• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

اسلام میں نظامِ عدل اور پرامن حصول کی راہ

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 31, 2026
0 0
A A
اسلام میں نظامِ عدل اور پرامن حصول کی راہ
Share on FacebookShare on Twitter

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس کی بنیاد چند کلیدی اصولوں پر رکھی گئی ہے، اور ان اصولوں میں سب سے نمایاں اور بنیادی ستون ’ـعدل‘ ہے۔ قرآن کریم اور سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام کا مقصدِ اولین ایک ایسے معاشرے کا قیام ہے جہاں ہر فرد کو اس کا حق ملے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا طبقے سے ہو۔ موجودہ دور کے پرآشوب حالات میں، جہاں بے چینی اور ناانصافی کا احساس بڑھ رہا ہے، یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اسلام تشدد اور جذباتی اشتعال کے بجائے صبر، تحمل اور آئینی راستوں سے انصاف کے حصول کا کیا درس دیتا ہے۔
قرآن مجید میں لفظ "عدل” اور "قسط” کا بار بار ذکر آیا ہے، جس کا مفہوم "چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھنا” اور "توازن قائم کرنا” ہے۔اگرچہ اس کے مترادف یا ترجمہ کے طور پر ہم انصاف کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔لفظ ’انصاف‘سے عدل کا مفہوم پوری طرح عیاں نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک صفاتی نام ’’العادل‘‘ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کا نظام عدل پر قائم ہے۔سورۃ النساء (آیت 135) میں اللہ تعالیٰ انصاف کے تقاضوں کو انتہائی سختی اور وضاحت کے ساتھ بیان فرماتے ہیں:”اے ایمان والو! انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لیے گواہ بنو، اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور قرابت داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔۔۔۔اورخواہشات کی پیروی تمھیں عدل کرنے سے نا روکے‘‘۔یہ آیت عدل کے اس اعلیٰ ترین معیار کو قائم کرتی ہے جہاں ذاتی مفاد، خاندانی تعصب اور گروہی وابستگی انصاف کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اسی طرح سورۃ المائدہ (آیت 8) میں فرمایا گیا کہ کسی قوم کی دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل کا دامن چھوڑ دو۔ یہ وہ سنہرا اصول ہے جو آج کے عصری تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جہاں جذباتی ردعمل اکثر انصاف کے تقاضوں کو پامال کر دیتا ہے اور بسا اوقات انفرادی اور اجتماعی (معاشرہ)نقصان کا باعث بنتا ہے۔
سیرت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں:
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرب کے اس جاہلی معاشرے میں عدل قائم کیا جہاں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کا قانون رائج تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشہور فرمان ہے کہ "تم سے پہلی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان کا کوئی بڑا (طاقتور) جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور جرم کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔”اسلامی تاریخ کے اوراق ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں جو آج بھی مشعلِ راہ ہیں:1 ۔خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق (رض)کا دورِ خلافت عدل کی بہترین مثال ہے۔ آپ نے ایک گورنر کے بیٹے کو ایک عام قبطی (مصری) کے بیٹے کو کوڑا مارنے پر سزا دی اور فرمایا کہ "تم نے لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا جبکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟” یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ حکمران طبقہ قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
2. ۔خلیفہ چہارم حضرت علی (رض) کا واقعہ عدلیہ کی آزادی کی بہترین مثال ہے۔ جب آپ کا اپنی زرہ کے حوالے سے ایک یہودی شہری کے ساتھ مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں گیا، تو قاضی نے خلیفہ وقت کے حق میں گواہی ناکافی ہونے کی بنا پر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ یہ وہ عدل تھا جس نے غیر مسلموں کو بھی اسلام کا گرویدہ بنا لیا۔
آج کے دور میں جب ہم اپنے اردگرد ناانصافی، کرپشن ،ظلم اور حقوق کی پامالی دیکھتے ہیں، تو ایک فطری ردعمل غصے اور اشتعال کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ اور فوری انصاف کے حصول کی خاطر طبیعت انتقامی جذبہ کو ابھارتی ہے تاہم، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام انصاف کے حصول کے لیے ’’فوری رد عمل‘‘ یا ’’انتقام‘‘ کا راستہ اپنانے کی اجازت دیتا ہے؟اس کاجواب نفی میں ہے۔ اسلام میں انصاف کے حصول کا راستہ صبر،اصلاح اور قانون کی پاسداری سے ہوکر گزرتا ہے، نہ کہ کسی ایسے فوری رد عمل سے جس سے معاشرہ میں انارکی اور انتشار پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔
ظلم اور پسماندگی اور عدم مساوات کے حوالے سے ہونے والی عصری بحثوں میں اکثر ایک انتہائی تشویشناک مفروضہ سامنے آتا ہے کہ ناانصافی کا واحد حقیقی اور مؤثر جواب صرف ’جذبۂ انتقام‘ ہے۔ اگرچہ یہ مفروضہ جذباتی طور پر تو پرکشش ہو سکتا ہے، لیکن نہ تو یہ تاریخی طور پر پائیدار ہے اور نہ ہی اسلامی تعلیمات سے اخلاقی مطابقت رکھتا ہے۔ اسلام نہ صرف ناانصافی کے خلاف مزاحمت کو ایک اخلاقی فریضہ تسلیم کرتا ہے بلکہ ان ذرائع پر بھی واضح اخلاقی حدود عائد کرتا ہے جن کے ذریعے یہ مزاحمت کی جاتی ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کا مرکزی نقطہ ’عدل‘ اور ’انتقام‘کے درمیان فرق ہے۔ عدل ایک الہامی حکم ہے، جبکہ انتقام ایک انسانی جذبہ ہے جسے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔سورۃ نساء کی درج بالا آیت میںقرآن مجید نے عدل کو اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد قرار دیا ہے۔یہ آیت عدل کو ایک معروضی (Objective) اخلاقی اصول کے طور پر قائم کرتی ہے جو ذاتی رنجش یا اجتماعی غصے سے آزاد ہے۔ اسلام میں انصاف کا حصول جذباتی تسکین کا نام نہیں، بلکہ ان اخلاقی اقدار کی پاسداری ہے جو سماجی ہم آہنگی کو محفوظ رکھتی ہیں۔ لہٰذا، غصے یا انتقام پر مبنی تشدد کو اسلامی اخلاقی ڈھانچے میں کوئی جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔بدقسمتی سے آج مسلمان اسی کے شکار ہیںنا صرف انفرادی ،خاندانی اور اجتماعی مسائل میںبلکہ مسلکی تعصب اور فرقہ بندی میں جذبہ ٔانتقام اور فوری رد عمل سے متاثر ہوکر’عدل اسلامی ‘اوربقائے باہمی‘کے سنہری اصول کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔فوری رد عمل اور انتقامی جذبہ سے متاثر ہوکرکچھ لوگ ایسی کارروائیاں کر بیٹھتے ہیںجن سے نا صرف فرد اور سماج کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوتی ہیںبلکہ وہ پائدار انصاف کے حصول کا عمل بھی مشکل تر ہوجاتاہے اوریہ سوچ ’ردعمل بمقابلہ لائحہ عمل‘مباحثے کو جنم دیتی ہے۔اس میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ نوجوان جذبات میں آکر قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ "برائی کا بدلہ اچھائی سے دو” یا کم از کم قانونی راستہ اختیار کرو۔ تشدداور انتقام ایک نیا ظلم پیدا کرتا ہے، اور ظلم سے عدل کبھی جنم نہیں لے سکتا۔
صبر و تحمل بطورِ حکمت عملی:صبر کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب "استقامت” ہے۔ یعنی ناانصافی کے خلاف قانونی اور اخلاقی دائرے میں رہ کر مسلسل جدوجہد کرنا۔ عدالتی نظام میں تاخیر یا رکاوٹیں آ سکتی ہیں، لیکن ایک مومن مایوس ہو کرعجلت بازی میںغیر اسلامی راستے اختیار نہیں کرتا۔
اداروں کا احترام: اسلامی نظامِ عدل میں "قاضی” (جج) اور عدالتی نظام کی بڑی اہمیت ہے۔ انفرادی طور پر بدلہ لینا یا ہجومی انصاف( Mob Justice) کی شکل میں فیصلے کرنا اسلامی روح کے منافی ہے۔ یہ معاشرے میں جنگل کا قانون نافذ کرنے کے مترادف ہے۔جیسا کہ حال میں بنگلہ دیش میں ہندووں کے خلاف کچھ کارروائیوں کو اسی پس منظر میں دیکھا گیالیکن عالمی پیمانے پر اس رویہ کی مذمت کی گئی اور یواین او نے بھی اس کی مذمت کی۔اچھی بات یہ رہی کہ مسلمانوں نے آگے بڑھکر ان کارروایئوں کی مذمت کی اور ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اوروہاں کے ایک وزیر نے مظلوم کے گھر پہونچ کر اس کے خاندان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیااور ان کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی جس سے سوسائٹی میں ایک مثبت پیغام گیااوراس کو ایک ایسے معاشرے میں- جہاں مشترک مذاہب اور کلچر کے ماننے والے رہتے ہیں -بقائے باہمی کے سنہری اصول کو تقویت اور پذیرائی ملی۔
حصولِ انصاف کی عملی راہ:
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، آج کے دور میں انصاف کے حصول کے لیے درج ذیل طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے:
1۔ شعور اور آگہی: سب سے پہلے اپنے حقوق اور فرائض کا علم ہونا ضروری ہے۔ تعلیم کے ذریعے معاشرے میں یہ شعور اجاگر کرنا کہ عدل صرف عدالت کا کام نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
2 ۔ذاتی کردار: قرآن کا حکم ہے کہ "اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔” انصاف کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے ماتحتوں، بیوی بچوں اور ملازمین کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، وہ معاشرتی سطح پر عدل کا مطالبہ کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتا۔یہ بات عیاں ہے کہ فرد سے ہی خاندان اور خاندان سے معاشرہ کا وجود عمل میں آتا ہے۔اس لئے اسلامی تربیت کا آغاز اپنی ذات اور اپنے ماتحتوں سے ہونا چاہئے۔
3۔پرامن آئینی جدوجہد:موجودہ جمہوری اور ریاستی ڈھانچوں میں رہتے ہوئے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا، عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا اور پرامن احتجاج کرنا ایک جائز طریقہ ہے۔ اسلام ظلم کے آگے سر جھکانے سے منع کرتا ہے، لیکن ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے جو ہتھیار دیتا ہے وہ "دلیل” اور "حق و قانونی راستہ ” ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام میں عدل کا تصور محض ایک ’خیالی‘ نظریہ نہیں ہے، بلکہ ایک قابلِ عمل حقیقت ہے جسے ہمارے اسلاف نے نافذ کر کے دکھایا۔ آج اگر ہم معاشرے میں عدل قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں زیادتی، انتقام اور تشدد کے راستے کو ترک کر کے صبر، استقامت اور قانونی راستوںکو اپنانا ہوگا۔انصاف کا حصول ایک طویل جدوجہد کا متقاضی ہے جس میں جذباتی نعروں سے زیادہ سنجیدہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ڈھیل ضرور دیتا ہے لیکن انصاف کے پلڑے بالآخر بھاری ہوتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انصاف کے حصول کی جدوجہد کو فساد سے پاک رکھیں اور اپنے کردار سے ثابت کریں کہ ہم واقعی اس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے امتی ہیں جو "رحمۃللعالمین” بن کر تشریف لائے تھے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist