شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی، 9جنوری کو ایوان بالا میں پیش کئے گئے یکساں سول کوڈ پرائیویٹ ممبر بل کو رائے عامہ ہموار کرنے کی ایک ادنی کوشش بھلے ہی قرار دی جائے لیکن اس بل کا 23کے مقابلے 63ووٹوں سے جیت جانا نہایت سنگین ہے ۔کیونکہ اس بل کے مطابق شادی ۔طلاق ۔بچہ گود لینے اور جائداد کے بٹوارے جیسے تمام قوانین کو رد کرکے اب تمام ملک کے شہریوں کو ایک قانون کی چھتری کے نیچے لانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے جو بی جے پی کا پرانا ایجنڈہ بھی ہے اور رام مندر دفعہ 370اور مسلمانوں کو ٹھیک کرنے کے عہد کے بعد بی جے پی کا آخری حربہ ہوگا اور جس کے بل پر وہ پچاس برس مسلسل حکومت کرنے کا عزم کر چکی ہے ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کی سب سے قدیم سیاسی پارٹی گانگریس اس بل کے خلاف ڈھلمل رویہ کیوں اختیار کر رہی ہے ۔
یہ سوال آج ہر سیکولر شہری کر رہا ہے کہ کیا کانگریس پارٹی کے ارباب حل وعقد نے بھی بھاجپا کے فاشسٹ نظریہ کو اقتدار کے حصول کا زینہ سمجھ لیا ہے ۔اور وہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو نظر انداز کرنے کی راہ کا انتخاب کرلیا ہے اور ہمارے ملی قائدین اور سیکولر سول سوسائیٹی کے دانشوروں کو کانگریس کے اس یو ٹرن کا احساس بھی نہیں ہے ۔اور اگر ایسا ہے تو پھر یہ بھارت جوڑو یاترا کی کیا ضرورت ہے ۔کیونکہ جب چندن لگانے اور مندر مندر گھوم کر آشرواد لینا ہی کامیابی کی دلیل ہو تو پھر ملک کی اقلیت کا وقفہ وقفہ سے نام لے کر منہ کا مزہ بدلنے کی کیا ضرورت ہے۔یقیناً اقتدار کے حصول کی موجودہ راہ جو کانگریس نے اختیار کی ہے وہ اسے موقع پرست سیاسی پارٹی ثابت کرنے کے لئے کافی ہے اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت اس کے اس عمل سے شدید شکوک وشبہات میں مبتلا ہے ۔جس کے سد باب کی کوشش کے طور کسی مشاعرہ باز شاعر کو پیش کرنا نہایت احمقانہ قدم ہے ۔
واضح ہو کہ یکساں سول کوڈ پر عوام و ماہرین کی رائے لینے کی ایک کوشش پہلے بھی لا کمیشن کر چکی ہے لیکن اس نے اپنی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بھارت جیسی متنوع ثقافتی سر زمین پر یکساں سول کوڈ کا نفاذ ناممکن ہے آور لا کمیشن نے اپنی یہ رپورٹ سپریم کورٹ کے سپرد بہت پہلے ہی کر رکھی ہے ۔
پیش ہے گذشتہ9 دسمبر کو ایوان بالا کے سرمائی اجلاس کے دوران ملک بھر میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ کروڑی لال مینا کے ذریعہ پیش پرائیویٹ ممبر بل کے طورپر متعارف کرانے کے لیے پیش کرنے کے بعد راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے مباحثے کی روداد ۔ ان ممبران نے اس بل کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ سے کہا کہ وہ اس قانون کو قبول نہ کریں کیونکہ اس سے ملک کا سیکولر تانہ بانہ بلکل تباہ ہو جائے گا۔ بل میں یو سی سی کی تیاری اور پورے ہندوستان میں اس کے نفاذ کے لیے قومی معائنہ اور تفتیشی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "میں بی آر امبیڈکر کے حوالے سے ممبران کے تبصروں کو دیکھ کر دکھی ہوں۔ آئین کے رہنما اصولوں کے تحت کوئی مسئلہ اٹھانا رکن کا جائز حق ہے، اس موضوع پر ایوان میں بحث ہونے دیں۔ میرے ساتھی پرکاش جاوڈیکر اس پر بعد میں وضاحت پیش کریں گے لیکن اس مرحلے پر حکومت پر الزامات لگانا، تعارفی مرحلے پر بل پر تنقید کرنے کی کوشش کرنا غیر ضروری ہے، میں چاہوں گا کہ بل پیش کیا جائے۔
پرائیویٹ ممبرز بل کو پارلیمنٹ میں پاس کروانے کے لیے حکومت کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بل کو ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا اور اسے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کیا گیا،اس بل کے حق میں 63 اور مخالفت میں 23 ووٹ پڑے ۔ کانگریس، ترنمول کانگریس اور عام آدمی پارٹی سمیت بہت سے اپوزیشن ارکان بحث کے دوران اور ووٹنگ کے وقت موجود نہیں تھے۔ بل کی مخالفت کرتے ہوئے، ایم ڈی ایم کے کے وائیکو نے بر سر اقتدار جماعت پر الزام لگایا کہ "حب الوطنی آپ لوگوں کی اجارہ داری نہیں ہے۔ آپ کے پاس اکثریت ہے آور آس کی آڑ میں آپ آر ایس ایس کے ایجنڈے کو نافذ کر رہے ہیں۔ آپ نے کشمیر کو تباہ کر دیااور آب اس بل کے ذریعہ ملک کو ایک بار پھر تقیسم کے دہانے کی طرف لے جا رہے ہیں،آپ کے دور اقتدار میں اقلیتوں کو تواتر کے ساتھ نقصان پہنچایا جا رہا ہے، دیکھا جائے تو آج جب یہ بل پیش ہو رہا ہے یہ شرم اور افسوس کا دن ہے اور افسوسناک یہ بھی ہےکہ ہمیں اس مرحلے سے گزرنا پڑ رہاہے ، اس موقع پر آئی یو ایم ایل کے عبدالوہاب نے کہا کہ اس بل کے ذریعہ جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کو ہوا دی جا رہی ہے ۔سرکار جانتی ہے کہ اسے ہندوستان میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ "یہ کوئی ضابطہ فوجداری نہیں ہے، ملک میں ہر جگہ عدم رواداری کی ہوا چلائی جا رہی ہے اور یہ قوم و ملک کے حق میں نہیں ہے، اس بل کو واپس لے کر مزدوروں کی اجرت طے کرنے کی سمت قدم بڑھانے کی ضرورت ہے لیکن حکومت کو مزدوروں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ” انہوں نے زور دے کر کہا کہ "یہ بل ملک کو جلا دے گا۔
سی پی آئی ایم کے لیڈر وکاس رنجن بھٹاچاریہ نے پوچھا کہ کیا بی جے پی چاہتی ہے کہ ملک کا اتحاد اور تنوع ختم ہو جائے۔ "ملک بحران کا سامنا کر رہا ہے، آئیے اتحاد کو بحال کریں، عوام کے درمیان تقسیم کی دیوار کھڑی کرکے آپ معاشی یا سماجی طور پر ملک کو آگے نہیں بڑھا سکتے معاشرے کو پختہ ہونے دیں اور آپس میں مکالموں کو رواج دیں۔
کیرالہ سے سی پی آئی-ایم کے رکن وی سیواداسن نے کہا، "اس طرح کے بلوں کا مقصد ہندوستان کے اتحاد کو برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہمیں تنوع میں اتحاد کی حفاظت کرنی چاہیے…ہندوستان اینٹوں اور پتھروں سے نہیں بنایا گیا، یہ آزادی کے جنگجوؤں کے جذبے سے بنایا گیا تھا۔” جان برٹاس (سی پی آئی-ایم) نے کہا کہ 21ویں لاء کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یو سی سی نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔ وزیر قانون کو اس بات کا علم ہونا چاہیے، اگر وہ سپریم کورٹ پر حملہ کرنے سے کچھ وقت نکال کر غور کریں تو انہیں خود محسوس ہوگا کہ یہ آئین کی روح کے خلاف ہے…. یہ ایک غیر سول ضابطہ سمجھا جاتا ہے، اس بل سے سماج میں پولرائزیشن کو فروغ ہوگا اور یہ ملک کے لیے نقصان دہ ہے، براہ کرم بل کو فوری طور پر واپس لیں،‘‘
اے اے رحیم (سی پی آئی-ایم) نے کہا کہ ہندوستان تکثیریت کی سرزمین ہے اور آر ایس ایس و سنگھ پریوار اس مسئلے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے کہا کہ یہ بل آئین کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ’’مسلمان فرسٹ کزنز سے شادی کرتے ہیں، کیا ہندوؤں میں یہ ممکن ہے؟ یہ لوگوں میں مایوسی کا باعث بنے گا،” سی پی آئی کے سنتوش کمار نے کہا، "اس سے ملک کی سیکولر ساکھ خطرے میں پڑ جائے گی، گاؤں کا گاوں ہندوستان پاکستان کے خطوط پر تقسیم ہو جائے گا جو سراسر نقصاندہ ہےاور قومی مفادکے خلاف ہے ۔
ڈی ایم کے لیڈر تروچی سیوا نے کہا کہ اسی بل کو پہلے بھی کئی بار درج کیا گیا تھا لیکن ارکان کی درخواست پر اسے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ "اس ملک کی بنیاد سیکولرازم اور وفاقیت ہے، دونوں اب داؤ پر ہیں۔ ہم اندازہ لگا رہے ہیں کہ اگر یہ پرائیویٹ ممبر بل منظور ہو جاتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے۔ جب اس پر غور کیا جائے گا تو ان کے پاس اکثریت ہے، اسے منظور کر لیا جائے گا۔ لیکن اس کے بعد اقلیتوں کی ذہنیت کیا ہوگی؟ کیا ہم ان کے ذہنوں میں خوف پیدا نہیں کر رہے ہیں۔ تقسیم کے دوران جناح نے تمام مسلمانوں کو پاکستان آنے کو کہا، لیکن مسلمانوں کی بڑی تعداد نے جناح کی اپیل ٹھکڑا دی ، انہوں نے معیشت میں حصہ ڈالا اور ملک کے لیے جنگ لڑی، لیکن آج وہ واقعی اذیت میں ہیں۔ اور پورا ملک یہ دیکھ رہا ہے، اس ملک کے مستقبل پر غور کریں ۔
کانگریس پارٹی کے ایل ہنومنتھیا نے کہا کہ انتہائی بائیں اور انتہائی دائیں نظریات جمہوریت کیلئے خطرناک ہیں۔ "ہمیں ہندوستان جیسی صحت مند جمہوریت کو اس طرح کی انتہا پسندی میں داخل نہیں ہوئے دینا چاہئے۔ ہمیں اس ملک کے تانے بانے کو برقرار رکھنا چاہئے، ہم 75 سالہ جمہوریت کے نگہبان ہیں۔” ۔ ترنمول کانگریس کے جواہر سرکار نے کہا کہ یہ بل غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہے اور اسے پانی کی جانچ کرنے کیلئے ایک خوش مزاج حکومت کے ذریعہ پیش کیا جارہا ہے۔
کانگریس پارٹی کے جیبی ماتھر ہاشم نے کہا کہ یہ بل عوامی مفاد میں نہیں ہے اور اس طرح کے بل سے ملک میں امن نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف ہے اور ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں جمہوریت کو پٹڑی سے اتارا جا رہا ہے اور اقلیتوں کی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے منوج جھا نے کہا کہ یہ بل پہلے چھ مواقع پر پیش نہیں کیا گیا تھا۔ "خاندان منقسم ہیں، گاؤں تقسیم ہیں۔ یہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی فوزیہ خان نے کہا کہ یہ بل جمہوریت سے ہم آہنگ نہیں ہے اور یہ صرف ہندو مسلم کا سوال نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی کے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ملک تقسیم ہو رہا ہے، اس وقت بل پیش کرنا مناسب نہیں ہے۔












