بنی آدم پر اللہ رب العزت کے جو احسانات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے انہیں صرف اپنی طاعت و عبادت کا مکلف ہی نہیں بنایا بلکہ وقفے وقفے سے ان کے درمیان انبیاءکرام علیہم السلام کو مبعوث فرماکر اور ان پر کتب و صحائف نازل فرما کر ان کی ہدایت و رہنمائی کے اسباب بھی فراہم کئے۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اس سلسلے میں رب کریم کی طرف سے کچھ ضابطے اپنائے گئے جنہیں سنت الٰہیہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ان میں سب سے اول یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہر قوم کی طرف کسی نہ کسی نبی کو ضرور مبعوث کیا جو عموماً اسی قوم کے فرد ہوا کرتے تھے۔ ایسی کوئی قوم نہیں گزری جس کے پاس کوئی رسول نہیں آیا ہو۔
دوسرا اہم ضابطہ رب کریم نے یہ قائم فرمایا کہ جس پیغمبر کو بھی کسی قوم کی طرف مبعوث کیا، وہ ان کی قومی زبان کے جانکار ضرور ہوا کرتے تھے۔ یہ اس لئے کہ پیغام رسانی اور تبلیغ دین میں ان کے اور قوم کے درمیان کوئی ترسیلی خلا (communication gap) نہ پیدا ہو اور قوم کو یہ عذر نہ رہے کہ انہیں تو پیغمبرِ خدا کی بات ہی سمجھ میں نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اس کی قوم ہی کی زبان میں تاکہ وہ ان پر حق کو اچھی طرح واضح کردے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے وہ ہدایت بخش دیتا ہے، اور وہ سب پر غالب و کمال حکمت والا ہے۔“ (ابراہیم: ۴) ۔
ہدایت دینے کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے کو قرآن کریم نے یوں بیان کیاہے: (مفہوم): ” اللہ اپنے قرب کے لئے چن لیتا ہے جسے وہ چاہتاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اسے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔“ (الشوریٰ: ۳۱)۔ اس آیت میں تقسیم ہدایت کے دو ضابطے بتائے گئے ہیں؛ ایک تو خاص ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنے قرب کے لئے چن لیتا ہے۔ احقر کی نگاہ میں انبیاءکرام علیہم السلام کا انتخاب اسی زمرے میں آتا ہے۔ دوسرا ضابطہ عام ہے ، وہ یہ کہ جن کے دل ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور جو صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور پیغمبر خداکی اطاعت و فرماں برداری اختیار کرتے ہیں، اللہ انہیں ہدایت سے نواز دیتا ہے۔
آپ یہ سمجھ چکے ہیں کہ دعوت و تبلیغ ، ہدایت کے نزول کے اسباب میں سے ہے۔ اسی ضابطے کو پورا کرنے کے لئے اللہ رب العزت وقتًا فوقتًا پیغمبروں کو مبعوث کرتے رہے۔پھر آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو تب تک مغلوب یا عذاب میں مبتلا نہیں کرتا جب تک اس پر دین حق کی دعوت کی حجت پوری نہیں ہوجاتی۔ ہم سب کا اس پر بھی ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاءہیں یعنی ان کے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔دوسرے لفظوں میں قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے نبی آپ ہی ہیں اور ان کی دنیوی و اخروی کامیابی آپ کے لائے ہوئے دین کی اتباع میں ہی مضمرہے جیسا کہ قرآن گواہی دے رہا ہے: ” آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! بے شک میں رسول ہوں اللہ تعالیٰ کا تم سب کی طرف جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں، نہیں ہے کوئی معبود اس کے سوا، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے،پس ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پرجو کہ یقین رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب کلاموں (احکام) پر اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔“ پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کو صرف ۳۲ سال ہی کار دعوت کے لئے ملے اور اس کے جو نتائج سامنے آئے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ دنیا کی ساری اقوام تک آپ کا لایا ہوا دین پہنچانے کی ذمے داری آخر کس کی ہے؟ پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کو جو کتاب ملی اور آپ کی جو ہدایات ہیں وہ سب عربی زبان میں ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ رہا ہے کہ ہر قوم کو ہدایات ان کی قومی زبان میں ہی دی گئی ہیں۔ دنیا کی یہ ساری قومیں کل خدا کے سامنے یہ حجت کرسکتی ہیں کہ آخر ہم نے کون سا قصور کیا تھا کہ ہمارا نبی بھی ہماری قوم سے نہیں تھا اور ان کے ذریعے جو ہدایات بھیجی گئیں وہ بھی ہماری زبان میں نہیں تھیں؟ تو کیا اللہ رب العزت نے خود انہیں یہ حجت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے؟ نہیں ! بلکہ اس نے ساری قوموں تک لسان قوم میں دین کی دعوت پہنچانے کی ذمے داری امت مسلمہ یعنی ہم سب کے اوپر ڈالی ہے۔ قرآن کا پیغام ہے: ”تم بہترین امت ہو جو تمام انسانوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہرکی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔“ (آل عمران: ۰۱۱)۔
یعنی یہ امت لوگوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے ہی پیدا کی گئی ہے تاکہ انہیں بھلائیوں کی طرف بلائے اور منکرات سے روکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہیں کہ یہ امت نبی کریم ﷺ کے کار دعوت میں شریک ہے۔ اب اس کی یہ ذمے داری ہے کہ تمام قوموں تک لسان قوم میں دین کی دعوت کو پہنچائے۔ قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس پر صریح دلالت کررہی ہے: ”آپ فرمادیجئے کہ میری راہ یہی ہے کہ بلاتا ہوں (لوگوں کو) اللہ کی طرف بصیرت کے ساتھ، میں (بھی) اور وہ (بھی) جو میرا اتباع کرنے والے ہیں اور اللہ پاک ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“ (یوسف: ۸۰۱)۔
لیکن علماءکے سلسلے میں آپ کا یہ فرمانا کہ وہ انبیاءکے وارث ہیں ان کے اوپر ایک خصوصی ذمے داری عائد کرتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ دعوت و تبلیغ کا حق بھی وہی لوگ ادا کرسکتے ہیں جو علم والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بے شک علماءانبیاءکے وارث ہیں اور بے شک انبیاءنے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا، بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔ اس لئے جس نے اس علم کو حاصل کرلیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا۔“ (جامع ترمذی، رقم الحدیث ۲۸۶۲، بروایت ابو الدردائؓ)۔
دوسری طرف کالجوں و یونیورسٹیوں کے فارغین کا طبقہ ہے جن کے پاس دوسری زبانوں اور عصری اسلوب میں اپنی باتیں رکھنے کی پوری صلاحیت ہوتی ہے لیکن ان کی اکثریت دین اور دینی علوم سے ہی نابلد ہے۔ ان میں سے کوئی اگر قرآن و سنت اور دعوت و تبلیغ کی طرف راغب بھی ہوتا ہے تو مروجہ علماءکا طبقہ بجائے اس کو اپنا معاون و مددگار سمجھنے کے، اپنا رقیب سمجھنے لگتا ہے اور بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے اس پر بری طرح سے حملہ آور ہوجاتا ہے اور عوام کو اس کے تئیں بدظن کرنے میں لگ جاتا ہے حالانکہ تجربے و مشاہدے سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ طبقہ اگر دعوت و تبلیغ پر کھڑا ہوجائے تو یہ اپنے طبقے کے ساتھ دوسری قوموں پر بھی زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔عالمی منظرنامے پر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دوسری قوموں تک ان کی زبان و اسلوب میں دعوت پہنچانے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن و حدیث اور دیگر اسلامی علوم کو دنیا کی تمام اقوام کی زبانوں میں منتقل کیا جائے جس میں اس عصری علوم سے وابستہ طبقے کی معاونت ضروری ہوگی بلکہ ان کی مدد کے بغیر اس حدف کو حاصل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔
اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طبقے کو دین اور دینی علوم سے قریب لایا جائے، انہیں ان کی ذمے داری کا احساس دلایا جائے، ساتھ ہی انہیں یہ سمجھایا جائے کہ وہ دین کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنی صلاحیتوں سے کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ یہ دونوں طبقے ایک دوسرے کے معاون بن کر دعوت و تبلیغ اور تصنیف و تالیف کا کام کریں تو بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن علماءجب تک اپنی روایتی سوچ سے باہر نہیں نکلیں گے اور مسلک سے اوپر نہیں اٹھیں گے، یہ کام نہیں ہوسکتا۔ انہیں فروعی مسائل کے اختلافات سے چشم پوشی کرکے اصول دین اور ان کی دعوت پر باہم متحد ہونا چاہیے۔ نیز ان کو اپنے مدارس کے نصاب میں بھی ضروری تبدیلی لانی چاہیے اور اس کا رخ مختلف اقوام کے لئے داعیوں کی تیاری کی طرف موڑنا چاہیے۔ الحمد للہ کچھ علماءکرام کے ذہن میں یہ باتیں آئی ہیں اور بعض اداروں میں یہ کام شروع بھی ہوچکا ہے لیکن وہ کافی نہیں ہے۔ زیادہ تر مروجہ اداروں کا نصب العین اپنے مسلک کا تحفظ ہی بن کر رہ گیا ہے۔
یاد رہے کہ جب تک ہم دوسری اقوام تک ان کی زبان و اسلوب میں دعوت پہنچا کر حجت پوری نہیں کردیں گے، نہ ان کی عمومی ہدایت کے فیصلے ہوں گے، نہ ہی ہمارے لئے اللہ کی مدد و نصرت آئے گی اور نہ ہی ظالموں کے لئے ہلاکت یا مغلوبیت کے فیصلے ہوں گے خواہ ہم کتنی ہی دعائیں کرتے رہیں کیوں کہ یہ ضابطہ خداوندی یا سنت الٰہیہ کے خلاف بات ہے جس کا ذکر سطور بالا میں کیا جاچکا ہے۔ ہماری اکثریت کا معاملہ تو یہ ہے کہ اسے اپنی اس ذمے داری کا احساس بھی نہیں، وہ دوسروں کے دین و ایمان کی فکر کیا رکھیں جب کہ خود دین سے بیگانہ ہوکر زندگی گزار رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہم خود ظالم بن چکے ہیں کیوں کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دی ہوئی ذمے داری کو نہیں نبھایا، دین و ایمان کا جو سرمایہ ہمارے پاس ہے ، ہم نے دنیا کی اقوام تک اسے نہیں پہنچایا اور ہم انہیں عذر تراشی کا یہ موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ بروز حساب اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ کہیں کہ ہمارے پاس تو کوئی نذیر نہیں آیا اور جب یہ معاملہ پیش آئے گا تو بالآخر کون پکڑا جائے گا؟
اس لئے ہمیں اس مسئلہ پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں احساس ذمے داری کے ساتھ اپنا قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ایک تو ہمیں اپنے علم میں روز افزوں اضافہ کرنا چاہیے کہ لاعلمی کسی نظام میں عذر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ دوسرے ، ہمیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جو کچھ بھی جانی، مالی، ذہنی و علمی صلاحیتیںدے رکھی ہیں ان کا استعمال دین کی ترویج و اشاعت اور دعوت و تبلیغ کے لئے کیسے ہوسکتا ہے ، اس پر غور کرنا چاہیے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس حقیر کو بھی علم کی دولت سے مالامال فرمائے اور اپنے دین کی دعوت کے لئے اس کی صلاحیتوں کو بھی قبول کرلے۔ آمین!












