آخرت میں کامیابی کا بڑا نسخہ شریعت کی اتباع اور پیروی ہے۔ جو لوگ شریعت اور دین سے دور رہ کر دنیا وآخرت کی کامیابی تلاش کرتے ہیں، سوائے ناکامی کے کچھ ان کے ہاتھ نہیں آتا۔اللہ کا بڑا انعام ہے کہ ہم سب ایسے مہینہ سے گزر رہے ہیں جس میں نفلی روزہ رکھنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ رمضان سے قبل شعبان کا مہینہ عبادتوں اور نیکیوں کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں دیگر عبادات کے علاوہ روزہ رکھنے کی خاص تاکید نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :” شعبان سے زیادہ کسی دوسرے مہینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نفلی) روزہ رکھتے میں نے نہیں دیکھا“( بخاری ومسلم)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رمضان کی پیشگی تیاری کے طور پر زیادہ سے زیادہ روزہ رکھا کرتے تھے۔جس طرح ایک مسلمان فرض نماز سے قبل سنت مؤ کدہ، سنن اور نوافل کا اہتمام کرتا ہے، اسی طرح رمضان کے فرض روزہ سے قبل ایک مسلمان شعبان میں کثرت سے نفلی روزہ رکھتا ہے تاکہ فرض کی ادائیگی میں کوئی دقت نہ ہو۔ہر مسلمان کو شعبان کے مہینے کو غنیمت جانتے ہوئے استطاعت بھر روزہ رکھنے کی سعی کرنی چاہئے۔ اگر کوئی شعبان کے بیشتر دنوں کا روزہ رکھ سکتا ہے تو اسے ضرور رکھنا چاہئے اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت شعبان میں بیشتر دنوں کے روزہ رکھنے کی تھی۔
اگر کسی شخص پر گزشتہ رمضان کا روزہ باقی ہو توشعبان میں سب سے پہلے اس کو رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس لئے کہ شعبان آخری مہینہ ہوتا ہے جس میں مسلمان اپنے سابقہ رمضان کے چھوٹے روزوں کی قضا کرسکتا ہے۔ ہر مسلمان کو لازمی طور پر اپنے سال گزشتہ کے روزہ کو دوسرا رمضان آنے سے قبل رکھ لینا چاہئے۔ ایک رمضان کے روزہ کو دوسرے رمضان تک ٹالنا شریعت میں حرام ہے۔ اس لئے جس کا رمضان کا فوت شدہ روزہ ہے وہ شعبان میں پورا کرلے، اور دیگر لوگ نفلی روزوں کا اہتمام کریں۔ بعض لوگ پورے شعبان میں روزہ نہ رکھ کر رمضان سے قبل ایک یا دو روزہ استقبال رمضان کے نام پر رکھتے ہیں، ایسا کرنا شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے:” تم میں کا کوئی بھی رمضان سے ایک یادو دن قبل روزہ نہ رکھے، البتہ ان لوگوں کے جن کی عادت ان دنوں میں روزہ رکھنے کی رہی ہو“( صحیح بخاری ومسلم)۔ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ استقبال رمضان کے نام پر ہم کوئی روزہ نہیں رکھ سکتے، سوائے ان لوگوں کے جو ایام بیض( چاند کی تیرہوں، چودہویں،پندرہویں) کا روزہ، یا ہفتہ میں پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے، اگر رمضان سے ایک یا دو دن قبل ان روزوں میں سے کوئی روزہ آجائے تو رکھ سکتا ہے، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔شک کی بنیاد پر انتیسویں شعبان کا بھی روزہ نہیں رکھنا ناجائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جس نے شک والے دن کا روزہ رکھا اس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی“( ابو داود،ترمذی)۔
شعبان میں روزہ کے علاوہ دیگر عبادات کی بجاآوری بھی ہونی چاہئے۔جیسے نفلی نمازیں، صدقات وخیرات، اور قرآن کی تلاوت وغیرہ۔ شعبان میں نفلی روزہ کے بعد قرآن کریم کی تلاوت سب سے اہم ہے۔ اسلاف تلاوت قرآن کا شعبان میں خصوصی خیال رکھتے تھے۔ تابعین شعبان کو” قرائ“ کے مہینہ سے پکارا کرتے تھے۔ وہ لوگ جس طرح رمضان کے فرض روزہ کی تیاری نفلی روزہ سے کرتے تھے اسی طرح قرآن کے مہینہ (رمضان) کی تیاری شعبان میں تلاوت سے کرتے تھے۔اللہ تعالی نے فرمایا:” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کو نازل کیا گیا ہے“( البقرۃ: ۵۸۱)۔ اس لئے شعبان کو روزہ اور تلاوت قرآن سے معمور رکھنا چاہئے۔ایک ہی نہیں بلکہ ایک سے زائد مرتبہ شعبان میں قرآن کریم مکمل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔شعبان کا تقریبا ایک ہفتہ گزر چکا ہے،بقیہ دنوں کو غنیمت سمجھتے ہوئے شعبان کو کارآمد اور دنیاوی واخروی اعتبار سے نفع بخش بنانے میں ہمیں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے، اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے یہی اعمال قیامت میں کام آئیں گے، اس لئے اگر اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے تو اس کو عبادت میں لگائیں، معلوم نہیں ہماری زندگی سے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجائے، اس لئے عقلمندی اسی میں ہے کہ شعبان کو رمضان کی تیاری کے لئے وقف کردیں، اور اپنی زندگی کو گناہ ومعصیت سے بچانے کی پوری جتن کریں۔
بہت سارے مسلمانان پندرہویں شعبان کو روزہ اور دیگر نفلی عبادات کے لئے خاص کرتے ہیں۔ اس دن مختلف قسم کا پکوان بھی پکایا جاتا ہے۔ لوگ بزرگوں کی قبروں پر بھی جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس خصوصیت کی کوئی دلیل کتاب وسنت میں نہیں ہے۔ شریعت کے کسی عمل کو اپنے لحاظ سے خاص کرلینا منع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق طور پر شعبان میں بکثرت روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے ہم اس کے پابند ہیں۔ اگر اس میں ہم اپنی مرضی سے کسی قسم کی تخصیص کرتے ہیں تو ہمارے لئے ایسا کرنا درست نہیں ہوگا، بلکہ ایسے عمل کو شرعی نقطہ نظر سے بدعت کہا جاتا ہے۔ اور بدعت گناہ ہے۔ جس سے بچنے کی تاکید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے ایسا کام کیا جس کی دلیل قرآن وحدیث میں نہ ہو تو وہ مردود ہے“ یعنی اس کے اس پر عمل کا کوئی اعتبار وشمار نہیں۔
نہ جانے کتنے مسلمان ایسے بے بنیاد کاموں میں جٹے ہوئے ہیں۔ ان کو سنت کا طریقہ راس نہ آکر بدعت کی راہ بھاتی ہے۔ اسی میں مگن رہتے ہیں۔ فی الوقت تو بہت سارے مسلمان پندرہویں شعبان کو سیر سپاٹے کی رات سمجھتے اور ساری ساری رات شہروں میں مستی کرتے ہیں۔ مرد وخواتین کا اختلاط بھی ہوتا ہے۔ بالخصوص نوجوان مختلف قسم کے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس لئے سماج کے ذی شعور افراد کو اصلاح وسدھار کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور لوگوں کو سنت کا صحیح طریقہ بتانا چاہئے۔ ہم کوئی ایسا عمل نہ کریں جس کی اجازت ہماری شریعت نہ دیتی ہو۔












