• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 24, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی!

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جون 19, 2023
0 0
A A
Share on FacebookShare on Twitter
ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات،اقلیتوں پر ظلم وجبر،مذہبی معاملات میں دخل اندازی،معصوم اور کمزوروں کی تذلیل و تحقیر کی تاریخ بہت پرانی ہے،تمام حکومتوں میں ایسے واقعات و حادثات کسی نہ کسی خطے میں دانستہ طور پر دہرائے گئے،کتنوں نے اس پر اپنی سیاسی روٹیاں سیکی تو کتنوں نے فرقہ وارانہ فسادات کے مبادل حاصل شدہ لاشوں کی تجارت کی ،مگر کل تک اس کے خلاف بولنے والی زبانیں سرد مہری کا شکار نہیں ہوئی تھیں،میڈیا اس طرح عریاں ہوکر مکمل طور پر بکاو نہیں ہوا تھا ،سچائی کی تائید میں بولنے والے حالات و حوادث کا شکار نہیں ہوئے تھے،قومی وملی تنظیموں کو اپنا فریضہ یاد تھا،رہنماء حساس وبے مروت نہیں تھے،مسلکی و نظریاتی فرق و تفاوت اور اختلاف کے باوجود جب بات اسلامی روایتوں کی بے حرمتی یا ذاتیات پہ حملے کی آتی تھی تو تمام مسلم جماعتیں ایک ہی علم کے نیچے کھڑے ہوکر ایک دوسرے کی آواز اور دست وبازو بن جایا کرتے تھے، انسانی فلاح وبہبود کی باتیں کرنے والی غیر مسلم کمیٹیاں بے کسوں کا ساتھ دینے کا ہنر جانتی تھیں اور حکومت و عدالت سے حق وصداقت کی تائید کروانے پر مصر ہو جایا کرتی تھی،تسلیمہ نسرین کی نازیبا باتیں ،سلمان رشدی کی ذلت آمیز حرکتیں ،اڈوانی کی یاترا،کئی خطوں میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد،ان سب کے منظر کا پس منظر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لیکن موجوده وقت میں مسلم تنظیموں کی خاموشی ہماری بے بسی کا آئینہ دار ہے دین بیزاری نے ہماری شناخت و فطری خوبصورتی ہم سے چھین لی جس کی بنیاد پر ہم سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی بالجبر جینے کی غیر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔آئے دن اخباروں کی زبانی کچھ ایسا دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے جو ہماری بچی ہوئی امیدیں کو خاک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
میں جینے کا ہنر کھونے لگا ہوں
زمینوں میں ہوس بونے لگا ہوں
اب ان اخباروں سے ڈر لگنے لگا ہے
سو اب میں دیر تک سونے لگا ہوں
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے،جمہوریت ہماری پہچان ہے،اس پر ہمیں بھروسہ ہے،پارلیامینٹ پر ہمارا یقین ہے،ہمارا انصاف و عدالت پر یقین ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وقت پر ہماری آوازیں وہاں تک پہونچتی کیوں نہیں،ہم لوگ اتنے بے بس کیوں ہیں،آخر ہماری اتنی بڑی بڑی جماعتیں اور تنظیمیں کہاں روپوش ہیں؟ ہم جمیعت وجماعت کیوں بناتے ہیں۔ہم اپنا رہنماء اور لیڈر اس لیے نہیں بناتے ہیں کہ وہ ہمارے گھر کا خرچ چلائیں بلکہ ہم اس لیے بناتے ہیں کہ وہ ہمارے برے وقتوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہو کر حق و ناحق کے درمیان فرق کرنے میں ہمارا ساتھ دیں،ہماری آوازیں وہاں تک لے جائے جہاں ایک عام انسان اپنی باتوں کو نہیں پہونچا پاتا یا صحیح ڈھنگ سے نہیں رکھ پاتا مگر ہمارا رہنماء اپنی کرسی اور اقتدار کے نشے میں اگر اپنا فرض بھول جائے تو ایسے رہنماؤں سے وقت پر متنبہ ہو جانا بہت ضروری ہے۔
ہم تو اس نبی کی امت ہونے کا دعوی کرتے ہیں جس نے ہمیشہ مظلوموں،بے کسوں کی مدد کی ہے اور ہمیں اس معاملے میں ایک اصول دیا کہ”:” ’’تم میں سے جو شخص ناقابل قبول کام دیکھے، اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو تو زبان سے بول کر اسکی تردید کرے،اور اسکی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔‘‘
لیکن ان سب کے باوجود لگتا ہے ہم لوگوں نے ذلت ورسوائی کو اپنا مقدر مان کر اپنا سر جھکا لیا ہے یا ہمیں ظلم سہنے کی عادت سی ہوگئی ہے،ہمارے ضبط کی حد بڑھ گئی ہے۔
حالانکہ ہم اپنی پرانی تاریخ جانتے ہیں کہ اسلام کا باضابطہ اعلان 612ء میں ہوا اور دس سالوں کے اندر پورا عرب اسلامی اخلاق و کردار و ایمانی جذبے کی بنیاد پر اس کی آغوش میں سمٹ آیا اور صرف 90 سالوں کی مسافت میں ملتان سے بحیرہ اسود،سمرقند کے ساحل سے اطلس اور درمیانِ فرانس تک اپنا علم لہرا دیا،اس وقت طاقت وقوت کے اعتبار سے عیسائیوں کی دو حکومتوں کا چرچہ پوری دنیا میں تھا قسطنطنیہ میں قیصر روم اور فارس میں کسری لیکن جب انکی طاقت وقوت،حرب و ضرب کا سامنا مسلمانوں کے ایمانی ولولوں سے ہوا تو ساری بہادری بکھر کر رہ گئی،انکے حوصلوں کے مینار پست ہو کر زمین سے آ لگے۔عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے فارس شکشت خورہ ہوا،قیصر نے جزیہ دینا منظور کیا۔۔یہاں تک کہ آٹھویں صدی کی ابتدا میں ایک شور برپا ہوا کہ کیا دنیا میں کسی کے بازؤں میں اتنی قوت ہے جو مسلمانوں سے لوہا لے سکے۔یہ اس وقت کی ہماری تاریخ تھی کہ کسی کو ہمارے سامنے نظر اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔
مغربی مورخوں نے حالات و شواہد کی بنیاد پر خود اعتراف کیا کہ چودھویں صدی تک مسلمان دنیا کے بیشتر حصے پر حکمران تھے،بر اعظم افریکا اس وقت جتنا بھی دریافت ہوا تھا پورا کا پورا مسلمانوں کے رحم وکرم اور اقتدار میں تھا،مشرق قریب،مشرق وسطی،وسط ایشیا کا اکثر حصہ اسی طرح ہندوستان کا آدھے سے زیادہ اور بہترین علاقہ سبھی مسلمانوں کے قبضے میں تھا۔
مسلمانوں نے ہندوستان میں ایک ہزار سال،اندلس میں تقریبا ساڑھے آٹھ سو سال،سسلی میں 264 سال اسی طرح جنوبی فرانس میں دو سو سال حکومت کی اس کے علاؤہ مسلمانوں نے البانیہ،بلغاریہ،یونان،یوگوسلاویہ،سروبیا،اور پولینڈ پر بھی حکومت کی گویا آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارویں عیسوی کے وسط تک ہم ہی دنیا کے سپر پاور تھے۔دنیا کی کسی بھی قوم کو آج تک اتنے لمبے عرصہ تک عروج کا فخر و اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ہم نے اپنے آباء واجداد کی تاریخ پر صرف فخر سے گردن لمبی کی ہے،ہم نے اسے دل سے جانا ہی نہیں بلکہ صرف باعث عظمت و افتخار  کا ایک سامان سمجھا انکے اصول،اخلاق وکردار اور ایمان کو اپنانے کی ہم نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری ساری خوبیاں ذلت میں بدل کر رہ گئیں،ہم اِس وقت دنیا میں سب سے مظلوم ومقہور قوم تصور کیے جانے لگے ان سب باتوں کے پس پشت دو چیزوں کا اثر صاف دکھائی دیتا ہے پہلا دین بیزاری دوسرا معاشی تنگ دستی۔
دین بیزاری نے ہمارے وجود سے رونق اور ہماری پہچان ختم کردی،معاشی بے حالی نے ہم سے غور وفکر کی صلاحیت کو نابود و معدوم کردیا، اب ہم نے تصور کر لیا ہے کہ جو کچھ بھی ہمارے ساتھ اپنے ہی ملک و وطن میں ہو رہا ہے یا ہمارے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے اس پر کیڑے مکوڑوں کی طرح برداشت کیا جائے،یا جس کسی کے ساتھ ظلم وبربریت کا کھیل کھیلا جائے،شہر بدر کیا جائے،دکان ومکان پر ناجائز قبضہ کیا جائے،غلط معمالات میں مورد الزام ٹھہرا کر سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اسے اپنا مقدر اور نصیب سمجھ کر خود ہی بغیر آواز نکالے جھیلتے رہنا چاہیے۔لیکن کیا یہ مصیبتوں سے نجات اور مسائل سے چھٹکارے کی تدبیر اور راستہ ہے؟اگر ایسا نہیں تو سمجھ لیجیے کہ یہی بزدلی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے تباہی وبربادی کا پیغام ہے ہماری خاموشی،ہمارا سکوت بتاتا ہے کہ ہم نے طے کرلیا ہے۔!
جو ہو رہا ہے اسے دیکھتے رہو چپ چاپ
یہی سکون سے جینے کی ایک صورت ہے
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ برسوں تک بڑے طبقوں کے رحم وکرم اور انکی جوتیوں میں جینے والی معمولی نسلیں،ظلم وبربریت کی داستان بنی ہوئی پچھڑی اور پستہ قومیں بھی ہمیں ادنی درجے کا شہری اور نیچ طبقہ ماننے پر مصر ہیں۔برسوں سے ہم نے اپنے مستقبل کو سنوارنے ،سماجی ومعاشرتی،مذہبی واقتصادی حقوق کی حفاظت کے لیے بہت سی جماعتیں بنائی ہیں مگر ان جمیعت وجماعت کا فائدہ کیا ہوا،جن پر ملت نے اعتماد کرکے اپنا رہنماء ورہبر بٹھایا تاکہ وہ ہماری آواز بن کر ہمیں بلندیوں تک لے جائے،اس پر اپنا پیسہ خرچ کیا تاکہ برے وقتوں میں ان کا سہارا رہے لیکن اس کا ماحصل کیا نکل کر آیا،یاد رکھیے غیر ذمہ دار رہنماء و لیڈروں کو انکے کرتوت پر وقت رہتے تنبیہ نہیں کی جاتی تو وہ سزا پورے سماج پر برابر تقسیم ہو جاتی ہے اب اگر آپ ایسے جرم کی سزا کے لیے تیار ہیں جو آپ نے نہ تو کبھی کیا نہ اس میں شریک رہے پھر بھی آپ اسے جھیلنے کی ہمت رکھتے ہیں تو پھر آپ کے حوصلوں کی داد دینی ہوگی۔
اگر ہم اس انتہا میں بھی خاموش بیٹھے رہ گئے ہماری خاموشی ہماری نسلوں کو گونگا بہرا بنا دیگی،جو آزادی کا خواب لیے ہتھیلیوں پر رینگتے پھریں گے مگر ان میں نہ تو کسی چیز کا احساس باقی ہوگا نہ ہی ان میں لب کھولنے کی سکت ہوگی بلکہ انکی سانسیں بھی کسی کی دی ہوئی خیرات اور بھیک ہوگی۔
ہماری مردہ دلی،ہمارا سکوت دراصل اپنے مذہب سے لاعلمی اور قطع تعلقی کا ثبوت ہے جس مذہب نے ہمیں بتایا تھا کہ اگر سربلندی چاہتے ہو تو اسکے لیے ایک ہی صورت ہے کہ ایمان  والے بن جاو، پوری دنیا تمہاری قدر کرے گی،تمہاری جان ومال کی حفاظت کے ساتھ تمہارا مرتبہ بلند تر ہو جائے گا۔لیکن اپنے دامن میں ہم سب جھانک کر دیکھیں کہ ہمارا ایمان کہاں تک سلامت ہے،اسلامی اصول وضوابط کے ساتھ ہمارا رویہ کتنا معتدل ہے اگر واقعی میں ہم سب اللہ اور اسکے رسول کی پیروی کرنے والے ہوتے تو یہ ذلت ورسوائی ہمارے وجود سے لپٹی ہوئی نہ ہوتی بلکہ جو لوگ آج ہمیں ہر اعتبار سے نشانہ بنا رہے ہیں یہی لوگ ہماری عزت وقار کے محافظ ہوتے،ملک کی تقدیر کے فیصلے ہماری آوازوں کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے۔نظامِ حکومت کی ابتری، فساد ، انتشار ، عدل وانصاف کا بحران ،ظلم وعُدوان کا دور دورہ ہونا بھی ہمارے لیے ایک صورتِ عذاب ہے کیونکہ عرش والے نے ہمیں بہت پہلے تاکید کی تھی کہ انسانوں کو دی جانے والی سزائیں،ان پر مختلف قسم کی مصیبتیں خود ان کے کرتوت اور اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں،اسی طرح زمین میں فسادات کا ظہور انسانوں کی بداعمالیوں کا ثمرہ ہے۔
مسلمانوں کو اپنی بربادی ،مصائب ومسائل کے لیے کسی کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے اپنے دامن میں دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اپنے کردار وعمل میں کتنا جھول کیا ہے،کل تک ہم لوگ کن بنیادوں پر درخشاں ستاروں کے مانند تمام خطہ زمیں پر چمک رہے تھے،آخر کمی کہاں پیدا ہوئی اس تعلق سے انسانوں کے سب سے بڑے امام ورہبر اللہ کے حبیب نے کہا تھا کہ جب کسی قوم میں بے حیائی اعلانیہ طور پر ہونے لگے تو اس میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو پہلے کے لوگوں میں نہیں تھی کرونا اسی کی ایک شکل تھا،اسی طرح جب لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں مطلب کسی کی حق تلفی کرتے ہیں تو قحط سالی،روزگار کی تنگی اور بادشاہ کے ظلم کے ذریعہ سزا دی جاتی ہے ،جب لوگ زکوۃ دینا بند کرتے ہیں تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے،اگر انکے درمیان جانور موجود نہ ہوں تو ایسے لوگوں کو بارش کبھی نصیب نہ ہو اسی طرح سے جب لوگ اللہ کا عہد توڑتے ہیں،جو انکی زندگی کا مقصد ہے اس سے ہٹ کر غیروں کی تقلید اور نفس کی پیروی میں من مانی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں پر دوسری قوموں سے دشمن مسلط کر دیے جاتے ہیں جو  انکے ہاتھ میں موجود سب کچھ چھین لیتے ہیں،اسی طرح جب انکے امام و رہنماء قانون الہی کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے،یا کتاب وسنت کی پیروی نہیں کرتے تو عرش والا انکے درمیان لڑائی ڈال دیتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں عزت وقار نصیب ہو تو سب سے پہلے اپنی خامیوں کو دور کرنا ہوگا،ہمیں اپنے دین کی طرف لوٹنا ہوگا،فرائض و واجبات جن کو ترک کرنے کی صورت میں ہمیں ذلت ورسوائی کا سامنا ہوا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا پڑے گا، مسلکی و نظریاتی اختلاف جس کی بنیاد پر لوگ ہمیں ایک دوسرے کا حریف اور دشمن تصور کرتے ہیں انہیں سمجھانا ہوگا کہ وقتی طور پر ہم مختلف سہی مگر ضرورت پڑنے پر ہم ایک دوسرے کے لیے شیشہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند ہیں،ہمیں مصائب میں ایک دوسرے کا دست وبازو بن کر وقت کے فرعونوں سے لوہا لینا پڑے گا،ایک دوسرے کی آواز سے آواز ملا کر اپنی موجودگی اور زندہ و تابندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا کیونکہ۔۔!
میں اس لیے زندہ ہوں کہ بول رہا ہوں
دنیا کسی گونگے کی کہانی نہیں لکھتی ۔
محمد خان مصباح الدین
مدینہ منورہ،سعودی عرب
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    عید الفطر: بندگی کی تکمیل، شعور کی آزمائش اور موجودہ حالات میں حکمتِ عمل

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی  حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    فائر بریگیڈ کی ہائیڈرولک لفٹ تک نہیں کھلی، بی جے پی حکومت کی ناکامی اور لاپروائی نے9لوگوں کی جان لے لی:کیجریوال

    مارچ 20, 2026
    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    پالم آتشزدگی معاملہ، بی جے پی اور ’آپ‘ میں ہاتھا پائی

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist