ایران:اسرائیل کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پچھلے مہینوں کے دوران خطے میں اس کے سب سے طاقتور دھڑے حزب اللہ کو ہونے والے بھاری نقصانات کے باوجود ایران نے کہا کہ اس کا مبینہ ’’ مزاحمت کا محور‘‘ اب بھی مضبوط ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مزاحمت کے محور پر حالیہ حملوں نے اسے مزید مضبوط کر دیا ہے۔
عباس نے دارالحکومت تہران میں منعقد سرکاری ملازمین کے لیے ایک خصوصی میلے میں اپنی شرکت کے دوران یہ بھی کہا کہ مزاحمت کے رہنما اور کمانڈر اپنے خون سے اس محور کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمتی نقطہ نظر، تمام اتار چڑھاؤ اور لگنے والی ضربوں کے باوجود اوپر کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ عباس موسوی سے لے کر حسن نصر اللہ تک حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل اور ہونے والے دیگر حملوں نے پارٹی میں کوئی نقص یا کمزوری پیدا نہیں کی۔ یاد رہے اسرائیل نے حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کو 27 ستمبر کو لبنان میں ایک چھاپہ مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیل نے 30 جولائی کو دوسرے اہم ترین سمجھے جانے والے رہنما فواد شکر کو قتل کیا تھا۔ پھر اسرائیل نے حزب اللہ کے رضوان یونٹ کے رہنما ابراہیم عقیل کو 20 ستمبر کو مار ڈالا۔صہیونی فوج نے 24 ستمبر کو پارٹی کے میزائل یونٹ کے رہنما ابراہیم قبیسی کو 26 ستمبر کو محمد سرور کو مار ڈالا۔ 28 سمتمبر کو نبیل قاووق کو قتل کیا گیا۔
اسرائیل نے تین اکتوبر 2024 کو بیروت کے مضافاتی علاقوں پر حملے جاری رکھتے ہوسے پارٹی کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی قتل کر دیا۔ صفی الدین نے حسن نصر اللہ کے بعد پارٹی سربراہ بننے جارہے تھے۔ شام میں 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے سے بھی حزب اللہ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
لبنانی فوج کے یونٹوں نے لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس ’یونیفل‘ کے تعاون سے جنوبی لبنان کے قصبے ناقورہ میں تعیناتی شروع کردی ہے۔یہ تعیناتی جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی کے اجلاس کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔
لبنانی فوج کی کمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے”فوج کے یونٹ ناقورہ – صور کے قصبے کے ارد گرد تعینات کیے گئےہیں۔ انہوں نے لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس کے ساتھ مل کر وہاں تعیناتی شروع کی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "تعیناتی اگلے مرحلے کے دوران مکمل ہو جائے گی۔ متعلقہ یونٹس شہر کا انجینئرنگ سروے کریں گے جس کا مقصد نہ پھٹنے والے گولہ بارود کو ہٹانا ہے”۔












