نئی دہلی، 11مئی کو سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ دہلی کی موجودہ عام آدمی پارٹی کی سرکار اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان جاری تنازعہ پر جو فیصلہ سنایا اس نے عام لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد کیا انجانے میں غیر آئینی کارکردگی کرتے ہیں یا وہ کسی پلان کے تحت ،کسی کی خوشنودی کے لئے یا پھر کسی مفاد کے تحت اپنے آئینی حقوق کے حدود لانگھ جاتے ہیں ۔اور پھر اس کے نتیجے میں عوامی مفاد کو بھی نقصان پہنچتا ہے ،نظام حکومت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوتا ہے اور اس عہدے کا وقار بھی پامال ہوتا ہے تاآنکہ عدالت عالیہ تک بات پہنچتی ہے اور پھر عدالت عالیہ کو آئینی حدود کی وضاحت کرنی پڑتی ہے ۔
آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری اور معروف مسلم دانشور ڈاکٹر منظور عالم نے بھی دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے درمیان جاری تنازع کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے عوام کی جیت قرار دیا اور کہا کہ عوام کے ذریعہ منتخب حکومت کو عوام کیلئے کام کرنے کی پوری آزادی ملنی چاہیے اور سپریم کورٹ نے آج لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی کے وزیر اعلی کے حدود و حقوق کی وضاحت کر کے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی سرکار مستقل دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر پر الزام لگاتی رہی ہے کہ کام کرنے سے روکا جاتا ہے اور ہر جگہ ایل جی کی مداخلت ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے دہلی کے عوام کی حق تلفی ہورہی ہے ،سرکار کام نہیں کر پاتی ۔لیکن آج چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت میں پانچ ججز کے بینچ نے
صاف صاف کہدیا کہ دہلی کی سرکار بھی دیگر ریاستوں کی طرح عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتی ہے اس لئے سرکار کے فیصلوں پر ایل جی کو روک لگانے کا اختیار نہیں۔ البتہ دہلی چونکہ مستقل ریاست نہیں ہے اور وہ شعبہ جو دہلی سرکار کے اختیارات میں نہیں ہے اس میں ایل جی کا فیصلہ معتبر مانا جائے گا ۔ آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکر ٹری ڈاکٹرمحمد منظور عالم نے سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو عوام کے حق میں قرار دیا اور کہا کہ یہ دستور کا تقاضہ تھا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی سرکار کو عوام کے لئے کام کرنے کا موقعہ دیا جائے اور کسی طرح کی رکاوٹ نہ کھڑی کی جائے ، انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے اس تنازع کو حل کر کے ایک بہترین نظیر قائم کیا ہے۔
پیپلز اوئیرنیس فورم کے صدر اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان نے کہا ک چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے دہلی حکومت اور لفٹیننٹ گورنر کے بیچ چلی آرہی چپقلش کو لے کر جو فیصلہ دیا ہے وہ انتہائی مناسب ہے ۔ ایک منتخب سرکار کے پاس اتنے اختیارات تو ہونے ہی چاہئیں کہ اسے عوامی فلاح وبہبود کے پلان اور پروجیکٹ کے نفاذ میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ دراصل دستور ہند کے شق (8) میں مرکز کے زیر انتظام یونین ٹریٹریز کے ایڈمنسٹریشن کی بات کہی گئی ہے اور دہلی بھی ایک یونین ٹیریٹری ہی تھی مگر 1992 میں دستور ہند میں 69ویں ترمیم کے ذریعہ آرٹیکل 239AA شامل کر دہلی کو ایک خصوصی اسمبلی کا درجہ دیا گیا۔ لیکن قومی راجدھانی ہونے کے سبب مرکز نے لا اینڈ آرڈر اور زمین کے معاملات اپنے پاس رکھے اور پولیس وغیرہ اسی کے پاس ہی رہی۔ لہٰذا اسی کی آڑ لے کر لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سرکار کے ہر کام میں روڑا اٹکانا شروع کر دیا اور سرکار کا کام کاج کرنا دوبھر ہو گیا تھا۔ لہٰذا سپریم کورٹ نے دونوں کی حدود کا تعین کرکے ایک بہتر فیصلہ دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کابینہ کے فیصلے کو ماننے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر پابند ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ایک منتخب سرکار کو اتنا تو اختیار ہونا ہی چاہیے کہ وہ بیوروکریٹس و دیگر سرکاری افسران کا تبادلہ کر سکے اور ان پر نکیل لگا سکے نہیں تو کسی حکومت کے لئے یہ بنام کن ہے کہ وہ عوام کے حق میں لیے گئے اپنے فیصلے کو نافذ کرا س کے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کا یہ فیصلہ نہ صرف دہلی حکومت کے لئے بلکہ دیگر معاملات میں بھی ایک سنگ میل ثابت ہو گا ۔
مشہور اسلامی اسکالر اور مبصر تسلیم رحمانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ۔دلی سرکار اور گورنر کے دائرہ اختیار کے بارے میں حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں کہ یہ جمہوریت کی فتح ہے ۔ یہ مضحکہ خیز امر تھا کہ عوام کے ذریعے منتخب سرکار کو بے اختیار رکھا جائے اور مرکزی سرکار کے نامزد نمائندے کو منتخب نمائندوں کا بادشاہ بناُدیا جائے۔ یہ روح جمہورکی نفی بھی تھی اور عوام کے جمہوری اختیار کا مذاق اڑانے کے مترادف بھی ۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کے ذریعے واضح کردیا کہ جمہوریت کی آڑ میں مرکزی سرکار کا آمرانہ رویہ ناقابل قبول ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے تعلق سے جب آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر اور سیاسی مدبر نوید حامد صاحب سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے اس فیصلے کو پورے ملک میں موجود گورنر راج پر قدغن لگانے والا فیصلہ بتایا اور کہا کہ 2014 کے بعد عام طور پر یہ دیکھا جارہا ہے کہ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں سے لے کر تمام ریاستوں کے گورنر مرکزی حکومت اور ایک مخصوص پارٹی کے کارکن بن گئے ہیں ۔جبکہ گورنر کے عہدے کا ایک وقار ہے اور اسے پارٹی کی سیاست سے اوپر اٹھ کر اپنے آئینی حقوق کا استعمال بھی کرنا چاہئے اور ساتھ ہی آئین کے ذریعہ قائم کئے گئے حدود کو بھی کراس نہیں کرنا چاہئے ۔ لیکن عام طور پر دیکھا یہ جا رہا ہے کہ گورنر مختلف ریاستوں میں منتخب حکومت کے وزرائے اعلیٰ کے حدود اور عوامی مفاد میں لئے گئے اس کے کابینی فیصلہ میں مداخلت کر تے ہیں جو قطعی غیر آئینی ہے ۔سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اس سلسلے میں بے حد اہم اور بروقت ہے ۔جس کی پذیرائی کی جانی چاہئے۔












