نئی دہلی:راہل گاندھی کی بھارت جوڑویاترا دہلی سے یوپی کی طرف کوچ کرگئی ۔دہلی کے مرگھٹ ہنومان مندر سے 9دن کے وقفہ کے بعد شروع ہونے والی یاترا آج جمناپار کے مسلم اکثریتی علاقو ں سے ہوتے ہوئے اتر پردیش میںداخل ہوگئی ۔شاستری پارک سے لے کر لونی گول چکر تک لوگوں نے نہ صرف راہل گاندھی کا پرتپاک استقبال کیا بلکہ دوکانیں بند کرکے بھارت جوڑو یاترا میں جو ش و خروش کے ساتھ شریک بھی ہوئے اور اپنے محبوب لیڈر کو یقین دلایا کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ مدرسہ باب العلوم جعفرآباد کے اساتذہ اور طلبہ نے بھی ہاتھوں میں جھنڈے اور گل افشانی کرکے یاترا کا خیر مقدم کیا ۔موج پور کے کریسنٹ اسکول میں راہل گاندھی نے تھوڑا وقفہ کیا جہاں مقامی لیڈران اور انتظامےہ نے استقبال کیا۔ اس کے بعد گوکل پوری کے راستے یوپی کے لونی اسمبلی حلقہ میں داخل ہوگئے۔اس یاترا میں جہاں کئی کلو میٹر تک عوامی سیلاب تھا تو وہیں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکا ر بھی تھے جو کسی بھی ناخوشگوار حالات سے نپٹنے کے لئے مستعد تھے۔جگہ جگہ مقامی لیڈران کی جانب سے استقبالےہ گیٹ اور اسٹیج بھی بنائے گئے تھے جہاں سے راہل گاندھی ،کانگریس اور بھارت جورو یاترا کے نعرے لگائے جارہے تھے ۔قابل ذکر بات ےہ ہے کہ۔مسلم حلقوں میں جس طرح کا جوش وخروش دیکھنے کو ملا اس سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کارجحان کانگریس کی طرف ہے ۔علمائے کرام او ر دینی مدارس کے ذمہ داران میں بھی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔چونکہ جعفرآبا د،موج پور،کردم پوری،کبیر نگر اور گوکل پوری فساد متاثرہ علاقے تھے جس کی وجہ سے یہاں کے مسلم میں کچھ الگ ہی طرح کا جوش و خروش نظر آیا۔سیلم پور ویلکم لوہامارکیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے استقبالیہ تقریب کا اہمتام کیاگیا تھا ۔ بھارت جوڑو کا استقبال اور کےلئے جوش خروش دیکھنے کے لائق تھا ۔جس میںحاجی رئیس احمد اوران کے ساتھی موجود تھے۔گاندھی نگر ،شاستر ی پارک ،سیلم پور ،ویلکم ،جعفرآباد ،موج پور ،گوکل پوری جیسے علاقوں میں سابق ارکان اسمبلی اروندر سنگھ لولی چودھری متین احمد ،وپن شرما ،بھیشم شرما ،چودھری زبیر احمد ،طارق صدیقی،حکیم غیاث ہاشمی،ریاض الدین راجو،مینک چترویدی ،حاجی ظریف،حاجی دلشاد،حاجی نصیر احمد ،حاجی رئیس احمد ، ریاست ساحل،خرم صدیقی،حاجی خوشنود،جاوید چودھری وغیرہ نے انتظام و انصرام کا کلیدی رول ادا کیا۔دوسری طرف راہل گاندھی اور پرینکا غازی آباد میں تقریباً 6 کلومیٹر پیدل چل کر ایک ہی کار میں واپس دہلی پہنچے۔ راہل اور پرینکا کھجوری پستہ روڈ کے راستے دہلی گئے ہیں۔ یوپی کانگریس کے ریاستی صدر برجلال خبری نے بتایا کہ راہل گاندھی کی آج کی واک کا ہدف 25 کلومیٹر تھا۔دہلی اور غازی آباد سمیت راہل نے 25 کلومیٹر پیدل سفر کیا ہے۔ اب کل صبح باغپت کے ماوی لان سے کافر یاترا میں شامل ہوں گے۔ جبکہ یوپی یاترا کے کوآرڈینیٹر سلمان خورشید نے کہا کہ انہیں راہول کی واپسی کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔اس سے قبل پرینکا نے اسٹیج سے کہا، "کوئی مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ آپ کے بھائی کو سردی نہیں لگتی، آپ ڈرتے نہیں، اس کی حفاظت کے لیے، میرا جواب ہے کہ وہ سچائی کی بکتر پہن کر چل رہی ہیں، اللہ اسے سلامت رکھے۔” آو¿ سب مل کر چلیں، اتحاد، خیر سگالی اور محبت کا پیغام لے کر چلیں۔اس کے بعد دونوں نے لوگوں کو مبارکباد دی۔ حالانکہ راہل نے اسٹیج پر کوئی تقریر نہیں کی۔












