محمد عباس دھالیوال
09855259650
دنیا میں آبادی کے موضوع پر گزشتہ کئی دہائیوں سے بحث و مباحثے چلتے آ رہے ہیں۔اسی ضمن میں اس ہفتے منگل کو جب دنیا کے کسی گوشے میں ایک ایسے بچے کی آمد ہوئی جس کی پیدا ہوتے ہی زمین کی آبادی آٹھ ارب ہوگئی۔ دراصل آبادی کا یہ ہندسہ جہاں انسانوں کی اس سیارے پر بقا کے طویل سفر کا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے وہیں نسلِ انسانی اور زمین کے مستقبل سے متعلق کئی سوال بھی اٹھاتا ہے۔اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی اب آٹھ ارب کے ہندسے کو عبور کرچکی ہے۔ اس موقعے کی مناسبت سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنے ایک پیغام میں اسے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترقی اور تنوع کے ساتھ ہمیں اپنے سیارے سے متعلق بڑھتے ہوئے احساسِ ذمے داری کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق طب، صحت عامہ اور انسانی بہبود کے شعبوں میں ترقی کی وجہ سے انسانوں کی اوسط عمر اور طرزِ حیات میں بہتری آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو صدیوں میں انسانوں کی آبادی اس رفتار سے بڑھی ہے جس کی مثال اس کی ہزاروں سال پر محیط تاریخ میں نہیں ملتی۔ تاہم اس اضافے کی اس تیز رفتار شرح نے کئی خطوں کے لیے مسائل بھی بڑھائے ہیں۔
اس سلسلے میں عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ افریقہ سمیت دنیا کے غریب ترین خطوں میں آبادی میں اضافے کی شرح بڑھنے سے ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں۔ البتہ آبادی میں اضافے کا سوال صرف کسی خاص خطے کے لیے اہم نہیں، اسے اب کرہ¿ ارض پر پائے جانے والے مجموعی وسائل کے کافی و ناکافی ہونے جیسے خدشات کی وجہ سے بھی اہمیت حاصل ہے۔ایک نیوز رپورٹ میں آبادی میں اضافے کے ساتھ درپیش کئی طرح سوالات اٹھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں وہ یہ کہ آیا زمین کتنے انسانوں کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے؟ لیکن ادھر ماہرین نے جو انکشاف کیا ہے اس کے مطابق آبادی میں اضافے سے زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امیر ترین طبقات اس سیارے پر پائے جانے والے وسائل کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔جبکہ ادھر اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی سربراہ نتالیہ کینم کا کہنا ہے کہ بعض لوگ اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ دنیا کی آبادی بے قابو ہوچکی ہے۔ ان کے بقول، صرف انسانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بنیاد بنا کر خدشات پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔ادھر ایک اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے توسط سے راک فیلر یونیورسٹی کی لیبارٹری آف پاپولیش سے تعلق رکھنے والے جوئیل کوہن کا کہنا ہے یہ سوال کہ زمین کتنے انسانوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے، اس کے دو جواب ہوسکتے ہیں۔ اس کی ایک فطری حد ہے اور دوسرے کا انحصار انسانوں پر ہے۔ اس سلسلے میں ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم نے وہ راستہ منتخب کیا ہے جس میں ہم اس سیارے کے فطری وسائل مثلاً جنگلات، زمین وغیرہ کا بے دریغ استعمال کررہے ہیں۔ یہ وہ وسائل ہیں جنہیں ہمارا سیارہ دوبارہ پیدا کرلیتا ہے۔
جبکہ دوسری طرف اگر بات معدنیات کے بے جا استعمال کی کریں تو معدنی ایندھن یعنی تیل اور کوئلہ وغیرہ کے بے حد استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بڑھ رہا ہے جو دنیا میں بڑھتے ہوئے درجہ¿ حرارت کا سبب ہے۔ جس کے چلتے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کے باعث زمین کی اپنے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ اس لیے یہ زمین کتنی آبادی کے لیے جینے کا سامان فراہم کرسکتی ہے؟ اس کی کنجی بھی انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس سیارے کے ماحول کو کتنا محفوظ بناتا ہے جو اب تک اس لامتناہی کائنات میں اس کی واحد پناہ گاہ ہے۔
کوہن کے یہ باتیں بھی قابل غور و تشویش ناک ہیں کہ ، انسان نا سمجھ ہیں۔ ہم بصیرت سے عاری ہیں۔ ہم اپنے پاس موجود معلومات کو بروئے کار نہیں لارہے ہیں۔ ہم یہ جاننے کی کوشش نہیں کررہے ہیں کہ ہمارا انتخاب کیا ہے اور مسائل کہاں سے جنم لے رہے ہیں۔
لیکن وہ اس سب کے باوجود اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ انسانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد زمین کے لیے تباہ کن ثابت ہورہی ہے۔ ان کے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو روز مرہ زندگی کے لیے بہتر ذرائع فراہم کیے جائیں۔دریں اثناءیہاں بتاتے چلیں کہ دنیا کی آبادی 1950 میں ڈھائی ارب تھی جس میں تین گنا تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ادھر اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق دنیا کی آبادی میں اضافہ کی شرح میں ڈرامائی اضافہ 1960 کی دہائی میں دیکھا گیا تھا لیکن اس میں رفتہ رفتہ کمی آرہی ہے۔ 1962 سے 1965 کے درمیان آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.1 فی صد تھی جو 2020 میں ایک فی صد تک آگئی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو چین، جاپان کینیڈا، امریکہ اور یورپین ممالک نے آبادی پہ کنٹرول پانے کے لیے بہت سے حربے اپنائےاور بہت حد تک پہ آبادی پہ قابو پانے میں کامیاب بھی رہے لیکن اب ان کے حالات یہ ہیں کہ ان ملکوں میں رہنے والے اکثر باشندے اب بچے پیدا نہیں کرنا چاہتے یا یوں کہہ لیں کہ وہ بچوں کی ذمے داریوں کے جھمیلوں میں پڑنا نہیں چاہتے اس کے اثرات اب یہ سامنے آ رہے ہیں کہ ان ملکوں میں بوڑھے ضعیف لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جبکہ نوجوان نسل کی گنتی میں لگاتار کمی آتی جا رہی ہے۔ قدرت کے اپنے ضابطے و اصول ہیں یہی وجہ ہے کہ فطرت کے خلاف جب بھی ہم چلنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ایک اندازے کے مطابق آبادی میں اضافے کی شرح 2050 تک اعشاریہ پانچ فی صد تک کم ہونے کی توقع ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق دنیا کی آبادی 2030 تک ساڑھے آٹھ ارب، 2050 تک 9.7 ارب اور 2080 کی دہائی تک 10.4 ارب تک جاسکتی ہے۔ جبکہ آبادی کے اعداد و شمار پر کام کرنے والے دیگر اداروں اور تنظیموں کے اندازے اقوامِ متحدہ سے مختلف ہیں۔اس ضمن میں امریکہ میں قائم ادارے انسٹی ٹیوٹ آف ہیلٹھ میٹرکس اینڈ ایولوشن (آئی ایچ ایم ای) کی 2020 میں مرتبہ کی گئی رپورٹ کے مطابق 2064 تک عالمی آبادی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گی لیکن کبھی 10 ارب کا ہندسہ عبور نہیں کرے گی۔ بلکہ سال 2100 تک یہ کم ہوکر 8.8 ارب نفوس پر آجائے گی۔
جب ہم آبادی کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ایک اندازے کے مطابق کم و بیش 10 ہزار قبلِ مسیح میں زراعت کے آغاز کے بعد انسانی آبادی میں بڑا اضافہ ہونا شروع ہوا تھا۔اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ زراعت کے ساتھ ساتھ انسانوں نے خوراک جمع کرنے کے طریقے بھی سیکھ لیے۔ خوراک کی بآسانی دستیابی سے شرحِ پیدائش پر بھی مثبت اثر پڑا۔اس ضمن میں فرینچ انسٹی ٹیوٹ فور ڈیموگرافک اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق 10 ہزار قبلِ مسیح میں انسانوں کی آبادی لگ بھگ 60 لاکھ رہی ہوگی۔ لیکن بعد کے آٹھ ہزار برسوں میں یہ 10 کروڑ تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد پہلی صدی عیسوی تک آتے آتے دنیا کی آبادی اندازاً 25 کروڑ ہوچکی تھی۔اس دوران وباو¿ں اور جنگوں کے باعث دنیا کی آبادی میں اضافے کی شرح اثراندازمتاثر ہوتی رہی۔ 1300 اور 1400 کی صدیوں میں مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں پھیلنے والی طاعون کی وبا، کے دوران جسے ’بلیک ڈیتھ‘ کہا جاتا ہے، دنیا کی آبادی تقریبا 43 کروڑ سے کم ہوکر 37 کروڑ تک آگئی تھی۔اسی طرح دنیا کی پہلی طاعون کی وبا تصور ہونے والے ’جسٹینئن پلیگ‘ میں بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی آئی۔دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والی وبائیں، قحط سالی اور قدرتی آفات سے بڑے پیمانے پر اموات بھی آبادی کی شرحِ اضافہ میں کمی کا باعث بنتی رہیں۔تاہم انیسویں صدی میں طب کے میدان میں آنے والی جدت، زراعت کے ساتھ بڑے پیمانے پر صنعتوں کے منسلک ہونے اور بین الاقوامی تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم سے پیدا ہونے والے معاشی حالات سے آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ دراصل انہی محرکات کے نتیجے میں 1800 کے بعد سے آبادی میں آٹھ گنا اضافہ شروع ہوا اور آج محض 200 برسوں کی مدت میں دنیا کی آبادی ایک ارب سے آٹھ ارب ہوگئی ہے۔












