واشنگٹن، (یو این آئی) خلیجی اتحادیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو سخت وارننگ دی ہے کہ حملے کی صورت میں ایران کے میزائل اب بھی شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔امریکہ کی نو منتخب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی پیش قدمی اور ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے دوران، خلیجی ریاستوں نے امریکی حکام کو انتباہ جاری کیا ہے کہ تہران کا میزائل پروگرام اب بھی اس قدر طاقتور ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی اتوار یکم فروری کی رپورٹ کے مطابق، دو مغربی حکام نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی میں پہنچنے والے نقصان کے باوجود ایران کے میزائل پروگرام کے کلیدی حصے مکمل طور پر فعال ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تہران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ مستحکم کر لیا ہے، خاص طور پر دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنانا مشکل ہے۔سابق ایرانی سفارت کار اور تجزیہ کار امیر موسوی نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد ایران نے میزائلوں کی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سطح سمندر سے ہزاروں میٹر بلند پہاڑی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک کے ذریعے امریکہ کو بالواسطہ پیغامات بھیجے ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی جوابی کارروائی کی صورت میں ایرانی ردعمل "علامتی یا محدود” نہیں ہوگا، بلکہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے براہ راست نشانے پر ہوں گے۔امریکی دفاعی ماہر ڈیوڈ روچ نے خبردار کیا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے فضائی دفاعی نظام کے مقابلے میں ایران کے پاس میزائلوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔












