نئیدہلی:
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت اور تشدد کے واقعات کے درمیان رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالکریم العیسی کے بھارت دورے پر مسلم حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے ۔اس دوران ڈاکٹر عبدالکریم العیسی کے بھارت دورے پرآئ ایم سی آر کے چیٔرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ پر جاری بحث کے دوران سعودی مہمان کا بھارت دورہ مودی حکومت کے ذریعے مسلمانوں میں اپنی گرفت مضبوط بنانے کا ایک خفیہ کھیل کا حصہ نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر العیسی کا اس وقت بھارت کا دورہ اور جن مشکوک لوگوں کے ذریعے انہیں استقبالیہ دیا گیا، وہ ہم مسلمانوں میں شدید تشویش پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بھارت کے مسلمانوں میں اپنی پہنچ بنانے کے لئے رابطہ عالم اسلامی کا استعمال کر رہی ہے ۔ یہ بات سعودی مہمان کو بخوبی پتہ رہنی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ دھلی کے اسلامک کلچرل سینٹر میں جن لوگوں نے بھی ڈاکٹر عبدالکریم العیسی کو استقبالیہ دیا۔ انکے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ ان کےحکومت اور برسراقتدار جماعت بی جے پی کے ساتھ کیسے روابط اور تعلقات ہیں، مسلم سماج میں ان کی مشکوک شخصیت سے سبھی واقف ہیں ۔
محمد ادیب نے کہاکہ رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل کو اگر دورہ کرنا ہی تھا تو وہ فلسطین کا دورہ کرتے، جہاں ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے ۔رابطہ عالم اسلامی کا کام فلسطین میں کرنے کا ہے نا کہ بھارت میں ۔ ہمیں آپ کی مدد یا سہارا درکار نہیں ہے ۔ ہماری مدد کےلیے ہمارے سیکولر غیر مسلم بھائی کافی ہیں۔ ہم مسلمان اپنے غیر مسلم سیکولر بھائیوں کی مدد سے اپنی لڑائی خود لڑ لیں گے۔ہم اپنے سیکولر غیر مسلم بھائیوں پر یقین رکھتے ہیں اور موجودہ مرکز کی فاشسٹ حکومت کی ایماء پر آپ یہاں آئے ہیں۔ ہم اپنی لڑائی اچھی طرح سے لڑ رہے ہیں۔ آپ یہاں آکر ماحول کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔انہونے کہاکہ یہ ہم بھارت کے مسلمانوں کو ہرگز منظور نہیں ہے ۔ انہوں نے رابطہ عالم اسلامی کے رہنما سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات بی جے پی کے بچھاۓ جال میں نہ پھنسیں۔
آئ ایم سی آر کے صدر نے رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل کے اس بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامک کلچرل سینٹر کے جس پروگرام میں انہوں نے بھارت کے قصیدے پڑھے، اسی پروگرام میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کہتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو رہی ہے ۔ اور ہال میں موجود تمام اکابر ین خاموش بیٹھے رہے۔ اس سے زیادہ شرمناک اور افسوسناک بات کیا ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر رابطہ عالم اسلامی کو کام کرنا ہے تو فلسطین جأیں وہاں کام کریں، اور یہاں پر مسلمانوں کے موجودہ حالات کی غلط تشریح پیش کر کنفیوژن کا ماحول پیدا نہ کریں۔
محمد ادیب نے کہا کہ موجودہ حکومت میں مسلمانان ہند اور اسلام کو جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے ، یہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ایسے حالات میں اس طرح سے قصیدہ خوانی کرنا نہ صرف مہمان کی شخصیت کو مشکوک بنائے گا بلکہ رابطہ عالم اسلامی کے وقار کو بھی مجروح کرےگا۔












