پٹنہ ، پریس ریلیز،ہمارا سماج:واشنگٹن ٹاؤن سے شائع ہونے والے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور انکی حکومت نے ایران پر حملہ کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لابنگ کی اور اسکے نتیجہ میں ایران پر یہ حملہ ہوا ۔خبر کے منظر عام پر آنے کے فوراً بعد واشنگٹن میں موجود سعودی سفارت خانہ نے اسکا نوٹس لیا۔ اور بلا تاخیر اس جھوٹی اور بے بنیاد خبر کی تردید کردی ۔ سعودی سفارت خانہ کے ترجمان فھد ناظر نے اپنے تردیدی بیان میں کہا کہ ۔ سعودی عرب ایران کے ساتھ ایک قابل اعتماد معاہدہ طے کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں مستقل مزاجی سے کام کررہا ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ سے اپنی تمام بات چیت میں کسی بھی موقع پر ھم نے صدر ٹرمپ سے مختلف پالیسی بنانے کے لیے لابنگ نہیں کی۔ ترجمان فہد ناظر نے اس جھوٹی خبر کے بارے میں اپنے شوشل اکاؤنٹ ایکس پر لکھا کہ ۔۔سعود ی عرب خطے میں فوجی تصادم کو روکنے کے لیے کام کرنے والے خلیجی ممالک میں شامل تھا اور اعلانیہ یہ کہا تھا کہ وہ کسی ممکنہ جنگ کا حصہ نھیں بنے گا ۔اس واضح تردیدی بیان کے باوجود سعودی عرب اور اسکے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بدنام کرنے اور دانستہ طور پر سعودی عرب کو جنگ میں گھسیٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر اس بے بنیاد خبر کو پھیلایا گیا ۔ خاص طور پر بر صغیر کے تحریکی اور رافضی فکر کے حامل صحافیوں اور لوگوں نے اس جھوٹی خبر کو بنیاد بنا کر ولیعہد محمد بن سلمان کو مسلمانوں کا غدار اور رافضی خامنائی کا قاتل بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی ناپاک جرآت کی۔ اور ایسا باور کرایا کہ گویا اس گفتگو میں وہ بھی شریک تھے ۔اسکے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ولی عہد کی صدر ایران سے جو ٹیلی فونک گفتگو ھوی ھے وہ رسمی طور پر عالمی میڈیا میں موجود ہے ۔جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ 26 جنوری کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کے صدر کو فون پر یہ بتایا کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا ۔اسکے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ولی عہد کی صدر ایران سے جو ٹیلی فونک گفتگو ھوی ھے وہ رسمی طور پر عالمی میڈیا میں موجود ہے ۔جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ 26 جنوری کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کے صدر کو فون پر یہ بتایا کہ سعودی عرب ایران پر کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا ۔ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے کو ولی عہد کے ایماء پر کیا گیا حملہ بتانا ان احمقوں کے فکری تضاد کو ظاہر کرتا ہے ۔ایک طرف یہ لوگ یہ راگ الاپتے رہتے ہیں کہ سعودی عرب امریکہ کا پٹھو اور غلام ہے۔ اور دوسری طرف ولی عہد کو اتنا طاقتور مانتے ہیں کہ ان کے ایماء پر امریکہ ایران پر حملہ کردیتا ھے۔بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ سعودی عرب کی لابنگ پر یہ کارروائی ھوی جس کے نتیجے میں رافضی خامنائی مارا گیا ۔ تو ایران کو اپنی جوابی کارروائی کا دایرہ سعودی عرب تک محدود رکھنا چاہیے لیکن اس نے اپنے اوپر حملے کے 24 گھنٹے کے اندر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ھر ملک پر حملہ کردیا۔ایران کی یہ جارحانہ کارروائی ان ملکوں کے اندر موجود امریکی ٹھکانوں تک محدود ھوتی تو سمجھا جاتا کہ یہ امریکی کارروائی کا جواب تھا ۔لیکن جس طرح ان ممالک کے شہری علاقوں اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ رافضیت کا سفاکانہ چھرہ اپنے تقیہ کے پردے کو ھٹا کر اپنے خونی پنجوں کے ساتھ باہر آچکا ہے ۔ اور یہ امریکی کارروائی کا جواب سے زیادہ سنی ممالک کو دھمکانے کی کوشش ھے۔خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے خلاف ایران کی یہ بزدلانہ حرکت ہر لحاظ سے قابل مذمت ھے ۔ اور اس کارروائی کے بعد سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ریاستوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خودمختاری ۔ اپنے شہریوں کی حفاظت اور اپنے ملکوں کی سلامتی کیلئے ہر وہ اقدام کریں جسے وہ ضروری سمجھتے ہیں ۔ ان کے ہر اقدام کی مکمل حمایت اور تائید کی جاے گی ۔












