیٹھی فراہم کر سکیں اور پھر اس تپش کو عام انتخابات تک پہنچا سکیں کیونکہ بی جے پی کی موجودہ سرکار اپنی کارکردگی کی روشنی میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔اور خود نریندر مودی کا سحر بھی اب ٹوٹ رہا ہے۔ آزاد سیاسی تجزیہ نگار تو یہ خم ٹھونک کر کہہ رہے ہیں کہ صرف مہاراشٹرا ،بہار،بنگال ،مدھیہ پردیش،چھتیس گڈھ ،ہماچل اور اترپردیش میں ہی بی جے پی کی سو سیٹیں کم ہو رہی ہیں۔ اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ مودی جی کے اقتدار سے ہٹتے ہی آر ایس ایس کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔کل ملا کر یہ انٹرویو اقتدار سے دور ہو جانے کے خوف میں دیا گیا ہے کیونکہ احساس برتری جب جتایا جاتا ہے تو اس کے پس پردہ احساس کمتری کی کارفرمائی ہوتی ہے ۔
یوں تو موہن بھاگوت نے اپنے اس بیان میں مختلف موضوعات پر بہت ساری باتیں کی ہیں لیکن مسلمانوں کے حال اور مستقبل پر بات کرتے ہوئے جب انہوں نے ملک کے ہندوؤں کا ایک ہزار سال سے حالت جنگ میں ہونے کا تذکرہ کیا تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آخر وہ ملک کے اندر ہندوؤں اور مسلمانوں کی جنگ کے علاوہ اور کیا کہہ رہے ہیں ؟اور اس جنگ میں مسلمانوں کو ہندووں کا دشمن کیوں قرار دے رہے ہیں جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس بیان کے پہلے موہن بھاگوت ہی اکثر یہ کہتے رہے ہیں کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بس طریقہ عبادت کا فرق ہے ورنہ سب ہندستانی ہیں ۔ سب کا ڈی این اے بھی ایک ہے ۔تو کیا یہ مان لیا جائے کہ اب بہت جلد ملک میں جمہوری طرز نظام کے خاتمہ کا اعلان کیا جانے والا ہے اور ہندو راشٹر کے اعلان سے پہلے موہن بھاگوت ملک کے مسلمان شہریوں کویہ باور کرا رہے ہیں کہ انہیں کن شرائط کے ساتھ اس ملک میں رہنا ہے۔ وہ ساری حکمت ،وہ احتیاطی تدابیر، دلوں کو نرم کرنے کی کوششیں، مساجد مدارس اور خانقاہوں کا دورہ،بڑے بڑے اداروں کے سربراہوں سے ملاقاتیں ،یہ سب اسی لئے تھا کہ وہ مسلم قائدین کے ایمان کی حلاوت دیکھنا چاہتے تھے ۔وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ملک کے ملی قائدین کے اندر ایمان کی کتنی رمق بچی ہے اور انہوں نے اپنی ناقص سمجھ سے یہ محسوس کر لیا کہ مسلمانوں کو صبر و ضبط کی تلقین کرنے والے مسلم علماکی طرف سے اب مزاحمت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اور پھر انہوں نے نہایت اطمینان سے اعلان کر دیا کہ ہندوستان کے مسلمان بے خوف ہوکر ہمارے اشاروں پر ناچیں انہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا ۔مسلمانوں کے خلاف فساد برپا کر کے ان کی جان اور مال کو بے دریغ لوٹنے والے گروہ نے ،جیلوں میں مسلمانوں کی اکثریت کا نمبر دیکھ کر بھی مطمئن ہوگئے کہ عدالتی نظام پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے ۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اب ملک کا نظام بدل چکا ہے اور اب ملک کی پالیسی سازی میں سنگھ بھی شامل ہے ۔وہ سمجھ گئے کہ یہی وقت ہے اس اعلان کا کہ مسلمانوں کو اس ملک میں بے خوف رہنے کی ایک ہی شرط ہے کہ وہ اپنی شناخت سے بیگانہ ہوجائیں ،وہ بھول جائیں کہ وہ مسلمان ہیں ،وہ اس ملک کی تہذیب و ثقافت پر فخر کریں ۔اپنی تہذیب و ثقافت کو سرے سے فراموش کر دیں۔ موہن بھاگوت نے ملک کے مسلمانوں کو مشروط امان دے کر اس بات کا بھی اعتراف کر لیا ہے کہ ابھی تک اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ جتنی بھی زیادتیاں ہوئی ہیں وہ سب ان کے اشارے پر ہوئی ہیں۔کیونکہ اس پیغام کے ذریعہ موصوف سیز فائر کا اعلان کر رہے ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اب یہ اعلان کر دیں کہ وہ آر ایس ایس کے غلام ہیں ۔یقیناً یہ جرات معمولی نہیں ہے جو انہوں نے کی ہے۔غالبا انہیں چند ملی رہنماوں سے مل کر یہ گمان گذرا کہ یہ تو صرف پیار محبت اور امن و امان کی بات کرتے ہیں۔ صبرو شکر ان کی گھٹی میں پڑی ہے ۔یہ پوری طرح ڈرے ہوئے لوگ ہیں اور ہمارے مسلسل حملوں کے بعد اب ان میں اتنی سکت ہی نہیں کہ یہ ہمارے احکامات کی پاسداری میں کوئی تامل کر سکیں۔اور یہی موہن بھاگوت کی غلطی ہے۔ سب سے بڑی غلطی۔
موہن بھاگوت کو اندازہ نہیں کہ مسلمانوں کی جانب سے جو لوگ ان سے ملتے رہے ہیں ان میں چند ایسے لوگ بھی تھے جو اس ملاقات کے ذریعہ یہ احسان کر رہے تھے کہ تم اپنی سوچ بدل کر راہ راست پر آجاو ۔تم کو اورتمہاری تنظیم کو اندازہ ہی نہیں کہ مسلمانوں پر تم جتنی بھی زیادتی کر لو تم انہیں ان کے دین سے واپس نہیں پھیر سکتے۔اگر یہ قوم خوف و دہشت سے ڈرنے والی ہوتی تو دنیا کی دو بڑی اور عظیم قوموں جن میں سے ایک کے اقتدار میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور دوسری یہودی قوم جن کی دولت سے آج پوری دنیا کی معیشت چلتی ہے اور جو میڈیائی دہشت گردی کا پیشوا ہے، کے آگے سر جھکا کر اسلام سے منحرف ہونے کا اعلان کر دیتے۔موہن بھاگوت کو اگر دنیا کی تاریخ کا علم نہیں ہے تو کم از کم اپنے ہی ملک کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے کہ کس طرح اس ملک کے مسلمانوں نے انگریزی تسلط کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔اور حیدر علی اور ٹیپو سلطان سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک لاکھوں مسلمانوں نے انگریزی جارحیت کے خلاف جو علم بغاوت بلند کیا تھا اسی کی بنیاد پر ملک میں آزادی کی تحریک کھڑی ہوئی تھی اور بلاخر انگریزوں کو یہ ملک چھوڑنا پڑا تھا۔
موہن بھاگوت بہت بڑی خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ بھارت کے مسلمان ان کے جبرو ظلم سے،سرکاری ایجنسیوں پر ان کے تسلط سے ،عدالتوں پر ان کے قبضہ سے ذر گئے ہیں ۔انہیں معلوم نہیں کہ مسلمان ڈرتے ہیں تو صرف ایک اللہ کی ذات سے، اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے۔مسلمان جانتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہی آزمائے جارہے ہیں اور ان کے آباؤاجداد کو بھی آزمایا جا چکا ہے ۔کیونکہ اس آزمائش کے ذریعہ ہی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ۔ مسلمانوں کا تو یہ پکا عقیدہ ہے کہ بری حرکتیں کرنے والے سرا سر گھاٹے میں ہیں اور وہ اللہ سے بازی نہیں لے جا سکتے ۔کوئی ایسا سمجھتا ہے تو وہ بہت بڑی غلطی کر رہا ہے۔
موہن بھاگوت کو یہ جاننا چاہیئے کہ اس ملک کے مسلمان ان کو اور ان کی تنظیم کو بس اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں کہ وہ نت نئی سازشوں سے ملک کی ترقی کی راہ کو کھوٹی کر رہے ہیں اور ملک کی تیس کروڑ آبادی کی توانائی کو ضائع کررہے ہیں ۔ان سے ملنے اور ان سے پیار و محبت کی بات کرنے والے مخلص علمائے کرام ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے خواہاں نہیں وہ ملک اور ملک کی ایک سو تیس کروڑ آبادی کے لئے فکر مند ہیں ،اور بس ۔












