تقریباً ایک صدی سے پوری دنیا میں مسلمان تباہی اور بربادی کا شکار ہے، ان کی جمعیت انتشار میں بدل دی گئی ہے، ان کو مختلف قومی ، لسانی، طبقاتی، علاقائی، تہذیبی گروہوں میں تقسیم کرکے بدترین پھوٹ اور تفرقے سے دوچار کردیا گیا ہے، جنگیں مسلط کرکے کروڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ، لاکھوں عورتوں کی عصمت دری کی گئی، ان کے علاقوں پر قبضہ کرکے انہیں ذلیل وخوار کیا گیا، ان کے ذرائع ووسائل ، املاک اور مال ودولت کو لوٹنے کھسوٹنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی گئی۔ ان کے دین ومذہب ، تہذیب وکلچر ، اخلاقی روایات اور صالح سماجی عناصر کو پامال کرنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا گیا ہو۔ اس کے علاوہ ہر ممکن ذریعہ ووسیلے سے اللہ کے رسولﷺ کی بدترین کردار کشی ، قرآن پاک کی بے حرمتی وپامالی اور مساجد ومدارس کو مسمار کرنے کی کاوش اور منصوبے کئے گئے۔ بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ مسلمانوں اور ان کے دین اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے یا انہیں اپنے دین سے مکمل طور سے بے گانہ کردینے کی ہر ممکن تدابیر اختیارکی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس سلسلے میں دشمنوں کی تدابیر اور اللہ کی مرضی دونوں ہم آہنگ ہوچکی ہے۔
صاف محسوس ہورہا ہے ہے کہ مسلمانوں کی بداعمالیوں وبدکرداریواور ان کے گھنائونے عقائد واعمال کی وجہ سے اللہ کا غیظ وغضب ان پر عذاب بنکر مسلط ہوچکا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان اللہ کی جانب سے ہونے والی ان مسلسل تنبیہات سے کوئی خاص سبق نہیں لے رہے ہیں۔ اللہ کی نافرمانی وسرکشی ان کی زندگیوں میں اس قدر رچ بس چکی ہے کہ غیر قوموں کے افعال بد کی نقالی ان کی عادتِ ثانیہ بن گئی ہے، غیر اسلامی افکار ونظریات ان کی طبیعتوں میں راسخ ہوچکے ہیں، ان کی شکلیں ، ان کا لباس ، ان کی عادات واطوار ، ان کے اعمال وافعال اور ان کے طرز زندگی پر غیروں کی چھاپ صاف دکھائی دیتی ہے، کفر وشرک ان کا وطیرہ بن چکا ہے اور اللہ کے حرام کردہ امور کو انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے لئے جائز کر لیا ہے۔ سود ، رشوت ، مالِ حرام کا اکتساب ، زنا وبدکاری واغلام بازی، قتل وغارت گیری، سفاکی ودہشت گردی، جعل سازی وفریب کاری، جھوٹ ودغا ، بد عہدی، بد معاملگی، عہد شکنی، بدکرداری وبداخلاقی، الزام تراشی وکردار کشی، غیبت وبہتان تراشی جیسی برائیوں اور شریعت سے کھلم کھلا انحراف نے ان کے درمیان نحوست کا ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ ان کے درمیان خوفِ خدا اور فکر آخرت ختم ہوگیا ہے، اور دنیا پرستی و مادہ پرستی ان میں سرایت کرچکی ہے، لیکن عجیب وغریب بات یہ ہے کہ جتنا ان پر اللہ کے غیظ وغضب کا کوڑا برستا ہے اتنا ہی ان کی سرکشی ونافرمانی اور بغاوت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
ایودھیا کی بابری مسجد ہی نہیں ڈھائی گئی بلکہ آج پورے ہندوستان کی تین ہزار سے زیادہ مساجد کی فہرست تیار کی گئی ہے، جن کو مندر قرار دیکر ان کی واپسی کا مطالبہ ورنہ منہدم کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، اس طرح مسلمانوں کی عبادت گاہیں ، ان کی دینی وسماجی سرگرمیاں اور ان کی معاشی تگ ودوسب کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور تیاریاں چل رہی ہیں، کیونکہ مساجد سے توحید کا عملی پیغام نشر ہونے کے بجائے اب وہاں سے قبر پرستی ، اولیاپرستی اور تعویذوجادووگنڈے کا کاروبار کثرت سے پھیل رہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علمااور مسلمانوں کے قائدین مسلمانوں کو ان خرابیوں کی طرف توجہ دلاتے اور مسجد کو ازسرِ نواللہ کی بڑائی وکبریائی اور انسانوں سے محبت وشفقت کا ترجمان مراکز بنانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے اور مسلمانوں کے درمیان سے غیر اسلامی حرام وناجائز امور ومعاملات کو ختم کرنے کی پوری سعی وجدوجہد کرتے لیکن علمانے قرآن وسنت کی روشنی میں مسلمان عوام کو اس صورتِ حال سے نجات دلانے ، انہیں اللہ کے غیظ وغضب سے محفوظ رکھنے کے طریقے بتانے اور اللہ کی نافرمانی ترک کرکے اس کی طرف رجوع ہونے کی تلقین کرنے کے بجائے انہیں باضابطہ اللہ کی نافرمانی وسرکشی کی دعوت دیکر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف کھلم کھلا جنگ کا اعلان کردیا۔ اس صورتِ حال پر اللہ کے غیظ وغضب کا بھڑک اٹھنا یقینی تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اللہ کو اینٹ ، پتھر ، مٹی وگارے سے بنی ہوئی عبادت گاہوں کی ایسی کوئی ضرورت نہیں ، جب کہ اس ماننے والوں کی زندگیوں کی اللہ کی بڑائی ، کبریائی رخصت ہوچکی ہو اور اس کی جگہ نافرمانی اور سرکشی سے عبارت مادہ پرستی ومفاد پرستی نے اپنی جگہ بنالی ہو۔
قارئین حضرات! یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس زمانے میں بہت سے خود غرض ، مفاد پرست اور دنیا کو دین پر ترجیح دینے والے نام نہاد علما وجود میں آگئے ہیں۔ جنہوں نے یہود ونصاریٰ کے غلط کار علما کے مانند دین اور اس کے احکام کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کردیا ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب علما پر تنقید کرتے ہوئے امت مسلمہ کو اس بات کی تلقین کی تھی کہ وہ اس صورت حال سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے، لیکن آج کے یہ نام نہاد علما اللہ کے اس فرمان پر کان نہیں دھرتے اور اپنی من مانی کرتے ہوئے ہمارے یہ مطلب پرست علما ایک دوسرے کے خلاف کفر وفسق کے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں جبکہ قرآن پاک اور سنت میں ہمیں غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کو کہا گیا مگر ایسی باتیں ان علمائے سوکے حلق سے کہاں اترتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان کہی رنگ ونسل کی بنیاد پر تقسیم ہیںتو کہیں ذات ، علاقے اور مسلک ومشرب کی بنیاد پر اختلافات کا شکار ہیں، امت مسلمہ کو مسلکی خانوں میں بانٹ کر انہوں نے مسجدوں سے لوگوں کو دور کردیا، ان کی زندگیوں میں نہ تو خوفِ خدا اور نہ فکر آخرت یہ تو اللہ کے احکام سے خود بھی اور امت کو بھی صریحاً انحراف میں مبتلاکردیا ہے، زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ہو جس میں یہ شریعت پر عمل کررہے ہوں، ان کی اکثریت انکھیں بند کئے ہوئے یا تو خاموش بیٹھی ہے یا بے راہ روی وگمراہی کو دینی اعتبار سے جائز ومباح قرار دے رکھا ہے اور عام طور سے اسی قسم کی علما نے مسلم سماج میں اپنا مقام بنا رکھا ہے۔ دراصل اب علمائے اخرت کی جگہ علمائے دنیا لیتے جارہے ہیں۔ اب بکثر علماایسے ملینگے جو اپنے علم پر مغرور اور بڑے بڑے القاب وخطابات کے متمنی ہیں۔ اب جب کہ علما حضرات کی رہنمائی وتبلیغ کا یہ حال ہے تو عوام کا حال کیا ہوگا۔ ویسے یہ بات سچ ہے کہ علمائے سو ہر دور میں رہے ہیںجنہوں نے حکومت وقت یا طاغوتی نظام کی ہم نوائی کرتے ہوئے اپنے مادی مفادات کی خاطر اسلام کو نقصان پہنچایا اور آج بھی پہنچارہے ہیں۔












