خلیجی ممالک کی موجودہ صورت حال نے تمام ممالک کو غور وفکر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس بحران زدہ اور کشیدہ حالات میں مسلم ممالک بھی شش وپنج میں مبتلا ہیں۔ عالمی حالات نے عالمی سیاست کو ایک بار پھر غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے ٹکراؤ نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ ایسے پیچیدہ اور حساس وقت میں ہندوستان کا کردار ایک متوازن، ذمہ دار اور بالغ نظر ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے جس طرح اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امن کی حمایت کی ہے، وہ ان کی سفارتی مہارت کا ثبوت ہے۔ مغربی ایشیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس میں ہندوستان کا متوازن کردار یہ ظاہر کرتا ہے کہ وزیراعظم مودی کی سفارت کاری مشکل حالات کی کسوٹی پر بھی پوری اترتی ہے۔
ہندوستان ایک طرف اپنے تزویراتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنا رہا ہے تو دوسری طرف خطے میں امن اور استحکام کے حق میں بھی کھڑا ہے۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی بنیاد توازن، مکالمہ اور عملیت پسندی رہی ہے اور موجودہ بحران کے دوران بھی یہی پالیسی واضح طور پر نظر آتی ہے۔
خلیجی ممالک اور ایران میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری رہتے اور کام کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں بحران کے وقت ان کی سلامتی ہندوستان حکومت کی اعلیٰ ترین ترجیحات میں رہی ہے۔
مودی حکومت نے فعال اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے خلیجی ممالک اور ایران میں پھنسے ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ بحران زدہ عرب ممالک سے ہندوستانیوں کو محفوظ نکالنے کے عمل میں کسی قسم کا امتیاز نہیں کیا گیا اور ہر ہندوستان کی سلامتی کو یکساں طور پر ترجیح دی گئی۔ یہ ہندوستان حکومت کی حساسیت اور ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہندوستانی پرچم بردار گیس ٹینکروں کی محفوظ آمد و رفت بھی ہندوستان کی سفارتی اور عسکری صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے اور یہ عزم بھی واضح کرتی ہے کہ اپوزیشن کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے باوجود ہندوستان اپنے شہریوں کے لیے گیس اور تیل کا بحران پیدا نہیں ہونے دے گا۔
ایسے حساس وقت میں ہندوستانی پرچم والے جہاز ’شیوالک‘ اور ’نندا‘ کا آبنائے ہرمز کے علاقے سے محفوظ گزرنا یہ بتاتا ہے کہ ہندوستان نے اپنے توانائی کے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارت کاری اور حکمت عملی اختیار کی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ بحران کے اس دور میں ہندوستان اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی کشیدگی کے درمیان ہندوستان نے مذہبی عقائد کا بھی پورا احترام کیا ہے۔ خلیجی خطے میں کشیدہ حالات کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سفر حج بیت کو آسان بنانے کے لیے حکومت خصوصی تیاری کر رہی ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی وزیراعظم نریندر مودی کی خواہش کے مطابق سفر حج بیت اللہ کے انتظامات کو بہتر بنانے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس سے یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ ہندوستان اپنے تمام شہریوں کے مذہبی جذبات اور حقوق کے تئیں یکساں طور پر حساس ہے۔ درحقیقت ہندوستان کے جمہوری نظام کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ یہاں ہر برادری کو یکساں حقوق اور تحفظ حاصل ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کے مسلمان بھی اپنے حقوق اور سلامتی کے بارے میں پہلے سے زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ ہندوستان کا کثرت پسند معاشرہ اور آئینی نظام یہ یقینی بناتا ہے کہ تمام شہری بغیر کسی امتیاز کے اپنے مذہب اور عقیدے کے ساتھ باعزت زندگی گزار سکیں۔
مغربی ایشیا میں ہونے والے غیر منصفانہ حملوں کے خلاف جب کئی ممالک نے آواز اٹھائی تو 138 ممالک کے خلیجی قرارداد کی حمایت کرکے ہندوستان نے یہ واضح کیا کہ وہ ناانصافی اور عدم استحکام کے خلاف کھڑا ہے۔ وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ناانصافی کے خلاف اپنی واضح آواز اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ موجودہ بحران نے ہندوستان اور پاکستان کی سفارت کاری کو بھی ایک طرح کی کڑی آزمائش کے دور میں لا کھڑا کیا ہے۔
جہاں ہندوستان ایک طرف اپنے وقار اور متوازن پالیسی کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر مضبوطی سے کھڑا نظر آتا ہے، وہیں پاکستان کی صورتحال کئی بار متضاد دکھائی دیتی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے باوجود جب سعودی عرب مشکل حالات کا سامنا کر رہا ہے تو پاکستان اس معاہدے کی شرائط کو مؤثر طور پر نبھانے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ یہ صورتحال سعودی عرب کے عوام اور پورے خطے کے لیے غور و فکر کا موضوع ہے کہ بحران کے وقت حقیقی تعاون کون فراہم کرتا ہے۔
اس کے برعکس ہندوستان نے کھل کر عرب ممالک پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے اور خطے میں امن اور انصاف کے حق میں اپنی واضح پوزیشن رکھی ہے۔ اسی وجہ سے آج ہندوستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہندوستان ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
مجموعی طور پر مغربی ایشیا کا یہ بحران ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی توازن، خودداری اور انسانی اقدار پر مبنی ہے۔ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عالمی امن، انصاف اور استحکام کے لیے بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ یہی متوازن اور مؤثر سفارت کاری آج ہندوستان کو عالمی سیاست میں ایک قابلِ اعتماد اور بااثر طاقت کے طور پر قائم کر رہی ہے۔












