چودھری آفتاب احمد
9416266786
”گجرات ماڈل“ یہ وہ جملہ ہے جسے بی جے پی پورے ملک میں اپنے سیاسی فائدہ کےلئے کھل کر استعمال کر رہی ہے،یہ محض ایک جملہ ہے یا حقیقت؟آئیے اسے جاننے کی کوشش کرتے ہیں،بی جے پی نے نریندردامودر بھائی مودی کی قیادت میں جب 2014کے پارلیمانی انتخابات کی مہم میں قدم رکھا ،تب میڈیا نے یہ شور مچایا کہ اب پورے ملک میں نریندر مودی کے مرکز کے اقتدار میں آنے پر گجرات ماڈل نافذ کیا جائے گا،گویا عوام کو مین اسٹریم کی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ باور کرایا گیا ،کہ جس طرح سے نریندر مودی کی قیادت میں ان کے وزیراعلی رہتے ہوئے گجرات نے ترقی کی ہے،ٹھیک اسی طرح نریندر مودی کے مرکز کے اقتدار میں آنے پرپورے ملک میں ترقی لائی جائے گی،یعنی سب کے اچھے دن آجائیں گے،میڈیا کے کہنے کا مطلب یہ تھا ،کہ جیسے گجرات میں لوگوں کے اچھے دن آئے ہوئے ہیں،ایسے ہی پورے ملک میں گجرات ماڈل نافذ ہونے سے پورے ملک کے لوگوں کے اچھے دن آجائیں گے،وہ مودی کے ذریعہ لائے جانے والے اچھے دن جن کاہنوز سب کو انتظار ہے،ابھی تک آئے نہیں ہیں،
بی جے پی نے 2014کی اپنی انتخابی مہم میں تب نعرہ دیا تھا، ”اچھے دن آنے والے ہیں“ 2019کی انتخابی مہم میں اس نے نعرہ دیا ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“یعنی بی جے پی نریندر مودی کی قیادت میں جس طرح گجرات میں سب کا ساتھ لے کر ،سب کے اچھے دن لائی، سب کا ساتھ دیا اور سب کا وکاس کرایا، ٹھیک اسی طرح پورے ملک میں سب کا ساتھ لے کر،سب کے اچھے دن لائے گی ،سب کا ساتھ دیا جائے گا اور پھر سب کا وکاس کرایا جائے گا،لوگوں کو بی جے پی کے یہ سلوگن بہت پسند آئے، مگر سب سراب ہی نکلے،مرکز میں بی جے پی کی حکومت ایک نہیں دو بار بنی ،لوگ اچھے دن آنے کا انتظار کرتے رہے ،سب نے نہیں تو اتنے لوگوں نے تو بی جے پی کا ساتھ دیا ہی ،جتنے لوگوں کی ووٹ سے نریندر مودی ملک کے وزیراعظم بن سکتے تھے،وہ ایک نہیں دوسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے ہیں اوربڑی اکثریت کے ساتھ بنے ہیں،اب بھی انھیں کی قیادت میںدوسرے پیریڈ کی مرکزی حکومت چل رہی ہے،”گجرات ماڈل“ کیا تھا؟ یہ لوگ جاننا چاہتے ہیں ،کیونکہ نہ تواب تک ان کے اچھے دن آئے ہیں نہ انھیں حکومت کا وہ ساتھ ملا ہے جس ساتھ دینے کا بی جے پی نے ا ن سے وعدہ کیا تھااور نہ ہی ان کا وکاس ہوا ہے،ایسی صورت میں”گجرات ماڈل“ کو جاننا ان کے لئے ناگزیر سا بن گیا ہے، کہ آخر یہ” گجرات ماڈل“ ہے کیا؟
”گجرات ماڈل“ کے ساتھ ہی بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں جن میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس)اور آر ایس ایس کی ذیلی تنظیمیں شامل ہیں ہندوؤں کے گھر گھر میں یہ پیغام پہنچایا، کہ اگر بی جے پی نریندر مودی کی قیادت میں مرکز کے اقتدار میں آتی ہے،تو اس ملک ہندوستان کو ہندو راشٹربنادیا جائے گا،اس سمت میں بی جے پی نے کام کیا ہے،اب آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیںکشمیر سے آرٹیکل 370ہٹانے اور رام مندر بنوانے جیسے وعدوں سے ہندوؤں کو یقین دلارہی ہےں، کہ ان کی حکومت نے وعدہ کے مطابق ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی طرف کم سے کم دو قدم پیش قدمی تو کی ہے،یہی نہیں بی جے پی کی حکومت نے ملک کے اندر سے مسلمانوں کی چھٹنی کرنے کے لئے این آر سی اور سی اے اے قانون لانے کی طرف بھی قدم بڑھایا ہے ،حالانکہ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا نعرہ سیدھے طور پر” گجرات ماڈل “سے جڑا نہیں ہے،لیکن اگر ہم اسے 2002کے گجرات سے جوڑکر دیکھیں تو یہ بھی گجرات ماڈل کا ہی حصہ ہے،کچھ لوگ” گجرات ماڈل“ کو ترقی کا ماڈل سمجھتے ہیں اور بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ” گجرات ماڈل“گجرات کے وکاس کا نام نہیں ہے بلکہ یہ گجرات دنگوں کا ماڈل ہے،کیونکہ گجرات میں گزشتہ 27برسوں سے بی جے پی کی حکومت ہے اور وہاں پر اس حکومت کے دور میں کو ئی ترقی یا وکاس نہیں ہوا ہے،بس چند لوگوں کو چھوڑکر گجرات کے لوگ آج بھی بے روزگاری کی حالت میں بے کاری کی زندگی گزاررہے ہیں، ایسا خود بی جے پی کے لیڈران ڈائریکٹ کہہ رہے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ کانگریس نے ملک کو70برسوں میں برباد کردیا ہے،ان 70برسوں میں سے 27 برسوں سے گجرات میں بی جے پی کی حکومت ہے،آج بی جے پی کے سب سے سینئر لیڈروں کی ریلیوں میں لوگ نہیں آرہے ہیں ،ان کی ریلیوں میں گجرات کے اندر کرسیاں خالی پڑی ہوئی ہیں،یہ لیڈر اور کوئی نہیں بلکہ خود وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ہیں ،دونوں ہی گجرات کے مقبول ترین لیڈر ہیں ،لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب ان کی مقبولیت کو عوامی گرہن لگ رہا ہے ،جبکہ اس کے برعکس کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی گجرات کے راجکوٹ اور سورت کی ریلیوں میں لاکھوںکی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ پہنچی ،گجرات میں لوگ اب ان دو نوں لیڈروں کو سننا نہیں چاہتے،وہ ان کے کبھی پورے نہ ہونے والے وعدوں سے عاجز آگئے ہیں،راہل گاندھی کی ریلیوں میں آئی بھیڑ اس بات کی طرف اشارہ کررہی ہے ،کہ اب گجرات کے لوگ گجرات میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں،
نریندر مودی کی قیادت میں 27برسوں میں بی جے پی نے گجرات کے لوگوں کے لئے اپنے کئے وعدہ کے مطابق وکاس یعنی ترقی کا وہ کام نہیں کیا ہے جو اسے اس مدت کے دوران کرنا چاہئے تھا،بی جے پی حکومت نے خود تو کام کیا نہیں اور کانگریس سے چلی ہے چیلنج کرنے،کانگریس نے 70برسوں میں تعمیر و ترقی کے اتنے کام کئے کہ یہ ملک خود ہی ایک ترقی کا ماڈل بن گیا تھا،سچ بات تو یہ ہے کہ بی جے پی کی نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے کانگریس کے ترقی کے ماڈل کو تہس نہس ہی کردیا ہے،آج بی جے پی کی حکومت میں عوام زندگی کی ہر سہولیات سے ترس رہی ہے،آج لوگوں کے پاس روزگار کی کمی ہوگئی ہے،سرکاری نوکریاں تو اب نوجوانوں سے دور ہی چلی گئی ہےں،یہ تو جیسے ایک خواب بن کر رہ گئی ہیں،مہنگائی سے لوگ پریشان ہیں،روزمرہ کی آمدنیوں میں لوگوں کا گزارہ نہیں ہوپا رہا ہے،لوگوں کا یہ برا حال کانگریس کے دور میں نہیںہورہا تھا،بلکہ یہ برا حال بی جے پی کے دور میں ہو رہا ہے،
نریندر مودی نے 2001میں ہندووادی نظریہ کاگجرات میں جو ماڈل بنایا تھا اسے انھوں نے 2002میں دنگوں کی شکل میں گجرات میں نافذ کردیا تھا،اس ماڈل کے نفاذ سے لے کر آج تک بی جے پی گجرات ہی نہیں ملک کی قومی سیاست میں بھی کامیاب رہی ہے ،یہی وہ ماڈل تھا جسے” گجرات ماڈل” کہا جاتا ہے،گجرات ماڈل کوئی وکاس کا ماڈل نہیں ہے بلکہ یہ ہندتوا کے نظریہ کا مسلم مخالف ماڈل ہے،لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ اب یہ ماڈل اپنی جنم بھومی گجرات میںہی پھیکا پڑنے لگا ہے،اس کے پھیکے پڑنے کی فکر یا چنتائیں نریندر مودی اور امت شاہ کے چہروں پر صاف چھلک رہی ہیں۔












