رمضان کا تیسرا عشرہ ؛ توبہ کی قبولیت اور نجات کی گھڑی* فیض الرحمن اقدس اصلاحی رمضان المبارک کا آخری عشرہ محض وقت کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ یہ انسانی ارتقا اور ربِ کائنات سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو استوار کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ اگر ہم اسلام کے نظامِ عبادت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تربیت کے لیے جو نصاب مقرر فرمایا ہے، اس میں بتدریج شدت اور گہرائی پیدا کی گئی ہے۔ جس طرح ایک طالب علم پورے سال کی محنت کے بعد امتحانی ہال میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتا ہے، بالکل اسی طرح ایک مومن رمضان کے پہلے بیس دنوں میں تزکیہ نفس کی جو مشق کرتا ہے، اس کا خلاصہ اور حتمی نتیجہ ان آخری دس دنوں میں ظاہر ہونا چاہیے۔ یہ عشرہ دراصل "خدا فراموشی” کے مرض سے نکل کر "خدا طلبی” کی منزل پانے کا نام ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے انسان کی زندگی کا اصل مقصد اللہ کی بندگی اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ لیکن مادی دنیا کی رنگینیاں، معاشی دوڑ اور نفسانی خواہشات انسان کے گرد غفلت کا ایک ایسا جالا بن دیتی ہیں کہ وہ اپنے اصل مرکز سے دور ہو جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اس جالے کو توڑنے کے لیے آتا ہے، اور اس کا تیسرا عشرہ اس جدوجہد کی آخری اور فیصلہ کن ضرب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرہ: 183)۔ یہاں ‘تقویٰ’ کو روزے کا حاصل قرار دیا گیا ہے۔ تقویٰ کوئی گوشہ نشینی کا نام نہیں، بلکہ یہ اس شعورِ ذمہ داری کا نام ہے جو انسان کو قدم قدم پر یہ احساس دلائے کہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہے۔ تیسرے عشرے کی عبادات، خاص طور پر اعتکاف اور شبِ قدر کی تلاش، اسی شعور کو جلا بخشنے کے لیے ہیں۔ جب ہم تیسرے عشرے پر غور کرتے ہیں تو ہمیں نبی کریم ﷺ کا وہ اسوہ حسنہ نظر آتا ہے جس میں عمل کی انتہا نظر آتی ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ العَشْرُ، أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ المِئْزَرَ” (بخاری و مسلم)۔ یعنی جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ ﷺ راتوں کو زندہ کرتے، اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے اور کمر بستہ ہو جاتے۔ یہ "کمر بستہ ہونا” محض ایک استعارہ نہیں بلکہ اس تڑپ کا اظہار ہے جو ایک داعیِ حق اور بندہِ مومن کے دل میں اپنے رب کی مغفرت پانے کے لیے ہونی چاہیے۔ یہ عشرہ سستی اور کاہلی کا نہیں بلکہ جہدِ مسلسل کا ہے، تاکہ بندہ اس مقامِ نجات تک پہنچ سکے جسے حدیثِ نبوی میں "عتق من النار” (آگ سے آزادی) کہا گیا ہے۔ اس عشرے کا سب سے اہم پہلو "لیلۃ القدر” کی تلاش ہے۔ قرآن
مجید کی سورۃ القدر میں اس رات کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔ ذرا غور کیجیے، ایک ایسی رات جو ہزار مہینوں یعنی تقریباً تراسی سالوں سے بہتر ہے۔ یہ محض ثواب کی تقسیم کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ "قدر” یعنی فیصلے کی رات ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں کائنات کا نظام چلانے والے فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور انسانی تقدیروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ منطقی طور پر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جو قوم یا فرد اپنی تقدیر بدلنا چاہتا ہے، اسے اس رات بیدار رہ کر اپنے رب سے ہم کلام ہونا چاہیے۔ یہ رات اس لیے پوشیدہ رکھی گئی تاکہ مومن صرف ایک رات کی عبادت پر اکتفا نہ کرے، بلکہ وہ تڑپ اور جستجو کے عالم میں پانچوں طاق راتوں کو اپنے رب کی یاد میں گزارے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ” (بخاری)۔ یہ تلاش بندے کے اندر وہ تڑپ پیدا کرتی ہے جو اسے ایک جامد مذہبی ڈھانچے سے نکال کر ایک زندہ اور متحرک روحانی وجود میں تبدیل کر دیتی ہے۔ تیسرے عشرے کی ایک اور عظیم الشان سنت "اعتکاف” ہے۔ اعتکاف دراصل دنیا سے ناتا توڑ کر خدا سے ناتا جوڑنے کی ایک شعوری مشق ہے۔ موجودہ مادی دور میں انسان اپنی ذات سے بیگانہ ہو چکا ہے۔ وہ ہجوم میں تو ہے لیکن تنہائی سے ڈرتا ہے۔ اعتکاف اسے وہ تنہائی فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے نفس کا احتساب کر سکے، اپنے گناہوں کی فہرست مرتب کرے اور آنسوؤں کے ذریعے اپنے ضمیر کی آلودگی کو دھو ڈالے۔ یہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھنا نہیں بلکہ اپنے دل کو اللہ کا گھر بنانے کی ایک مشق ہے۔ نبی کریم ﷺ ہر سال اس کا اہتمام فرماتے تاکہ امت کو یہ سبق ملے کہ سال بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد کم از کم دس دن ایسے ہونے چاہئیں جہاں کوئی تیسرا مائلِ پرواز نہ ہو، صرف بندہ ہو اور اس کا معبود ہو۔ اس عشرے میں معافی اور نجات کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، وہ انتہائی جامع ہے۔ اسلام میں توبہ محض چند الفاظ کی تکرار نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل "انقلابِ حال” ہے۔ جب بندہ کہتا ہے اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے)، تو وہ دراصل اللہ کی صفتِ عفو سے لو لگا رہا ہوتا ہے۔ یہ دعا جو نبی ﷺ نے حضرت عائشہؓ کو سکھائی، ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل معاف کر دینا ہے۔ منطقی طور پر، اگر ہم اللہ سے معافی کے طلبگار ہیں تو ہمیں اپنے اندر بھی عفو و درگزر پیدا کرنا ہوگا۔ رمضان کا یہ آخری مرحلہ ہمیں ایک ایسا انسان بناتا ہے جو نہ صرف اپنے رب سے صلح کرتا ہے بلکہ اللہ کی مخلوق کے لیے بھی سراپا سلامتی بن جاتا ہے۔ تیسرے عشرے کی روح "نجات” میں پنہاں ہے۔ نجات کس سے؟ نجات ان زنجیروں سے جو ہمیں پستی کی طرف کھینچتی ہیں۔ نجات ان عادتوں سے جو ہمیں حیوان بناتی ہیں۔ نجات جہنم کی اس آگ سے جو آخرت میں ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ” (آل عمران: 185)۔ یعنی حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔ رمضان کے یہ آخری دس دن اسی "فوزِ عظیم” یا بڑی کامیابی کے حصول کا لائسنس حاصل کرنے کے دن ہیں۔ عبادات کے اس ہجوم میں اسلام ہمیں سماجی ذمہ داریوں سے غافل نہیں کرتا۔ اسی عشرے میں "صدقہ فطر” کی ادائیگی واجب کی گئی ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ عید کی خوشیاں صرف ان لوگوں تک محدود نہ رہیں جو متمول ہیں، بلکہ معاشرے کا کچلا ہوا طبقہ بھی اس دن مسرت محسوس کر سکے۔ یہ اسلام کے نظامِ عدل کا ایک حصہ ہے کہ جہاں آپ اپنی روحانی بلندی کے لیے کوشاں ہیں، وہیں آپ کو اپنے بھائی کی مادی ضرورت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ صدقہ فطر روزوں کی لغویات اور کوتاہیوں کی پاکی کا ذریعہ ہے اور مساکین کے لیے کھانے کا سامان۔ گویا ہماری عبادت اس وقت تک قبولیت کے درجے کو نہیں چھو سکتی جب تک اس میں انسانیت کی خدمت کا عنصر شامل نہ ہو۔ موجودہ دور کے تناظر میں دیکھا جائے تو رمضان کا تیسرا عشرہ ہمیں ایک بڑی زہنی تبدیلی کی طرف بلاتا ہے۔ آج کا انسان ڈپریشن، اضطراب اور بے چینی کا شکار ہے۔ اس بے چینی کی بنیادی وجہ خدا سے دوری اور مادہ پرستی ہے۔ جب ایک مومن آخری عشرے کی راتوں میں سجدہ ریز ہوتا ہے، جب وہ تلاوتِ قرآن کے ذریعے کلامِ الٰہی سے گفتگو کرتا ہے، اور جب وہ اعتکاف کی صورت میں خلوت اختیار کرتا ہے، تو اسے وہ اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے جو دنیا کے کسی خزانے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ قرآن کہتا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 28)۔ یہ اطمینان ہی وہ ڈھال ہے جو اسے زندگی کے طوفانوں میں ثابت قدم رکھتی ہے۔ رمضان کا الوداعی مرحلہ ہمیں وقت کی قدر و قیمت کا احساس بھی دلاتا ہے۔ یہ دس دن اتنی تیزی سے گزرتے ہیں کہ انسان کو اپنی عمر کی بے ثباتی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں پیغام دیتا ہے کہ فرصت کے لمحات کو غنیمت جانو اس سے پہلے کہ موت کا فرشتہ دستک دے دے۔ اگر ہم نے ان دس دنوں میں اپنے اخلاق کو نہیں بدلا، اگر ہم نے اپنی زبان کو جھوٹ اور غیبت سے پاک نہیں کیا، اور اگر ہمارے دل میں انسانیت کے لیے ہمدردی پیدا نہیں ہوئی، تو پھر ہماری یہ ریاضت محض ایک رسم بن کر رہ جائے گی۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس نے رمضان پایا اور اپنی بخشش نہ کروا سکا، وہ ہلاک ہو گیا۔ یہ سخت جملہ اس اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ مغفرت کے اتنے مواقع ہونے کے باوجود اگر کوئی محروم رہ جائے تو یہ اس کی اپنی بدقسمتی ہے۔ آخری عشرے کی عبادات کا ایک اور پہلو "اجتماعیت” ہے۔ تراویح کی طویل نمازیں، تلاوت کے حلقے اور اجتماعی دعائیں مسلمانوں میں وحدت کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام محض ایک انفرادی مذہب نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب ہے۔ جب پوری بستی کے لوگ ایک ہی وقت میں اپنے رب کے سامنے گڑگڑا رہے ہوتے ہیں۔
تو رحمتِ الٰہی کا نزول لازمی ہو جاتا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں سکھاتا ہے کہ امتِ مسلمہ کا درد ایک ہے، ان کا قبلہ ایک ہے اور ان کا مقصدِ حیات بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ تحریر کے اس اختتامی مرحلے پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ رمضان کے تیسرے عشرے کا اصل مقصد "تبدیلی” ہے۔ یہ تبدیلی صرف مسجد کی حد تک نہیں ہونی چاہیے، بلکہ رمضان کے بعد کی گیارہ مہینوں کی زندگی پر اس کے اثرات مرتب ہونے چاہئیں۔ اگر ہم نے لیلۃ القدر میں گناہوں سے توبہ کی ہے، تو عید کے بعد ان گناہوں کی طرف لوٹنا اس عہد کی نفی ہوگی۔ نجات کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے شیطان کی غلامی کا جوا اتار پھینکا ہے اور اب ہم صرف اللہ کے بندے بن کر جئیں گے۔ یہی وہ شعور ہے جو ایک مومن کو عام انسانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ رمضان کا تیسرا عشرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج اور رحمت کی انتہا ہے۔ یہ وہ سنہری موقع ہے جہاں گناہوں کے سیاہ دھبے دھوئے جا سکتے ہیں اور اپنی قسمت کا قلم اللہ کے ہاتھ میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ عشرہ ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے غفلت میں ڈوبے ہوئے انسان! ابھی وقت ہے، پلٹ آ اپنے رب کی طرف، اس سے پہلے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے۔ جو شخص ان لمحات کی قدر کرتا ہے، وہی حقیقت میں کامیاب ہے، اور جس نے ان ایام کو بازاروں کی نذر کر دیا یا خوابِ غفلت میں گزار دیا، اس نے اپنی عاقبت کا سودا خسارے میں کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عشرے کی تمام برکات سمیٹنے اور حقیقی معنوں میں جہنم سے نجات پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔












