5 اپریل 2026 کی شب جب یہ افسوس ناک خبر عام ہوئی کہ حضرت مولانا حکیم عبداللہ مغیثیؒ اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے تو علمی، دینی اور ملی حلقوں میں غم کی ایک لہر دوڑ گئی۔ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔ بلاشبہ ان کی وفات ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک بڑا خسارہ ہے، کیونکہ وہ ان بزرگ شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین، علم اور ملت کی خدمت میں صرف کردی۔
مولانا عبداللہ مغیثیؒ کی پیدائش ضلع میرٹھ کے قصبہ اجراڑہ میں ہوئی، جو بعد میں ان کی سرگرمیوں کا مرکز بھی بنا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا اور وہاں جلیل القدر اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ ان کے اساتذہ میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ جیسی عظیم شخصیت شامل تھی، جس کا اثر ان کی فکر اور مزاج میں نمایاں طور پر دیکھا جاسکتا تھا۔ بعد ازاں انہیں حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ (علی میاں) سے روحانی نسبت بھی حاصل ہوئی، جس نے ان کی شخصیت میں اعتدال، بصیرت اور وسعتِ نظر پیدا کی۔
تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا نے خود کو مکمل طور پر دینی و تعلیمی خدمات کے لیے وقف کردیا۔ وہ جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ (ضلع میرٹھ) کے بانی و مہتمم تھے، جہاں انہوں نے نہ صرف ایک مضبوط تعلیمی نظام قائم کیا بلکہ طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔ ان کی نمایاں خدمات میں مغربی اترپردیش کے مختلف علاقوں میں مکاتب اور مدارس کا جال بچھانا اور ان کی سرپرستی کرنا شامل ہے۔ اس طرح انہوں نے دین کی تعلیم کو عام کرنے اور نئی نسل کو اس سے جوڑنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔
حضرت مولانا عبدللہ مغیثیؒ کی خدمات کا ایک اہم پہلو ان کی ملی و تنظیمی سرگرمیاں ہیں۔ وہ طویل عرصہ تک آل انڈیا ملی کونسل کے صدر رہے اور اس حیثیت سے انہوں نے ملت کے مسائل کو سنجیدگی، حکمت اور متانت کے ساتھ پیش کیا۔ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلسِ عاملہ کے رکن بھی تھے اور اس کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے دور دراز کا سفر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ تنظیم ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند کے مرکزی صدر، مظاہر علوم وقف کی شوریٰ کے رکن اور کئی دیگر دینی و ملی اداروں سے وابستہ رہے۔
ان کی ملی زندگی کا امتیاز یہ تھا کہ وہ بے لوث خدمت کے جذبہ سے سرشار تھے۔ ان کے یہاں نہ کسی ذاتی مفاد کی طلب تھی اور نہ کسی سیاسی ایجنڈے کی جھلک، بلکہ وہ خالصتاً ملت کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھ کر ان کے حل کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ وہ اتحادِ ملت کے داعی اور اختلافات کو ختم کرنے کے خواہاں تھے، اور ہمیشہ صلح و آشتی کا پیغام دیتے تھے۔
شخصی اعتبار سے حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ سادگی، اخلاص اور للہیت کا پیکر تھے۔ ان کی زندگی میں تکلف اور بناوٹ کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ رہن سہن نہایت سادہ، گفتگو شائستہ اور طرزِ عمل نہایت متوازن تھا۔ ان کے یہاں مہمان نوازی کا جذبہ بھی قابلِ رشک تھا؛ جو بھی ان کے پاس آتا، وہ خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کرتے اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔
بزرگوں کا احترام ان کی فطرت میں شامل تھا۔ اپنے اساتذہ اور اکابر سے ان کی وابستگی محض رسمی نہ تھی بلکہ قلبی اور عملی تھی اور وہ اس نسبت کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے تھے۔ اسی طرح چھوٹوں کے ساتھ ان کا برتاؤ نہایت شفقت بھرا ہوتا تھا۔ طلبہ، نوجوانوں اور نئے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کی رہنمائی کرنا اور انہیں آگے بڑھانے کی فکر کرنا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ بہت سے افراد ایسے ہیں جنہوں نے ان کی سرپرستی اور دعاؤں کے سائے میں اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور آج مختلف میدانوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وہ علم و عمل کے جامع تھے اور ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ کہا، اس پر خود بھی عمل کیا۔ ان کی گفتگو میں دردِ دل، سنجیدگی اور خیر خواہی نمایاں ہوتی تھی۔ وہ اختلاف کے موقع پر بھی توازن اور حکمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ امت میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کی کوشش کرتے تھے۔
مولانامرحوم کے نام اور کارناموں سے میرے کان ندوہ ہی میں آشنا ہوچکے تھے ۔البتہ ان سے میری پہلی ملاقات ایک تعلیمی کارواں کے دوران ہوئی۔غالباً 1995ء کی بات ہے جب ملی کونسل کی جانب سے ضلع بجنور میں ایک تعلیمی کارواں کا اہتمام کیا گیا، یہ کارواں سہنس پور سے شروع ہو کر شہر بجنور میں اختتام پذیر ہواتھا۔ یہ تین روزہ پروگرام تھا، جس میں مولانا اسرار الحق قاسمی صاحبؒ،کمال فاروقی صاحب اور مولانا عبداللہ مغیثی صاحبؒ بھی شامل تھے۔منتظمین کی جانب سے مجھے بھی اس کارواں میںمدعو کیا گیا تھا۔ میں سہنس پور سے ہی اس وفد میں شامل ہو گیااور میں نے بھی تعلیم کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔اس طرح مجھے اپنے وقت کی تین اہم شخصیات کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کا موقع ملا۔
سہنس پور سے براہِ راست دھام پور کا پروگرام تھا، سیوہارہ میں کوئی پروگرام طے نہیں تھا، تاہم میں نے سیوہارہ کی شاہی جامع مسجد میں ان حضرات کا ایک اجتماع رکھوا دیا، جہاں ان کی تقاریر ہوئیں۔مولانا عبداللہ مغیثی علیہ الرحمہ کے کافی شناسا سیوہارہ میں تھے ،ایک بڑی تعداد شریک اجتماع ہوئی۔ ان دنوں مولانا عبدالجلیل صاحب بھٹہ والے جمعیۃ علماء یوپی کے صدر تھے۔ وہ علیل تھے۔ یہ وفد مولانا عبدالجلیل صاحب کی عیادت کے لیے ان کے گھر بھی گیا۔
پروگرام کے بعد یہ معزز وفد غریب خانے پر سرکڑہ تشریف لایا، جہاں دوپہر کا کھانا تناول فرمایا، کچھ دیر آرام کیا، اور پھر ہم سب دھام پور کے لیے روانہ ہوئے۔ رات کا پروگرام نگینہ میں تھا اور قیام بھی وہیں رہا۔ میں نے بھی اس رات ان کے ساتھ نگینہ میں قیام کیا۔ صبح کے وقت میں واپس آ گیا، جبکہ یہ حضرات بجنور کے لیے روانہ ہو گئے۔ اس طرح مجھے ان تینوں اکابر شخصیات سے تفصیلی تبادلۂ خیال، مشاورت اور قربت کا موقع ملا، اور میں نے انہیں قریب سے سمجھا۔اس وفد میں جامعہ گلزارحسینیہ کے شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد عاقل صاحب بھی شریک تھے ۔وفد کے سرکڑہ آمد پر بستی والوں نے پرتپاک خیر مقدم کیا تھا ۔مولانا عاقل صاحب ایک اچھے شاعر بھی ہیں ،موصوف اسی وقت نے برجستہ ایک شعر کہا تھا:۔
ہر بشر بیتاب تھااک پیر سے تھا ہر کھڑا
یہ سراج الدین مولاناکا گھر تھا سرکڑہ
آج جب برائے تعزیت میں نے جامعہ گلزار حسینیہ فون کیا تو مولانا محمد عاقل قاسمی صاحب سے بات ہوئی موصوف نے مجھے کارواں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ شعر دوبارہ سنایا۔
اس کارواںکے ٹھیک اگلے سال ہمارے ایک دوست جناب قمری باشا صاحب جو بیرون ملک مقیم تھے ،مجھ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے ۔میں اپنے ایک عزیزکے ساتھ انھیں رسیو کرنے کے لیے دہلی ائر پورٹ گیا ۔واپسی میں ہم لوگ حضرت مولانا عبداللہ مغیثی صاحب سے ملاقات اور ان کے تعلیمی ادارہ ’’ جامعہ گلزار حسینیہ ‘‘ دیکھنے کے لیے اجراڑہ گئے ۔رات کا کھانا بھی مولانا کے دسترخوان پر تناول کیا اور قیام بھی مدرسہ کے مہمان خانہ میں رہا ۔یہ میری ان سے براہ راست دوسری ملاقات تھی ۔
مرحوم سے میری تیسری ملاقات بھٹکل میں اس وقت ہوئی جب مولانا علی میاں ؒ کی رحلت کے بعد عالمی رابطہ ادب اسلامی نے مرحوم کی حیات و خدمات پر ایک سمینار منعقد کیاگیا تھا ۔میں نے بھی ’’ حضرت مولانا علی میاں کی قصہ نگاری ‘‘ پر مقالہ پیش کیا تھا ۔اس موقع پربڑی تعداد میں ملکی اوربین الاقوامی شخصیات موجود تھیں ۔اس موقع پر ماہنامہ اچھاساتھی کی جانب سے مولانا علی میاں ؒ پر ایک خاص نمبر بھی شائع کیا گیا تھا ۔اس خاص نمبر کا اجراء اسی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں ہواتھا۔اس مبارک موقع پر مولانا عبداللہ مغیثی ؒ بھی اسٹیج پر جلوہ افروز تھے ۔یہ میری سعادت تھی کہ اچھا ساتھی ان کے دست مبارک میں بھی تھا۔
مذکورہ تین بالمشافہ ملاقاتوں کے علاوہ د و مواقع اور میسر آئے تھے کہ ان سے استفادہ کیاجاتا،لیکن شاید قدرت کو منظور نہیں تھا ۔ہوا یوں کہ ایک بار عالمی رابطہ ادب اسلامی کااجلاس جامعہ گلزارحسینیہ میں منعقد ہوا ۔مجھے بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی ۔میں اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلا ۔میرے ساتھ دو احباب بھی تھے ۔مگر راستہ میں ہماری کار حادثہ کا شکار ہوگئی اور اس نے مزید چلنے سے انکار کردیا ۔
لہٰذا ہم لوگ درمیان راستہ سے ہی واپس چلے آئے۔دوسرا موقع اس وقت آیا جب ہم نے جامعۃ الفیصل میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کا سمینار منعقد کیا ۔یہ سمینار حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ؒ کی وفات کے بعد ان کی حیات و خدمات کے موضوع پر منعقد ہوا تھا ۔اس سمینار کے افتتاحی اجلاس میں حضرت مولانا عبداللہ مغیثی ؒ کو بھی شرکت کرنا تھی ۔موصوف نے منظوری دے دی تھی ۔لیکن اچانک طبیعت ناساز ہونے اور ڈاکٹروں کی طرف سے سفر نہ کرنے کی ہدایت کے سبب موصوف شرکت کرنے سے قاصر رہے ۔ان کی نمائندگی مولانا آس محمد گلزار قاسمی صاحب دامت برکاتہم نے کی ۔اس کے علاوہ مولانا مرحوم سے کئی بار فون پر گفتگو کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ۔ان کی بیماری کی جب جب مجھے اطلاع ملی ،میں نے فون پر حالات دریافت کیے ۔
مولانا مرحوم کا شمار اپنے معاصرین میں ایک باوقار اور معتبر عالم کے طور پر کیا جاتا تھا۔ مختلف دینی و ملی اداروں میں ان کی فعال شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اہلِ علم اور اہلِ فکر میں غیر معمولی اعتماد حاصل تھا۔ان کی وفات کی خبر نے ان سے ملاقاتوں اور باتوں کی ساری یادیں تازہ کردیں ۔ان کا نوارانی چہرہ سامنے آگیا ۔وہ بلاشبہ نیک و مخلص انسان تھے ۔اللہ تعالیٰ حضرت مولانا حکیم عبداللہ مغیثیؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔












